Publish Date : 2017-07-23

صلہ

دیدبان شمارہ پنجم 

صلہ
بنسی خوب چندانی/عامر صدیقی
سندھی کہانی

'' نرس اب اور کتنی گولیاں کھلاؤگی؟ میں تو تنگ آ گیا ہوں گولیاں کھا کھا کر ''
'' انکل گولیاں ڈاکٹر نے دیں ہے، جلدی ٹھیک ہونے کے لئے۔ برابر لوگے تو جلد ٹھیک ہو جاؤ گے ۔ اچھا اب منہ کھولو ''
کیرالہ کی نرس نے اپنے سانولے چہرے پر موجود دودھ جیسے چمکتے دانتوں کے ساتھ کشن لال کو میٹھی ڈانٹ پلائی اور پوری سات عددگولیاں ایک کے بعد ایک لینے پر مجبور کر دیا۔ کشن لال مجبور تھا۔ وہ سامنے والے بیڈ پر بیٹھی اپنی بیوی سندری کو دیکھنے لگا۔ گویا وہ مدد کے لئے پکار رہا ہو۔ سندری خاموشی سے دیکھتی رہی۔ اور وہ کر بھی کیا سکتی تھی۔
ممبئی میں باندرہ کے علاقے میں لیلاوتی ہسپتال میں داخل کشن لال کو آج پورے نو دن ہو گئے ہیں۔ اور بائی پاس سرجری کرائے، اسے ایک ہفتے گزر چکا ہے۔ تین دن تو آپریشن کے بعد آئی سی یو میں ہی تھا۔ کل سے ہسپتال کی ساتویں منزل کے ایک کمرے میں ہے۔ ہسپتال کے اس کمرے سے باندرہ میں پھیلے سمندر کو باآسانی دیکھا جا سکتا تھا۔
کشن لال کو جلدی تھک جانے، بار بار پسینہ آنے اور سینے میں درد کی شکایات تو چار پانچ سال سے ہو رہی تھیں۔
جب تکلیف بڑھی، تو اپنے فیملی ڈاکٹر کے کہنے پر اس ہسپتال میں اس نے اینجیوگرافی کرائی تھی۔ اس فلم کو دیکھ کر ڈاکٹر نے اسے جلد از جلد بائی پاس سرجری کا مشورہ دیا تھا، کیونکہ کشن لال کے دل کی خون کی نالیاں اپنا کام صحیح طور پر نہیں کر رہی تھیں۔
کشن لال کو سرجری کرانے کی قطعی خواہش نہ تھی۔ نہ جانے کیوں اسے لگتا تھا کہ اس آپریشن کے بعد وہ نہیں بچ سکے گا۔لیکن اسکی بیوی سندری نے سمجھایا تھا '' ایشور پر بھروسہ رکھیں، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ آج کل ویسے بھی دل کا علاج عام ہو گیا ہے۔ ہمارے ممبئی میں تو ویسے بھی ایک سے ایک ماہر ڈاکٹرز ہیں۔ آپ ہمت رکھیں اور سرجری کے لئے انکار نہ کریں، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ''
کشن لال کے ایک گہرے دوست جے رام نے بھی اسکی ہمت بڑھائی اور وہ آپریشن کے لئے تیار ہو گیا تھا۔ آپریشن کامیاب رہا ہے اور ڈاکٹر کے مطابق وہ دو تین دن میں اندھیری میں واقع اپنے گھر جا سکے گا۔ ہاں مگر وہ دو ماہ اپنے دفتر نہیں جا سکے گا اور کم از کم چھ ماہ پرہیز کا خاص خیال کرنا پڑے گا۔
نرس تو گولیاں دے کر چلی گئی تھی۔ سندری نے بھی دوسرے بیڈ پر لیٹ کر آنکھیں بند کر لی تھیں۔ دوسرا کوئی چارہ نہ دیکھ کر کشن لال بھی آنکھیں موندکر سونے کی کوشش کرنے لگا۔
تقریباً ایک گھنٹے بعد وہ چونک کر اٹھا اور اپنی بیوی کو بلانے لگا۔سندری گہری نیند سے جاگ اٹھی اور شوہر کے بیڈ کے سرہانے آکر کہنے لگی
'' ہاں کیا بات ہے؟ کیاڈاکٹر کو بلاؤں؟ ''
'' نہیں پریا، ڈاکٹر کی ضرورت نہیں، میں نے ابھی ایک خواب دیکھا ہے کہ منوج امریکہ سے ہوائی جہاز میں روانہ ہوا ہے اور کل تک ممبئی پہنچ جائے گا۔ کل شام کو وہ مجھے دیکھنے ضرور آئے گا۔ سچ بتاؤں سندری کیا تمہیں اپنے بیٹے کی یاد نہیں آتی۔ میں تو اس کا چہرہ دیکھنے کو ترس رہا ہوں ''
