Publish Date : 2017-07-23

شموئل جنس اور جمالیات

دیدبان شمارہ پنجم 

شموئل،جنس اور جمالیات

   سرور حسین (پٹنہ)

 

 اردو افسانہ نگاری میں شموئل احمد کانام جانا پہچانا ہے۔انھوں نے اگر چہ فکشن کی مختلف اصناف پر طبع آزمائی کی ہے جن میں افسانوں کے علاوہ ناول ،ٹیلی ڈرامہ اور ٹیلی فلم کے لیے اسکرپٹ کی تحریریں شامل ہیںتاہم عصری اردو افسانے میں وہ اپنے منفرداندازِ بیان اور بے باک لہجے کے لیے معروف رہے ہیں۔ان کا تعلق افسانہ نگاروں کی اس نسل سے رہاہے جس نے انسانی نفسیات اور سماجی تضادات کے درمیان رشتوں پرنہ صرف یقین ظاہر کیا ہے بلک تخلیقی عمل میں اس کے اثرات کو تسلیم کیاہے ۔افسانہ نگاروں کی اس صف میںسعادت حسن منٹو،ممتاز مفتی،محمد محسن،راجندر سنگھ بیدی،عصمت چغتائی کے علاوہ جن دوسرے ممتازافسانہ نگارو ںکے نام آتے ہیںشموئل احمد انھیں احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ انسانی رشتوں پر مبنی ہر کہانی نفسیاتی ہوتی ہے۔تاہم بعض رشتے اور روّیے اس قدرپیچیدہ ا و رپر اسرارہوتے ہیں کہ ان کی تہوں تک پہنچنے کے لیے ماہرین نفسیات کے ذریعہ وضع کیے گئے اصولوں سے کام لینا پڑتا ہے ۔شموئل اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ انسانی رشتوں اور رویوں کے یہ عمل سماجی حالات کے زیرِ اثر جبلی رویوں کے ہی اظہار ہیں جو طبقاتی ردِ عمل کے علاوہ جنسی ردِ عمل کی صورتوں میں بھی ظاہر ہوا کرتے ہیں۔یہاں وہ فرائڈ اور یونگ سے اس حد تک قریب نظر آتے ہیں کہ یہ لوگ ذہن انسانی میں لا شعور کوانسانی نفسیات کا اہم محرک قراردیتے ہیں ۔فرائڈ کا خیال ہے کہ شعوراور لا شعور کے عمل نے ہی انسان کو دوہری زندگی جینے پر مجبور کیا ہے۔مثلاً ایک زندگی وہ جولا شعوری طور پر انسان اپنے لیے جینا چاہتا ہے اور ایک وہ جوشعوری طور پر دوسروںیاسماج کے لیے جینے پر مجبور ہے ۔یعنی ایک زندگی وہ جو خارجی یا سماجی عوامل کی زد پر ہوتی ہے،جس کی ایک حد مقرر ہو تی ہے اور دوسری وہ جو اس کے داخلی احساسات کا پرتو بن کر ابھرتی ہے اور ہر قید و بند سے آزاد ہو کر لا محدود فضاو¿ں میں پر واز کرنا چاہتی ہے۔یونگ بھی انسانی نفسیات کے ہر عمل کو اجتماعی لاشعور کے آئینے میں دیکھتا ہے ۔ منٹو کے علاوہ اردو کے افسانہ نگاروں کا ایک حلقہ فرائڈاور یونگ کے ان نقطہ ہائے نظر سے متفق نظر آتا ہے اور جنسی عمل اور ردِ عمل کے پسِ پردہ انسانی نفسیات کی اس پیچیدگی کو تسلیم کرتا ہے ۔شموئل بھی فرائڈ اور یونگ کے ان خیالات کو رد نہیں کرتے بلکہ منٹو کے کرداروں کی طرح ان کے افسانوں کے کرداربھی لا شعوری عمل کی ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں۔ تاہم ہم انھیں منٹو کی تکرار بھی نہیں کہہ سکتے ۔شموئل منٹو سے ان معنوں میں مختلف ہیں کہ وہ جنسی جبلت کومحض لا شعوری عمل کے روپ میں نہیں دیکھتے بلکہ اسے انسانی زندگی کے انتہائی حسین پہلو کے روپ میں بھی دیکھتے ہیںجسے نام نہاد اخلاقی اور سماجی قدروںکے جبر کی مختلف صورتوںنے مسخ کر رکھاہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انسانی زندگی کا یہ حسین ترین پہلو جس جنسی جمالیات کا اظہار ہے تخلیقیت اس کی بازیافت کا دوسرا نام ہے ۔تخلیقیت کی بازیافت کا یہی احساس انھیں کہانی کہنے کی تحریک دیتا ہے ۔ 

   تخلیقیت شموئل احمدکے یہاں جنسی جمالیات کا محض فنکارارانہ اظہار نہیں بلکہ سماجی جبر کے نتیجے میں گھٹتے ہوئے انسانوں کے اس کرب اور دکھ میں ان کی شراکت داری کا اعلان بھی ہے جسے انسان ایک زمانے سے جھیلتا آیا ہے ۔ انھیں احساس ہے کہ تاریخ کے ہر دور اور دنیا کی ہر تہذیب میں روٹی کے بعدجنس کی اہمیت مسلم رہی ہے ۔قدیم زمانے میں ویدک عہد سے لے کر تاریخ کے ابتدائی دنوںمیں اور دورِ وسطیٰ میں مندروں اور پہاڑوں کی غاروںمیں تراشے گئے جنسی عمل کے مختلف نقش و نگار سے لے کر عہدِ حاضر میں ٹی وی، فلموں،انٹرنیٹ اور الیکٹرونک میڈیا کے ذریعہ پیش کیے جانے والے اشتہارات مختلف صورتوں میںانسانی زندگی میں جنسی عمل کے اثرات کی نا گزیریت پرہی اصرار کرتے رہے ہیں ۔ہماری قدیم گرنتھوں میںرادھا اور کرشن کی رس لیلا کے تذکروں کے علاوہ ہمارے کلاسیکی رقص و موسیقی کے کتنے ہی ابواب اس رس میں ڈوبے ہوئے ہیں جن سے جنسی کیف و کم کے ہزاروں پہلو روشن ہوتے ہیں۔ تاہم ان کا خیال ہے کہ سیاسی مکر و فریب ،پس ماندہ فکر کی حامل سماجی قوتوں کے ذریعہ انسانی احساسات و جذبات کی پامالی اور سرمایہ دارانہ مسابقت کے سبب انسانی وجود کے اشیاءمیں تبدیل کر دیئے جانے کے علاوہ مذہب کے نام پر نام نہاد اخلاقی قدروں کے جبریہ اطلاق نے بھی جنسی نا آسودگی کی جس کیفیت کو فروغ دیا ہے اس کے سبب انسان کی شخصیت گھٹ کر رہ گئی ہے۔فرد کی شخصیت کی یہ داخلی گھٹن در اصل سماجی گھٹن کا پتہ دیتی ہے ۔ لیکن شموئل کی حساس طبیعت اس گھٹن کو قبول نہیں کرتی ۔ان کا انقلابی مزاج ان زنجیروں کو توڑ دینا چاہتا ہے جو جنسی آزادی کی راہ میں حائل ہیں ۔اپنی کہانیوں میں وہ ان ہی امکانات کی تلاش کرتے ہیں ۔ یہی سبب ہے کہ کبھی منٹوپر فحاشی کا الزام لگانے والوں کی طرح نام نہاد اخلاقیات کے عصری خود ساختہ ٹھیکیدار بھی آج شموئل کی کہانیوں کے پسِ منظر سے جھانکتے ہوئے انسان کے درد کو سمجھنے کے بجائے انھیں vulgar یا فحش قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں ۔ 

 شموئل احمد کی نگاہ میں جنسی عمل ایک فطری عمل ہے۔ان کی نظر میںسماجی عمل کے نتیجے میں انسانی احساسات اگرچہ مختلف کیفیتوں سے دو چار ہو تے ہیں تا ہم مسرت اور حظ کی تلاش ہی انسانی فطرت کی بنیادی خصوصیت ہے اورمسرت اور حظ کے یہی احساسات انسان کی روح کو شادابی عطا کرتے ہیں ۔شموئل کی دور بیں نگاہوں سے ان کے اطراف کی دنیا اور اس دنیا میں سانس لینے والے بے شمار انسانوںکی آنکھوں میں پھیلی ہوئی جنسی بھوک کی چمک اور جنسی نا آسودگی کے سبب دلوں میں جاں گزیں محرومی کا احساس پوشیدہ نہیں رہ پاتا ۔ان آنکھوں کی چمک اور ان چہرو ں کی محرومیوں کے پیچھے انھیں بے شمار کہانیاں مچلتی ہوئی نظر آتی ہیں ۔ان کہانیوں میں انسان کی جبلی آزادی کی تڑپ کا احساس بھی ہے اور نام نہاد اخلاقی قدروں کے جبرکے خلاف ردِعمل کا اظہار بھی جو کہیں جنس کی کریہہ صورت میںسامنے آکرانسان کی داخلی نا ہمواریوں کی تصویر پیش کرتا ہے اور کہیں روحانی انبساط کا احساس بن کر جمالیات کا نگار خانہ بن جاتا ہے۔ تا ہم وہ جانتے ہیں کہ ان کہا نیوں کی تلاش کے لیے انھیں ان نا آسودہ اور محروم انسانوں کے دلوں میں اترنا پڑے گااور یہ کام ان کے خارجی ماحول اور داخل کے احساسات سے ہم آہنگ ہوئے بغیر ممکن نہیں ۔وہ اس بات سے بھی با خبر ہیںکہ داخل و خارج کے ان احساسات و عوامل کا علم کہانی کی تشکیل کے لیے کتنا ضروری ہے۔ کیونکہ خارجی واقعات و حوادث جہاں کہانی کے لیے مواد فراہم کر کے ماجرا سازی میں معاون ہوتے ہیں، داخلی احساسات و جذبات کردار وں کی تشکیل اور ان کے رویے کے اظہار میں مدد گار ہو کر کہانی کے جسم میں روح بن کر اترجاتے ہیں اور اسے زندگی عطا کر تے ہیں ۔ داخلی احساسات کی یہی کار فرمائی کہانی کو سپاٹ اور بے رنگ ہونے سے بچاتی ہے کیونکہ زندگی جو مختلف اور متضاد رنگوں کا مجموعہ ہوتی ہے، ہر کہانی اس کے نشیب و فراز ،اس کے مختلف رنگ ،اس کی کیفیات،اسے خوبصورت اور بہتر بنانے کے لیے انسان کے عمل اور جد و جہد سے تعلق رکھتی ہے ،اس کے درون میں جھانکتی ہے ،اس کی شکست و ریخت کا احاطہ کرتی ہے اور اس کی تشکیلِ نوکا تصور پیش کرتی ہے۔ 

 شموئل احمدکے افسانوں کے اب تک چار مجموعے منظرِ عام پر آچکے ہیں ۔یہ مجموعے ۸۸۹۱ءمیں ”بگولے “ سے لے کر ”سنگھاردان“،”القمبوس کی گردن“ اور۰۱۰۲ءمیں”عنکبوت“ کی اشاعت تک بائیس سال کے طویل عرصے کے درمیان منصہ شہودد پر آئے ہیں۔ ان مجموعوں میںشامل کہانیوں میں انسانی نفسیات کی مختلف گرہوں کی انھوں نے بازیافت کی ہے اور سیاسی، سماجی اور نفسیاتی مسائل سے متعلق موضوعات کو بھی انھوں نے موضوعِ سخن بنایا ہے ۔ تاہم میرے خیال میں شموئل کی انفرادیت ان کے جنسی عمل کی مختلف کیفیات و نفسیات کی بازیافت پر مبنی کہانیوں سے ہی ظاہر ہوتی ہے جن میں ان کا فن قاری کو حیرت زدہ بھی کر تاہے اور تجربات میں اضافے کا سبب بھی بنتا ہے ۔ ان کہانیوں میں’بگولے‘’برف میں آگ‘’سنگھاردان‘’ عنکبوت‘،’ظہار ’‘ اونٹ ‘ ، ’مصری کی ڈلی‘،’بدلتے رنگ‘’ کایا کلپ،’نملوس کا گناہ‘،’منرل واٹر ‘ اور’ایڈس‘ جیسی کہانیاں انسانی جبلت کے مختلف پہلوو¿ں اور جنسی مسائل کے جن نشیب و فرازکو منظر عام پر لاتی ہیں وہ محض اپنی انفرادیت پر اس لیے مصر نظرنہیں آتیںکہ یہ جنسی عمل کے حوالے سے انسانی شخصیت کی نا ہمواریوں کی تصویر کشی کرتی ہیں بلکہ ہندوستانی سماج اور سیاست کے مکروہ چہرے کو بھی تار تار کر دیتی ہیں ۔ ان چہروں میں عصری سماج کی نمائندگی کرنے والی بورژوا طبقے کی شہوت زدہ خواتین سے لے کر ہمارے سماج کے حاشیئے پر پڑی سکینہ جیسی زندگی کی سہولیات اور لذتوں سے محروم عورت کا چہرہ بھی شامل ہے توسیاست کے ایوانوں میں اپنی مضبوط دسترس رکھنے والے رہنما ہی نہیں مسندِ امامت پر دراز مولانا برکت اﷲوارثی جیسے عالمِ دین کی صورتیں بھی نظر آتی ہیں۔شموئل کی نوکِ قلم جب ان چہروں پر پڑی شرافت ،عزت اور رتبے کی نام نہاد نقاب کو دھیرے دھیرے سرکاتی ہے تو قاری حیرت و انکشافات کے نئے تجربے کی لذت کو محسوس کیے بغیر نہیں رہ پاتا۔ تجربات کی یہی لذت قاری کی مسرت و بصیرت میں اضافہ بھی کرتی ہے اور ان کی کہانیوں کاامتیاز بھی بن جاتی ہے۔    