'' دیکھئے، آپ بار بار وہی بات کر رہے ہیں۔ یہ خواب آپ تین دن سے مسلسل دیکھ رہے ہیں۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ منوج نے ٹیلی فون پر کہا تھا کہ وہ ابھی ممبئی نہیں آ سکے گا۔ کیونکہ اس وقت امریکہ چھوڑنے پر اسکا گرین کارڈ ملنا مشکل ہو جا ئے گا۔ اس نے پانچ ہزار ڈالر بھی بھیجے ہیں۔ تاکہ آپ کے علاج میں کوئی کمی نہ رہے۔ بچوں کی خوشی میں ہی خوش رہیں۔ منوج کے امریکہ جانے پر خوشی سے سب سے زیادہ آپ ہی تو اچھلے تھے۔ کیا آپ کو ناریل پانی دوں؟ ''
کشن لال کچھ لمحے خاموش رہا اور چھت کی طرف دیکھنے لگا۔ سندری جب باتھ روم سے باہر آئی تو شوہر کی آنکھوں سے آنسو بہتے دیکھ کر وہ خود بھی دکھی ہو گئی۔ اس نے دیکھا کہ شوہر کے آنسوؤں سے بیڈ کا تکیہ بھی گیلا ہو گیا ہے۔
سندری کی آنکھوں میں بھی آنسو تیر نے لگے تھے۔ وہ منہ پھیر کر کھڑکی سے باہر سمندر کی لہروں کو دیکھنے لگی۔ اسے لگا، گویا یہ سمندرسندری اور کشن لال جیسے لوگوں کے آنسوؤں سے بھرا ہوا ہے۔ تبھی تو یہ اتنا نمکین ہے۔
اپنے آپ کو سمجھاتے ہوئے، دوپٹے کے کونے سے اپنے آنسو پونچھ کر اور ناریل کا پانی پلاسٹک بیگ سے نکال کر، گلاس میں بھر کر، بیڈکے ساتھ والی میز پر رکھ دیا۔
کشن لال پلنگ پر تکیے کو اپنی سہولت سے ٹکاکر لیٹ گیا۔ اس کی آنکھیں اب بھی بیٹے کی یاد میں نم تھیں۔ سندری نے کاغذ کے رومال سے شوہر کے آنسوؤں کو پوچھا اور اسے ناریل پانی پلانے لگی۔
کشن لال پھر بڑبڑانے لگا ۔
'' سندری یہ تو بتاؤ کہ گرین کارڈ باپ سے بڑی چیز ہے کیا؟ اگر میں مر جاؤں، تو شاید میرا بیٹا مجھے کاندھا دینے بھی نہیں آئے گا۔ یہ کہہ کر کہ گرین کارڈ ملنے میں دقت ہو گی۔ کیا یہی ہے ہماری محبت اور پرورش کاصلہ؟ ''
سندری نے شوہر کو کوئی جواب نہیں دیا۔ بس وہ ا سٹول کو بیڈ کے پاس سرکاکر بیٹھ گئی اور پیروں کو ہلانے لگی۔ اسے یاد آیا کہ منوج جب چھوٹا تھا۔ تو وہ اسے کیسے جھولا جھلاتی تھی۔ اپنے پیروں کو جھولا بنا کر جب منوج کوجھلاتی، تو وہ کھلکھلاکراپنی چھوٹی چھوٹی بانہیں ماں کے گلے میں ڈال کر لپٹ جاتا اور اب وہ ماں باپ سے ہزاروں میل دور امریکہ میں گرین کارڈ ملنے کا انتظار کر رہا ہے۔ جس سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے وہ ماں باپ سے دور رہ سکے، سندری کے چہرے پر تھوڑی دیر کے لئے آئی مسکراہٹ اب غائب ہو چکی تھی۔ اس نے پاؤں کوجھلانا بند کر دیا۔ وہ شوہر کی طرف دیکھنے لگی، جو چھت سے آنکھیں گڑائے جانے کیا سوچ رہے تھے؟
'' سندری سنو تو '' کشن لال نے سندری کی طرف دیکھ کر کہا ''تم کو یاد ہے، جب منوج دس سال کا تھا اور اسے یرقان ہو گیا تھا، تب میں نے پورے دو ماہ کی چھٹی لی تھی۔ آفس سے برخاستگی کا وارننگ نوٹس تک آ گیا تھا۔ لیکن میں نے کام کی کوئی پرواہ نہیں کی تھی اور جب تک منوج ٹھیک ہوکر اسکول نہیں جانے لگا تھا، اس وقت تک آفس نہیں گیا تھا۔ پھر دو ماہ بعد ہم ویشنو دیوی گئے تھے، اس وقت بھی آفس میں جھگڑا کرکے میں نے چھٹی لی تھی''
کیا منوج وہ سب بھی بھول گیا ہے؟
'' اب چھوڑیں، پرانی باتوں کو، کیوں اپنے دل کو دکھی کرتے ہیں؟ ' ' سندری نے اپنے شوہر کو تو پرانی باتیں یاد نہ کرنے کو کہا، لیکن وہ خود ماضی کے بھنور میں اب بھی پھنسی ہوئی تھی۔ اسے یاد آیا کہ جب منوج پانچ سال کا تھا اور اسے تیز بخار ہو گیا تھا، اس وقت کشن لال بھی آفس کے کام سے باہر گئے ہوئے تھے۔ منوج کو رات میں ہی کمبل اوڑھاکر وہ ڈاکٹر کے پاس لے گئی تھی۔