 شموئل کی نگاہ میں جنسی عمل کوئی سیدھے سادے یاسپاٹ تجربے کا اظہار نہیں ۔بلکہ ان کا خیال ہے کہ یہ ایک ایسا پیچیدہ عمل ہے جو تحیرو اسرار سے معمور ہے ۔ جنسی عمل کے دوران لذتیت کا احساس یکسانیت کے بجائے نوع بہ نوع تجربات کا متقاضی ہوتا ہے ۔ شموئل احمد جنسی عمل کی ان باریکیوں پر گہری گرفت رکھتے ہیں ۔ان کے افسانے ’بگولے‘کی لتیکا رانی ایک کمسن لڑکے کو اپنے ساتھ اپنے گھر اس لیے لے کر نہیں آتی کہ وہ اس سے محض اپنے جنسی تقاضوں کی تکمیل چاہتی تھی بلکہ جنسی عمل میں وہ اس کے اناڑی پن سے محظوظ ہونا بھی چاہتی تھی اور اسے جنسی عمل کے گر سکھا کرلذت اور مسرت کا نیا احساس بھی حاصل کرنا چاہتی تھی ۔تاہم لڑکے کے ذریعہ اتاولے پن کا مظاہرہ اور پیش قدمی کا عمل ا س کی تمام آرزو و¿ںکو خاک میں ملا دیتاہے۔وہ لڑکے کوجنسی عمل کے رموز سے قطعی نا واقف سمجھ رہی تھی ۔لہٰذا لڑکے کے عمل سے اس کے ذہن کو زبردست جھٹکا لگتا ہے اور تب وہ اس لڑکے کو دھکے مار کر گھر سے فوراً باہرنکال دیتی ہے ۔ یہاں لتیکا رانی جس شکست سے دوچار ہوتی ہے وہ اسے ایک بار پھر اس جنسی نا آسودگی کے احساس سے دو چار کر دیتی ہے جس سے نجات کی خاطر ہی وہ اس کمسن لڑکے کو اپنے گھر لے کر آئی تھی۔ یہی کیفیت افسانہ ”مصری کی ڈلی“ میں بھی سامنے آتی ہے ۔ تاہم یہاں لتیکا رانی کے بر خلاف جو جنسی عمل میں خود عامل بن کر اپنے معمول کو نئے تجربوں سے رو شناس کر کے حظ حاصل کرنا چاہتی ہے راشدہ اپنے شوہرعثمان سے وہ سب کچھ چاہتی ہے جو ایک شیر یا بھیڑیا اپنے شکار کو تصرف میں لینے کے بعد کر سکتا ہے ۔لیکن جنسی عمل میں عثمان کا محتاط اور شریفا نہ عمل راشدہ کے لیے نا آسودگی کا سبب بن جاتا ہے ۔لہٰذا اپنے مقصد کی تکمیل کی خاطر و ہ اپنے پڑوس میں نئےچمک اور ان چہرو ں کی محرومیوں کے پیچھے انھیں بے شمار کہانیاں مچلتی ہوئی نظر آتی ہیں ۔ان کہانیوں میں انسان کی جبلی آزادی کی تڑپ کا احساس بھی ہے اور نام نہاد اخلاقی قدروں کے جبرکے خلاف ردِعمل کا اظہار بھی جو کہیں جنس کی کریہہ صورت میںسامنے آکرانسان کی داخلی نا ہمواریوں کی تصویر پیش کرتا ہے اور کہیں روحانی انبساط کا احساس بن کر جمالیات کا نگار خانہ بن جاتا ہے۔ تا ہم وہ جانتے ہیں کہ ان کہا نیوں کی تلاش کے لیے انھیں ان نا آسودہ اور محروم انسانوں کے دلوں میں اترنا پڑے گااور یہ کام ان کے خارجی ماحول اور داخل کے احساسات سے ہم آہنگ ہوئے بغیر ممکن نہیں ۔وہ اس بات سے بھی با خبر ہیںکہ داخل و خارج کے ان احساسات و عوامل کا علم کہانی کی تشکیل کے لیے کتنا ضروری ہے۔ کیونکہ خارجی واقعات و حوادث جہاں کہانی کے لیے مواد فراہم کر کے ماجرا سازی میں معاون ہوتے ہیں، داخلی احساسات و جذبات کردار وں کی تشکیل اور ان کے رویے کے اظہار میں مدد گار ہو کر کہانی کے جسم میں روح بن کر اترجاتے ہیں اور اسے زندگی عطا کر تے ہیں ۔ داخلی احساسات کی یہی کار فرمائی کہانی کو سپاٹ اور بے رنگ ہونے سے بچاتی ہے کیونکہ زندگی جو مختلف اور متضاد رنگوں کا مجموعہ ہوتی ہے، ہر کہانی اس کے نشیب و فراز ،اس کے مختلف رنگ ،اس کی کیفیات،اسے خوبصورت اور بہتر بنانے کے لیے انسان کے عمل اور جد و جہد سے تعلق رکھتی ہے ،اس کے درون میں جھانکتی ہے ،اس کی شکست و ریخت کا احاطہ کرتی ہے اور اس کی تشکیلِ نوکا تصور پیش کرتی ہے۔ 

 شموئل احمدکے افسانوں کے اب تک چار مجموعے منظرِ عام پر آچکے ہیں ۔یہ مجموعے ١٩٨٨ء ءمیں ”بگولے “ سے لے کر ”سنگھاردان“،”القمبوس کی گردن“ اور٢٠١٠ءمیں”عنکبوت“ کی اشاعت تک بائیس سال کے طویل عرصے کے درمیان منصہ شہودد پر آئے ہیں۔ ان مجموعوں میںشامل کہانیوں میں انسانی نفسیات کی مختلف گرہوں کی انھوں نے بازیافت کی ہے اور سیاسی، سماجی اور نفسیاتی مسائل سے متعلق موضوعات کو بھی انھوں نے موضوعِ سخن بنایا ہے ۔ تاہم میرے خیال میں شموئل کی انفرادیت ان کے جنسی عمل کی مختلف کیفیات و نفسیات کی بازیافت پر مبنی کہانیوں سے ہی ظاہر ہوتی ہے جن میں ان کا فن قاری کو حیرت زدہ بھی کر تاہے اور تجربات میں اضافے کا سبب بھی بنتا ہے ۔ ان کہانیوں میں’بگولے‘’برف میں آگ‘’سنگھاردان‘’ عنکبوت‘،’ظہار ’‘ اونٹ ‘ ، ’مصری کی ڈلی‘،’بدلتے رنگ‘’ کایا کلپ،’نملوس کا گناہ‘،’منرل واٹر ‘ اور’ایڈس‘ جیسی کہانیاں انسانی جبلت کے مختلف پہلوؤں اور جنسی مسائل کے جن نشیب و فرازکو منظر عام پر لاتی ہیں وہ محض اپنی انفرادیت پر اس لیے مصر نظرنہیں آتیںکہ یہ جنسی عمل کے حوالے سے انسانی شخصیت کی نا ہمواریوں کی تصویر کشی کرتی ہیں بلکہ ہندوستانی سماج اور سیاست کے مکروہ چہرے کو بھی تار تار کر دیتی ہیں ۔ ان چہروں میں عصری سماج کی نمائندگی کرنے والی بورژوا طبقے کی شہوت زدہ خواتین سے لے کر ہمارے سماج کے حاشیئے پر پڑی سکینہ جیسی زندگی کی سہولیات اور لذتوں سے محروم عورت کا چہرہ بھی شامل ہے توسیاست کے ایوانوں میں اپنی مضبوط دسترس رکھنے والے رہنما ہی نہیں مسندِ امامت پر دراز مولانا برکت اﷲوارثی جیسے عالمِ دین کی صورتیں بھی نظر آتی ہیں۔شموئل کی نوکِ قلم جب ان چہروں پر پڑی شرافت ،عزت اور رتبے کی نام نہاد نقاب کو دھیرے دھیرے سرکاتی ہے تو قاری حیرت و انکشافات کے نئے تجربے کی لذت کو محسوس کیے بغیر نہیں رہ پاتا۔ تجربات کی یہی لذت قاری کی مسرت و بصیرت میں اضافہ بھی کرتی ہے اور ان کی کہانیوں کاامتیاز بھی بن جاتی ہے۔    

 شموئل کی نگاہ میں جنسی عمل کوئی سیدھے سادے یاسپاٹ تجربے کا اظہار نہیں ۔بلکہ ان کا خیال ہے کہ یہ ایک ایسا پیچیدہ عمل ہے جو تحیرو اسرار سے معمور ہے ۔ جنسی عمل کے دوران لذتیت کا احساس یکسانیت کے بجائے نوع بہ نوع تجربات کا متقاضی ہوتا ہے ۔ شموئل احمد جنسی عمل کی ان باریکیوں پر گہری گرفت رکھتے ہیں ۔ان کے افسانے ’بگولے‘کی لتیکا رانی ایک کمسن لڑکے کو اپنے ساتھ اپنے گھر اس لیے لے کر نہیں آتی کہ وہ اس سے محض اپنے جنسی تقاضوں کی تکمیل چاہتی تھی بلکہ جنسی عمل میں وہ اس کے اناڑی پن سے محظوظ ہونا بھی چاہتی تھی اور اسے جنسی عمل کے گر سکھا کرلذت اور مسرت کا نیا احساس بھی حاصل کرنا چاہتی تھی ۔تاہم لڑکے کے ذریعہ اتاولے پن کا مظاہرہ اور پیش قدمی کا عمل ا س کی تمام آرزو و¿ںکو خاک میں ملا دیتاہے۔وہ لڑکے کوجنسی عمل کے رموز سے قطعی نا واقف سمجھ رہی تھی ۔لہٰذا لڑکے کے عمل سے اس کے ذہن کو زبردست جھٹکا لگتا ہے اور تب وہ اس لڑکے کو دھکے مار کر گھر سے فوراً باہرنکال دیتی ہے ۔ یہاں لتیکا رانی جس شکست سے دوچار ہوتی ہے وہ اسے ایک بار پھر اس جنسی نا آسودگی کے احساس سے دو چار کر دیتی ہے جس سے نجات کی خاطر ہی وہ اس کمسن لڑکے کو اپنے گھر لے کر آئی تھی۔ یہی کیفیت افسانہ ”مصری کی ڈلی“ میں بھی سامنے آتی ہے ۔ تاہم یہاں لتیکا رانی کے بر خلاف جو جنسی عمل میں خود عامل بن کر اپنے معمول کو نئے تجربوں سے رو شناس کر کے حظ حاصل کرنا چاہتی ہے راشدہ اپنے شوہرعثمان سے وہ سب کچھ چاہتی ہے جو ایک شیر یا بھیڑیا اپنے شکار کو تصرف میں لینے کے بعد کر سکتا ہے ۔لیکن جنسی عمل میں عثمان کا محتاط اور شریفا نہ عمل راشدہ کے لیے نا آسودگی کا سبب بن جاتا ہے ۔لہٰذا اپنے مقصد کی تکمیل کی خاطر و ہ اپنے پڑوس میں نئے نئے وارد ہوئے کھردرے ہاتھوں والے الطاف نام کے عاشق مزاج نو جوان سے تعلقات استوار کر لیتی ہے ۔دھیرے دھیرے یہ تعلقات جس قربت اور بے تکلفی تک پہنچ جاتے ہیں وہ عثمان کے لیے خوش گوار قطعی نہیں ہو سکتے تھے۔ تاہم عثمان کی شریف النفس طبیعت اور راشدہ سے اس کی بے پناہ محبت اسے اس تلخ حقیقت کو اس طرح برداشت کرنے پر مجبور کر دیتی ہے جس طرح حلق میں پھنس جانے والے مچھلی کے کانٹے کو کسی طرح نگل جانے کے لیے انسان روکھے چاول کا سہارا لیتا ہے ۔ یہاں افسانہ نگار یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ جنسی نا آسودگی کا عمل جہاں ایک طرف ازدواجی رشتوں میں نا ہمواریوں کا سبب بن جاتا ہے وہیں آسودگی کی تمنا انسان کو ایسے افعال کی طرف مائل کر دیتی ہے جو اس کے فطری تقاضوں سے ٹکرانے والی مروجہ اخلاقیات کی کسی بھی زنجیر کو توڑ دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ راشدہ کا عثمان کے احساسات و جذبات سے دانستہ آنکھیں بند کر لینا اور الطاف کی بھلی بری ہر حرکت کو تحسین کی نظر سے دیکھنا اور قبول کرنا اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ 

 طبقاتی تفریق عصری سماج کی ایک حقیقت ہے ۔ اس حقیقت نے سماجی سطح پر جن نا ہمواریوں کو جنم دیا ہے ان کے اثرات دور رس ہیں ۔ انسان اور انسان کے درمیان سماجی اور معاشی سطح پر پیدا ہونے والی تفریق کے اثرات سے انسان کے رہن سہن اور سماجی درجات میں تبدیلی تو نمایاں رہی ہے تاہم یہ واقعہ ہے کہ اس سے انسانی فکر و شعور بھی متاثر ہوا ہے ۔طبقات کی اس درجہ بندی نے جہاں محنت کش طبقے کو حکمراں طبقے کے خلاف سماجی و فکری سطح پر منظم کیا ہے، وہیںمتوسط طبقے میں پائے جانے والے احساس کمتری سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے ۔شموئل احمدکو اس سماجی تفریق اور طبقاتی کشمکش کامحض احساس ہی نہیںبلکہ متوسط طبقے کی اس نفسیاتی کیفیات پر بھی ان کی گہری نظر ہے ۔ متوسط طبقے کے اندر پرورش پانے والا کمتری کا یہ احساس ان کے افسانہ ”منرل واٹر “ میں منیجر کی جگہ راجدھانی ایکسپریس سے دلّی کا سفر کرنے والے عام حیثیت کے کلرک کے فکری رویئے سے بھی واضح ہے ۔ اس کیفیت کو افسانہ نگار کیبن کے فرش پر پڑے ہوئے اس کے اور اس کے سامنے کی برتھ پر بیٹھی ہوئی امیر طبقے کی خاتون کے سوٹ کیس کے فرق سے بھی ظاہر کرتا ہے۔ لیکن شموئل کا خیال ہے کہ جنسی بھوک کی تسکین کے تقاضے طبقاتی تفریق کے اثرات سے بے نیاز ہوتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ دوران سفر رات کو سونے سے قبل تک کلرک اپنی حیثیت اور اپنے سامنے کی برتھ پر بیٹھی ہوئی بورژوا طبقے سے تعلق رکھنے والی خاتون کی حیثیت کو دیکھ کر جس جھجھک اورتذبذب کا شکار نظر آ رہا تھا رات کے کسی پل میںاس خاتون کے ساتھ جنسی عمل کے دوران اس تفریق سے بے نیاز ہوکر لطف و انبساط کی کیفیت میں ڈوب جاتا ہے جسے افسانہ نگار خالص فطری ملن قرار دیتا ہے، ایک ایسا ملن جس میں ان کے ارادے کا کوئی دخل نہیں تھا۔افسانہ نگار یہاں جس نکتے کی نشان دہی کرنا چاہتا ہے وہ اس بات پر دال ہے کہ پیٹ کی بھوک کی طرح جسم کی بھوک بھی وہ فطری جبلت ہے جو سماجی یا معاشی تفریق کے غیر فطری عمل کو قبول نہیں کرتی۔یہاں شموئل کا یہ خیال اس مارکسی نظریئے کی تائید کرتا نظر آتاہے کہ انسان کی فطری جبلت پر سماجی تفریق جبر کی علامت ِ محض ہے اور جس سے نجات صحت مند انسانی شخصیت اور ایک ترقی یافتہ سماج کی ضمانت کے لیے لازمی ہے ۔

 شموئل کو علم ہے کہ غیر فطری سماجی جبرکے عمل نے ہی سماج اور فرددونوں کی صورتوں کو مسخ کر رکھا ہے ۔ یہ ایک ایسی صورتِ حال ہے جس نے انسانی شخصیت کی مضحکہ خیز صورتوں کو سامنے لایا ہے۔ ان صورتوں میں افسانہ ”اونٹ“کا مولا نا برکت اﷲ وارثی کا کردار بھی ہے۔ مولانا برکت اﷲوارثی مسجد کا امام ہے ۔لیکن جنسی آسودگی کے تقاضوںکی راہ میں اس کی مذہبی اور سماجی حیثیت حائل نہیں ہو پاتی ہے اور وہ معاشی طور پر حاشئیے پر پڑی خاتون سکینہ سے نا جائز جنسی تعلق قائم کر بیٹھتا ہے ۔ اگرچہ اس کی مذہبی اور سماجی حیثیت کا احساس اسے گنہگار ہونے کا احساس بھی دلاتا رہتاہے ۔لیکن اپنے جنسی تقاضوں کے سامنے وہ خود کو مجبور محسوس کرتا ہے لہٰذا وہ اس رشتے سے قطع تعلق نہیں کر پاتا ہے۔سکینہ دو بچوں کی ماں ہے لیکن اس کے شوہر کا کوئی پتہ نہیں ۔وہ رحمت علی کے جواری بیٹے حشمت علی کی رکھیل ہے۔ تاہم کمزور طبقے سے تعلق رکھنے کے باوجود سکینہ مضبوط ضمیر کی مالک تھی ۔ اس کی نظر میں سماج کی بعض مروجہ قدروں کی بھی اپنی اہمیت تھی۔ لہٰذا برکت اﷲکا عمل اسے گناہ کا احساس دلانے لگتاہے ۔چنانچہ خود سے تعلق رکھنے کی صورت میں وہ اسے مسجد کی امامت سے استعفیٰ دینے پر اصرار کرنے لگتی ہے۔ لیکن برکت اﷲکے لیے یہ سب کچھ آسان نہیں تھا ۔ اسے اپنی اس سماجی حیثیت سے دستکش ہونا قطعی پسند نہیں تھا جو اس کی جنسی ہوس پرستی کے لیے ایک نقاب بھی تھی او ر اس کی قابلِ احترام حیثیت کی تشہیر میں معاون بھی ۔وہ نہ تو سکینہ سے قطع تعلق کرنا چاہتا تھا اور نہ ہی امامت کے فرائض سے دست بردار ہونا ضروری سمجھتا تھا۔ لیکن جب سکینہ نے اسے بتایا کہ وہ اس کے بچے کو جنم دینا چاہتی ہے تووہ گھبرا جا تا ہے ۔ اسے سماجی اخلاقیات کی زنجیریں اپنے وجود سے کستی ہوئی محسوس ہو تی ہیں ۔تب وہ سکینہ کو اپنی راہ سے ہٹا دینے کا آخری فیصلہ کر لیتا ہے اور ایک دن جنسی عمل کے دوران اس کا گلا گھونٹ کر اسے قتل کر دیتا ہے ۔

 شموئل احمد نے ہمارے مشاہدے میں آنے والے روز مرہ کے واقعات سے اوپر جس کہانی کے تانے بانے بنے ہیں وہ ناخوشگوار سماجی و جنسی عمل کے مکڑ جال میں پھنسے ہوئے ایسے افراد کی کہانی ہے جو واضح طور پر اس حقیقت کی نشان دہی کرتی ہے کہ جنسی گھٹن اور نا آسودگی کا احساس اکثر انسان کو گمراہی کے ایسے راستے پر لے جاتا ہے جو بالاخر جرم کی دلدل پر جا کر ختم ہوتاہے ۔ اور اس سے بھی اہم بات یہ کہ جنسی گھٹن اور نا آسودگی کے اس فطری احساس کے منہ زور طوفان کے سامنے سماجی اور مذہبی اخلاقیات کی ساری بندشیں ریت کی دیوار سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتیں۔ ورنہ مولانا برکت اﷲوارثی کا اونٹ ہر گز سر کشی پر آمادہ نہ ہوتا۔اور تب واضح طور پر افسانہ بھی اس جملے سے شروع نہ ہوتاکہ:

”مولانا برکت اﷲوارثی کا اونٹ سرکش تھا اور سکینہ رسی بانٹتی تھی ۔“

لیکن حقیقت یہی ہے کہ کہانی مندرجہ بالا جملہ سے شروع ہوتی ہے جو کہانی کے پورے سفر کے دوران معنٰی کی ایک دنیا روشن کرتا چلا جاتا ہے۔ افسانہ جو ہر قدم پر تحیر سے بھر پور ہے در اصل سماج ، مذہب اورنام نہاد اخلاقیات کے ایسے گٹھ جوڑnexus کا پتہ دیتا ہے جس نے پورے انسانی معاشرے کی صورت کو مضحکہ خیزبنا رکھاہے۔جنسی گھٹن اور ناآسودگی کا احساس جس نام نہاد اخلاقی قدروں اور مذہبی اخلاقیات یاکردار کی عظمت کے جھوٹے تصور سے عبارت ہے ،وہ انسان کی حیوانی خصلت کے مظاہرے کوپابند کر پانے میں واضح طور پر ناکام رہا ہے۔یہ انسان کی حیوانی خصلت ہی ہے جو اکثر اسے غیر فطری جنسی عمل کی بھی تحریک دیتی ہے ۔ ہمارے سماجی اور دینی اداروں کے حوالوں سے بھی کم سن لڑکوں اورلڑکیوں کے ساتھ غیر فطری جنسی عمل کی کوششوں کے واقعات اکثر ہمارے مشاہدے اور مطالعے میں آتے رہتے ہیں ۔ شموئل ایسے واقعات کو نظر انداز نہیں کرتے بلکہ ان سے ہی اپنی کہانی کا خمیر تیار کرتے ہیں اور ان کے اسباب و علل میں اتر کر قاری کے لیے انکشافات کی ایک دنیا روشن کر جاتے ہیں ۔یہ کیفیت ان کے افسانہ ”ظہار“ میںاپنے عروج پر نظر آتی ہے ۔

 ”ظہار“کاہیرو جو پیشے سے ایک کاتب ہے جنسی عمل کے مرحلے میں بیوی کو ماں سے تشبیہہ دے بیٹھتا ہے ۔ چنانچہ ایک فتوے کے مطابق اس پر بیوی اس وقت تک کے لیے حرام قراردے دی جاتی ہے جب تک وہ اس کا کفارہ ادا نہیں کرلیتا جویا تو ایک غلام کو آزاد کر کے یا دو ماہ مسلسل روزے رکھ کر یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا کر ہی پورا کیا جا سکتا تھا ۔کہانی کا مرکزی کردار دو ماہ مسلسل روزے رکھ کر اسے ادا کر لیتا ہے ۔ تب بیوی بھی مائیکے سے اس کے گھرواپس آ جاتی ہے ۔لیکن کہانی کا سب سے دلچسپ موڑ اس وقت آتا ہے جب اسے بیوی کی صحبت میں جنسی عمل کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ۔اس وقت نہ جانے کس خیال کے تحت وہ پھر شرمندگی محسوس کرتا ہے اور اپنی جنسی خواہشات کا موازنہ ’نابدان سے نابدان کا سفر‘ سے کر تے ہوئے اپنے جنسی جذبے کے فطری تقاضے پر قابو پانے کے لیے نماز کا سہارا لینا چاہتاہے اوروضو بنا کر کھڑا ہو جاتاہے ۔کہانی یہیں ختم ہو جاتی ہے تا ہم افسانہ نگار ہمارے سامنے یہاں یہ سوال چھوڑ جاتاہے کہ کیا کسی مذہبی ،سماجی یا شعوری عمل کے ذریعہ انسان کی کسی فطری خواہش کو دبایاجا سکتا ہے ؟شموئل افسانے کے فنی رموز سے واقف ہیں ،اس لیے فکری طور پر افسانے میں اپنی موجودگی کے با وجود افسانے کے انجام میں شریک کارinvolvedہونا نہیں چاہتے ۔اس لیے صرف سوال چھوڑ دیتے ہیں اور معنٰی کی تلاش کا کام قاری کے سپردکر جاتے ہیں ۔یہاں وہ منٹو سے قریب نظر آتے ہیں جو شموئل کی رائے میں جنس کو وسیلے کے طور پر استعمال کرتا ہے موضوع کے طور پر نہیں ۔ منٹو کی طرح شموئل بھی آئیڈیل ازم کے قائل نہیں ۔ اسی لیے شموئل افسانے کے فطری ارتقا میں جزئیات نگاری کو زیادہ اہمیت نہیںدیتے ۔یہاں وہ بیدی کی روایت سے ایک حد تک منحرف نظر آتے ہیں جو اپنی کہانیوں میں جزئیات نگاری پر بڑی حد تک دھیان دیتے ہیں لیکن شموئل جسے جزئیات نگاری کے بجائے بیدی کا involvementبتاتے ہیں ۔

 شموئل کہانی میںانوولومنٹ involvementاورکمٹمنٹ commitment کے معاملے میں بیدی سے انحراف ضرور کرتے ہیں تا ہم علامتوں کے استعمال میں وہ بیدی کے ہم خیال بھی نظر آتے ہیں۔ بیدی کی طرح وہ اساطیری اور غیر اساطیری ہر طرح کی علامتوں سے کام لیتے ہیں ۔ ”سنگھاردان “ ان کی ایک ایسی ہی کہانی ہے جس میں فسادات کی تباہ کاریوں کی صورت میں انسانی جان و مال کے نقصانات سے قطعِ نظر وراثت کی تباہ کاری اور اس کے مہلک اثرات کو علامتی انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔فسادات کی تباہ کاریوں اور اس کے اثرات پر بے شمار کہانیاں لکھی جا چکی ہیں اور اب بھی لکھی جا رہی ہیں ،لیکن شموئل احمد نے اس روایتی موضوع کو جس نئے نقطہ¿ نظر angleسے دیکھنے کی کوشش کی ہے وہ اردو افسانے کی تاریخ میں منفرد ہے ۔”سنگھار دان“ یہاں آرائشِ حسن و جمال میں کام آنے والی محض ایک شئے نہیںبلکہ ایک پا مال ہوتی ہوئی تہذیبی وراثت کے انتقام کی علامت بھی ہے ۔کہانی میں جس سنگھار دان کا ذکر کیا گیا ہے وہ طوائف نسیم جان کی موروثی شئے ہے جو اسے بے حد عزیز ہے ۔لیکن برج موہن جسے نسیم جان کی ہزار منت سماجت کے باوجود فساد کے موقعہ پر لوٹ کر لے جاتا ہے ۔افسانہ نگار یہاں جس سنگھاردان کی لوٹ کا ذکر کر رہا ہے وہ اگرچہ کسی فردِ واحد کی وراثت ہو سکتاہے لیکن یہ ہماری تہذیبی و سماجی وراثت کے پسِ منظرمیں قومی سطح پربے شمار صورتوں میں جا بجا بکھراپڑا نظر آتا ہے جس کا تحفظ آج ہمارے لیے ایک خوفناک مسئلہ بن چکا ہے۔ بابری مسجد کی زمیں بوسی ،بیف پر پابندی ،دلتوں کے لیے مندروں میں داخلے پر روک، آزادی¿ تحریر و تقریر کے بدلے گردن زدنی ،ملک کی ترقی کے لیے سوچنا اور عوام کی حقیقی آزادی کے لیے اپنی جان نچھاور کر دیئے جانے کو اب قومی جذبے کے اظہار کے بجائے وطن دشمنی سے منسوب کر دئے جانے کے علاوہ مٹی پوجا پر مشتمل نام نہاد ،جھوٹی اورجارح قوم پرستی کے حق میں ’بندے ماترم ‘کے نعرے لگانے پر اصرار، دبے کچلے عوام کو ان کی تہذیبی وراثت سے محروم کر دیئے جانے کے علاوہ اور کیاہو سکتاہے؟یہاںسنگھاردان کی لوٹ محض نسیم جان کی وراثت کی لوٹ نہیں ایک پورے قوم کی اس وراثت کی لوٹ ہے جس پرصدیوں سے اسے فخر رہا ہے۔ تاہم سنگھار دان کی کہانی یہیںختم نہیں ہو جاتی بلکہ یہاں سے شروع ہوتی ہے ۔ کہانی اس طرح آگے بڑھتی ہے کہ نسیم جان کی جس وراثت کو لوٹ کر برج موہن اپنی فرقہ وارانہ ذہنیت اور حریص طبیعت کو تسکین دینا چاہتا تھاوہ boomarangکی طرح ایک ایسے ہتھیار میں تبدیل ہو جاتی ہے جو خود اس کی اپنی تہذیبی وراثت کی تباہی و بربادی کا سبب بن جاتی ہے ۔یہاں افسانہ نگارشاےد اس انقلابی تبدیلی کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہے کہ فرقہ پرست اور قوم دشمن عناصر عوام کی جس تہذیبی وراثت کو لوٹ کر نازاں ہیں وہ با لا خرخود ان کی اپنی فرسودہ تہذیبی وراثت کی تباہی کی راہ ہموار کرے گی ۔جس طرح برج موہن کے گھرمیں اس موروثی سنگھار دان کے آتے ہی اس کی بیوی اور بیٹیوں میں طوائفوں والی خصلت پیدا ہونے لگتی ہے ۔ وہ ہر شام بن سنور کر اپنے مکان کی بالکونی میں کھڑی ہوجاتیں ہیں اور نیچے گزرتے ہوئے راہگیروں کے اشاروں کے جواب دینے لگتی ہیں ۔ دھیرے دھیرے خود اس کے اپنے اندر بھی چکلے کے دلال کے لکچھن پیدا ہونے لگتے ہیں ۔ یہاں تک کہ ایک دن خود غیر ارادی طور پر وہ اپنی بیوی اور بیٹی کے جسم فروشی کے لیے بھڑوے کی طرح اپنے ہی گھر کی سیڑھی کے نیچے جا کر کھڑا ہو جاتا ہے ۔کہانی یہاں ختم ہو جاتی ہے تا ہم ایک ایسی کیفیت بھی چھوڑ جاتی ہے جس میں قاری خود کو دیر تک گرفتار محسوس کرتا ہے ۔ افسانے میں جس صورتِ حال کی تصویر کشی کی گئی ہے وہ افسانہ نگار کے ذہن کی پیداوار سہی لیکن کہانی یہاں قاری کوحیرت و استعجاب کی ایک ایسی دنیا میں ضرور لے جاتی ہے جہاں اس کے غم و غصے کی کیفیت اور بدلے کی سائیکی psyche بالاخریک گونہ سکون سے آشنا ہو کر لطف و انبساط کی دنیا سے ہمکنار ہوجا تی ہے ۔ یہاں جنسی عمل اور ردِ عمل کی کیفیات کے پسِ منظرسے انسانی نفسیات کے ایسے پہلو و¿ں کی بازیافت کرنا جو جنسی حظ سے گزر کر روحانی آسودگی میں تبدیل ہو جائے جمالیات کی ایسی صورت پیش کرتی ہے جسے افسانہ کا فنی امتیاز کہا جا سکتا ہے اور جس پر شموئل کو قدرت حاصل ہے ۔ ذیل کا اقتباس کس قدر بلیغ ہے ایک نظر ڈالیں تو واضح ہو جاتا ہے :

”برج موہن نے ایک نظر شیشے کی طرف دیکھا بیوی کے ننگے بدن کا عکس دیکھ کر اس کی رگوں میں شعلہ سا بھڑک اٹھا ۔ اس نے یکا یک خود کو کپڑوں سے ایک دم بے نیاز کر دیا ۔تب برج موہن کی بیوی اس کے کانوں میں آہستہ سے پھسپھسا ئی ۔ہائے راجہ .......لوٹ لو بھرت پور.......

 برج موہن نے اپنی بیوی کے منہ سے کبھی ’اوئی دیا‘یا ’ہائے راجہ ‘ جیسے الفاظ نہیں سنے تھے ۔اس کو لگا یہ الفاظ نہیں سارنگی کے سُرہیں جو نسیم جان کے کوٹھے سے بلند ہو رہے ہیں اور تب .........تب فضا کاسنی ہو گئی تھی .......شیشہ دھندلا گیا تھا .....اور سارنگی کے سُر گونجنے لگے تھے .......برج موہن بستر سے اٹھا ۔ سنگھار دان کی دراز سے سرمہ دانی نکالی ۔آنکھوں میں سرمہ لگایا ۔کلائی پر گجرا لپیٹا اور گلے میں لال رومال باندھ کر نیچے اتر گیا اور سیڑھیوں کے قریب دیوار سے لگ کر بیڑی کے لمبے لمبے کش لینے لگا ۔“

 اوپر کے اقتباس میں شموئل احمد نے انسانی نفسیات کی جن پیچیدگیوں پر گرفت کی ہے اسے عصری سماج کی پیچیدگیوں کے تناظر سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا نا چاہئے ۔ عصری سماج کی پیچیدگیوں اور ناہمواریوں نے انسانی ذہن کو جس احساس ِ محرومی یا فرسٹیشن سے دو چار کیا ہے اس نے انسان کے ہر عمل اور ردِ عمل کی صورت بدل کر رکھ دی ہے ۔جس کے سبب اس کی محرومیاں و ناکامیاں تسکین و آسودگی کے نت نئے طریقے ڈھونڈتی رہتی ہیں،خواہ یہ طریقہ¿ کار غیر فطری ہی کیوں نہ ہو ۔اگر چہ جدید تکنالوجی سے انسانی زندگی جن رحمتوں اور برکتوں سے مستفیدہوئی ہے وہ بھی ایک حقیقت ہے ۔تکنیک کے اس جدید ارتقاءنے آج انسانی زندگی کے بیشتر گوشوں کو اپنی برکتوں سے نوازا ہے ۔یہاں تک کہ اپنی جنسی نا آسودگی کی تسکین کے لیے بھی انسان نے اس سے فائدہ اٹھا نے کی ہر ممکن کوشش کی ہے ۔ تاہم تکنیک کے ان مثبت اثرات کے علاوہ اس کے بعض منفی پہلو بھی رہے ہیں لیکن جنھیں ہماری نئی نسل خاطر میں لا نا نہیں چاہتی اور نتیجتاًجنسی کجروی کا شکار ہو کرنفسیاتی و معاشرتی نا ہمواریوں کو جنم دینے میں معاون ہو تی رہی ہے ۔ شموئل انسانی نفسیات کی ان کمزوریوں کو نظر انداز کرنا نہیں چاہتے ۔ انھیں علم ہے کہ سائبر سیکس کلچر کے توسط سے جہاں بعض لوگ جنسی حظ اور مسرت حاصل کر کے اپنے نا آسودہ جنسی جذبات کی تسکین کی کوششوں میں مصروف رہے ہیں وہیں اس نے جنسی مسائل کی ایسی لعنتیں بھی پیدا کی ہیں جس نے انسان کی سماجی اور ازدواجی زندگی کو نئی پیچیدگیوں سے دو چار کیا ہے ۔تاہم ان مسائل کو فروغ دینے میں عالم کاری یا صارفی ثقافت کے اثرات کو تسلیم کرنا ہوگاجس کے سبب اس نے بہ یک وقت دنیا کے تمام ممالک کے عوام کو اشیاءمیں تبدیل کرکے شعوری طور پر انھیں مفلوج بنا دیا ہے ۔ اب انسان وہی سوچتا ہے اور وہی کرتا ہے جو یہ چاہتا ہے ۔ ہم ہنسنا چاہتے ہیں ہمیں رونا پڑتا ہے ۔ہم جینا چاہتے ہیں ہمیں خود کشی پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ہم امن کے خواہاں ہیں لیکن جنگ ہم پر مسلط کر دی جاتی ہے ۔سائبر ثقافت بھی اس سلسلے میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے اور منفی اثرات کو فروغ دینے میں معاون ہے۔ چیٹنگ کے توسط سے جسمانی اتصال کے بغیر تصور کی دنیا میں جنسی تلذذ کا احساس غیر فطری جنسی عمل کی ایسی ہی سع¿ی ہے جسے ذہنی کجروی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔ 

 ان کا افسانہ ”عنکبوت“ازدواجی زندگی کی ایسی ہی پیچیدگیوں کی کہانی ہے جو سائبر سیکس کے حوالے سے جنسی مسرت اور حظ کی تلاش میں شوہر اور بیوی کے معتبر رشتے کے سامنے شکوک و شبہات کی ایسی فضا کی تشکیل دیتی ہے جو انتہائی کریہہ بھی ہے او رحد درجہ ناگوار بھی ۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسان سائبر سیکس کلچر کی اس نئی لعنت سے نجات حاصل کر سکتا ہے؟ شموئل نے اس پر کوئی روشنی نہیں ڈالی ہے ۔تا ہم قاری افسانہ کے مطالعے کے بعد دیر تک اس سوال کی بھول بھلیوں میں خود کو گم محسوس کرنے پر مجبور پاتاہے ۔ یہاںسائبر کلچر کا عنکبوت سے موازنہ عصری سماجی صورتِ حال کی ایسی علامت کی تخلیق کرتا ہے جو مکڑی کے جال کی طرح پورے نظامِ عالم پر محیط ہے اور جس سے باہر نکلنے کی ہر کوشش سع¿یِ رائیگاں بن کر رہ گئی ہے۔ یہ مکڑ جال اس نظام ِحیات کی پیداوار ہے جوسماج کی پیداواری قوتوں کو تلذذکی تصوراتی دنیا میں اس لیے قید کر دینا چاہتا ہے تا کہ معروضی حالات کی تلخیوں اور سنگینیوں کے احساس سے انھیں دور رکھ کر سماجی تبدیلیوں کی ایسی راہ کو مسدود کیا جا سکے جو اس کے اقتدار کے لیے چیلنج پیش کرتی ہو اور ساتھ ہی اس نظام کے مادی اورمالی مفادات کو تحفظ دے کر اس کے فروغ کی ضمانت بھی دے سکے ۔ شموئل کے اس افسانہ کے مرکزی کردار محمد صلاح الدین انصاری اور اس کی بیوی نجمہ اس صورتِ حال کی خوب صورت ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں ۔ دونوں میاں بیوی ایک دوسرے سے پوشیدہ طور پر سائبر چیٹنگ کی طرف راغب ہو جاتے ہیں اور کسی طرح ایک دوسرے سے ہی مخاطب ہو جاتے ہیں ۔ دونوں ہی فرضی نام سے کھولے گئے اکاو¿نٹ کے ذریعہ چیٹنگ کے توسط سے جنسی حظ کی مختلف کیفیتوں کا لطف لیتے ہیں ۔ لیکن ایک دن یہ راز جب اچانک محمد صلاح الدین پر منکشف ہوتا ہے تو اسے اپنے پیروں تلے سے زمین سرکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے ۔ و ہ اپنی بیوی کی اس حرکت پر آگ ببولہ ہو جاتا ہے اور غصے کے عالم میں اسے انتہائی برا بھلا کہہ کر اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اگرچہ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ وہ خود بھی اسی جرم کا مرتکب تھا جس کے لیے اپنی بیوی کو معتوب سمجھ رہا تھا۔محمد صلاح الدین کا یہ عمل مرد اساس سماج کی اس نفسیاتی پیچیدگی کا بھی اظہار ہے جس نے دیگر سماجی اعمال کی طرح جنسی فعل و عمل میں بھی عورتوں اور مردوں کے لیے درجات قائم کر رکھا ہے اور اپنی برتری پر مصر ہے۔

 شموئل کے مندرجہ بالا افسانوں کے علاوہ ان کے تحریر کردہ دیگر افسانوں اور’ ندی‘ اور’گرداب‘ جیسے ناولوں سے بھی جنسی نفسیات کی مختلف پرتیںکھلتی ہیں۔جنسی کیفیات کی یہ رنگا رنگ پرتیںقاری کے احساسات کو خیرہ بھی کرتی ہیں اور جنسی جمالیات کو دیکھنے کا انھیںمخصوص اندازِ نظر بھی عطا کرتی ہیں۔ در اصل جنسی نفسیات کی ان ہی متنوع کیفیات کی پر اثر تصویر کشی شموئل کی فکشن نگاری کا اختصاص ہے۔ ان کے یہاں انسانی نفسیات کا یہ عمل مجرد نہیں ہوتا۔وہ انسانی نفسیات کے ہر عمل اور ردِ عمل کو سماجی اور ثقافتی حالات کے عصری معروض کے پسِ منظر میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی کہانیوں کے سفر کے دوران ان کے کرداروں کے ساتھ قاری کی ہمدردی اور شرکت ہر قدم پربر قرار رہتی ہے ۔قاری کا یہی انولومنٹ ان کے لیے فکر کے دروازے بھی کھولتا ہے اور بصیرت کے چراغ بھی روشن کرتا ہے۔ 

 شموئل اپنی حقیقت پسندی کے سبب جنسی فعل و عمل کے بیان میںبعض مقامات پر بے باک ضرور ہو جاتے ہیں تا ہم ان کے افسانوںپر فحش نگاری کے الزامات عائد نہیں کیے جا سکتے ۔ جنسی کیف و کم کے بیان کامقصد ان کے یہاں لذت کوشی کاعمل قطعی نہیں ۔ کیونکہ شموئل اپنی کہانیوں میں مقصدیت کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھتے ہیں ۔لہٰذا جنسی فعل و عمل کی بعض کیفیات کا بیان ان کے یہاں محض ایسے حوالے کے طور پر سامنے آتا ہے جو جنسی ناہمواریوں کے اظہار کی صورت کو نمایاں کر سکے ۔ اگرچہ ناقدین ادب کے بعض حلقوں کی طرف سے ان کی کہانیوں کو مخربِ اخلاق اور معاشرے کے لیے خطرناک بتانے کی کوشش بھی کی جاتی رہی ہے تاہم اپنے ایک انٹرویو میںراقم الحروف سے گفتگو کرتے ہوئے خود شموئل احمدنے ایسے خیالات کو بے بنیاد اور لغو قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ :

”جنس میرے لیئے کبھی ٹیبو نہیں رہا۔ جنسی جبلّت حسین ترین جبلّت ہے ۔ مجھے جنس کی جمالیات کی تلاش رہی ہے ۔ افسانے ’ظہار، مصری کی ڈلی ، جھاگ اور بگولے وغیرہ اور ناول ندی میں جنس کی جمالیات کو محسوس کیا جا سکتا ہے ۔جنس کا ایک روحانی پہلو بھی ہے جس کی بازیافت ہونی ہے ۔ میرا زیر قلم ناول داستان عشق اسی روحانی پہلو کو ڈیل کرتا ہے ۔اردو ادب میں جنس کا موضوع ترقی پسند رحجان سمجھا گیا ہے ۔ لیکن منٹو کے بعد کوئی جنس نگار پیدا نہیں ہوا۔ وجہ یہ ہے کہ ہمارے ادیب کچھ زیادہ ہی سماجی حجاب میں مبتلا رہتے ہیں۔ بعض ادب کی اخلاقیات کو مذہب کی اخلاقیات سمجھتے ہیں ۔یہ ہائی پو کریٹ قسم کے لوگ ہیں ۔ جنس سے سے محظوظ بھی ہونگے اور چشم پوشی بھی کرینگے ۔اصل میں معا شرے نے مذہب کی نام نہاد اخلاقیات کا زہر دے کر جنس کو مارنے کی کوشش کی ہے۔ جنس مرا تو نہیں زہریلا ہو کر زندہ ہے ۔کوئی افسانہ اس زہر کی نشان دہی کرتا ہے تو آدمی چیخنے لگتا ہے کہ افسانہ فحش ہے ۔ فحاشی تو اس آدمی کے اندر ہے جو افسانہ پڑھتے ہوئے اجاگر ہو گئی ۔ایک دلچسپ واقعہ سنیئے ۔ میرا تازہ ترین ناول’ گرداب‘ شائع ہوا تو پٹنہ یونیورسیٹی کے ایک پروفیسریونیورسیٹی ہال میںمذاکرے کا انعقاد کرنا چاہتے تھے تا کہ کھلی بحث ہو اور جو ا عتراضات ہیں مصنف ان کا جواز پیش کرے ۔تاریخ مقرر ہو گئی۔ کارڈ چھپ گئے ۔ لیکن پی جی کی طالبات میں بے چینی پھیل گئی یا اللہ گرداب پر مذاکرہاس میں تو جنس کی باتیں ہونگییہ گناہ کبیرہ ہے۔ طالبات کے ابّا حضور بھی پہنچ گئے کہ شموئل صاحب جن موضوعات پر لکھتے ہیں تو ان پر مذاکرہ لڑکیوں کا اخلاق خراب کر دے گا۔انہوں نے دھمکی دی کہ اگر آپ نے مذاکرے کا انعقاد کیا تو وہ وی سی کے یہاں شکایت درج کرینگے۔........یونیورسیٹی کے ایک لکچرر نے بتایا کہ پڑھانے کے دوران کسی ناول کا حوالہ دیتے ہوئے اگر لفظ حاملہ منھ سے نکل جاتا ہے تو لڑکیاں سر جھکا لیتی ہیں اور ہال سے باہر نکل جاتی ہیں .......بہرکیف پرو گرام تو رد ہو گیا لیکن مجھے ایک کہانی ہاتھ لگ گئیکہانی یہاں پر ہےلفظ حاملہ پر لڑکیوں کا سر جھکا لیناجیسے یہ خود بھی حاملہ ہوں اور اپنے حمل پر ندامت محسوس کر رہی ہوں۔ان کے دماغ میں ہر وقت سیکس چلتا رہتا ہے۔تصور میں جنسی عمل سے گذرتی ہیں اور پارسائی کا نقاب اوڑھتی ہیں۔میری کہانیاں ایسے ہی کردار کا انتخاب کرتی ہیں اور لوگ چیختے ہیں کہ میں جنس پر لکھ رہا ہوں۔ ایسے ہائیپو کریٹ کو ایکسپوز کرنا ضروری ہوتاہے ۔“

 شموئل احمد کے مندرجہ بالا خیالات سے ناقدین ادب کے بعض حلقے ممکن ہے اتفاق نہ کریں تا ہم ان کی باتوں میں موجود سچائیوں سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ان سچائیوں کے اظہار کے لیے جن تفصیلات یا جزئیات نگاری کی ضرورت در پیش ہوتی ہے اپنی کہانیوں میں اس کے بیان میں وہ پس و پیش سے کام نہیں لیتے ۔لیکن وہ اس بات کا بھی خیال رکھتے ہیں کہ جنسی کیف و کم کابے باکانہ اظہار ضرورت کے تحت اور اس طرح حدود کے اندر ہو کہ جنسی ہیجان پیدا کرنے کا سبب بھی نہ بن سکے ۔ در اصل شموئل کی تحریر کی یہی روش اور جنسی نفسیات کے ایسے گو شوں کی تلاش جو جنسی جمالیات کی مختلف صورتوں کی بازیافت بن کر سامنے آتی ہے ان کے فن کا امتیاز بن کر ابھرتی ہے۔

   ٭٭٭  

Sarwar Hussain,

201, Shahid palace,

Samanpura,PATNA-800 014.

 



Category : Criticism
Author : سرور حسین

DEEDBAN

Deedban Publications | N-103 Jamia Nagar New Delhi | Tel: +(91)-9599396218 | Email: deedban.adab@gmail.com
The copyright to all contents of this site is held by the authors of this site. Any kind of reproduction would be an infringement.