اس وقت اس کے پاس زیادہ پیسے تک نہیں تھے، کسی طرح جوڑ توڑ کر منوج کی ایک ہفتے تک دوا کرائی تھی۔ منوج کے ٹھیک ہونے کے بعد خود اسے ملیریا ہو گیا تھا۔ کشن لال نے واپس لوٹ کر سب کچھ سنبھال لیا تھا۔ لیکن اس بیماری کے دوران منوج جس طرح اس کے سینے سے چپکا رہتا تھا، وہ دکھ اور ہاں، وہ خوشی، اب بھی اسکے دل کے کسی کونے میں موجود ہے۔
'' کیسے ہو کشن سیٹھ، کیا حال چال ہیں؟ کیوں ابھی تک ہسپتال سے چپکے بیٹھے ہو۔ کیا یہیں گھر بسانے کی خواہش ہے؟ '' جے رام کی پاٹ دار آواز اس چھوٹے سے کمرے میں گونج اٹھی '' آؤ دوست آؤ۔ تمہارے آنے سے شاید دل کچھ بہل جائے گا ''
کشن لال نے آنسو پونچھتے ہوئے دوست کا استقبال کیا۔ جے رام اس کا بچپن کا دوست ہے۔ اسکول، کالج ایک ساتھ جانے کے علاوہ ان کی نوکری بھی ایک ہی سیکشن میں لگی تھی، لیکن تھوڑے ہی عرصے میں جے رام کا دل نوکری سے بھر گیا تھا۔ اس نے اپنے چچا کے ساتھ ریڈی میڈ کپڑوں کا کاروبار شروع کر دیا اور اب وہ ایک بڑا سیٹھ بن گیا ہے، لیکن کشن لال اسے ہمیشہ جے رام کہہ کر ہی مخاطب کرتا ہے اور جے رام اسے سیٹھ کشن لال کہہ کر پکارتا ہے۔
سندری نے دوپٹے سے اپنے آدھے سوکھے آنسوؤں کو مناسب طریقے سے پونچھا اور جے رام کو ا سٹول پر بیٹھنے کو کہہ کر، خود سامنے والے بیڈ پر بیٹھ گئی۔ جے رام نے اپنے دوست کو آنسو پونچھتے اور سندری کے چہرے کے اداسی بھرے انداز کو دیکھ کر اندازہ لگایا کہ ماحول کچھ بوجھل رہا ہے۔ وہ دوست کے قریب بیٹھ گیا اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر کہنے لگا '' کشن سیٹھ کیا بات ہے۔ کیا پھر بھابھی سے کسی بات پر جھگڑا ہو گیا ہے؟ ''
کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد کشن لال بولے '' نہیں یار جھگڑا کرنے کے اب دن گئے۔ اب تو ایک دوسرے کو دلاسے دے کر ہی دن کاٹنے ہیں ''
دونوں دوستوں کی باتوں میں حصہ لیتے ہوئے سندری نے کہا '' منوج امریکہ سے نہیں آ پا رہا ہے، کیونکہ اس وقت امریکہ چھوڑنے پر اسے گرین کارڈ ملنے میں دقت ہو سکتی ہے۔ اب آپ ہی بتائیے، کیا یہی ہے ہماری محبت کا صلہ ''
کشن نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا '' آپ کو یاد ہے کہ جب منوج کو انجینئرنگ کالج میں داخل دلایا تھا۔ میں کس طرح تین ہفتے تک اسے لے کر یا اکیلے ادھرادھر بھٹکتا رہا تھا۔ کالج کے داخلہ کے لئے میرے پاس پیسے ہی نہیں تھے اور تمہارے پاس میں پیسے لینے آیا تھا۔ تم نے تو مدد کی تھی، لیکن وہ میں جانتا ہوں کہ تم سے پیسے مانگنے میں مجھے کتنی شرمندگی ہوئی تھی۔ اس وقت منوج کے لیے میں کچھ بھی کرنے کو تیار تھا ''
یہ کہتے ہوئے کشن لال اپنی آنکھوں سے بہہ نکلی شرمندگی کو پونچھنے لگا۔
جے رام یہ سن کر کچھ لمحے خاموش رہے، پھر اپنے دوست کے ہاتھوں کو سہلاتے ہوئے اپنی قدرتی پاٹ دار آواز کو تھوڑانرم کرتے ہوئے بولے ۔
'' ہاں مجھے اچھی طرح یاد ہے. مجھے یہ بھی یاد ہے کہ اتنی بھاگ دوڑ کے بعد جب گورنمنٹ کالج میں داخلہ ملا، تو تم کتنے خوش ہوئے تھے۔ مٹھائی کا ڈبہ لے کر میرے گھر دوڑتے چلے آئے تھے۔ اس وقت تمہارے چہرے پر خوشی کا جو منفرد احساس تھا، اسے دیکھ کر ایسا لگتا تھا گویا تم کو اپنی پریشانیوں کا معاوضہ مل گیا ہو۔ کیا تمہیں وہ خوشی یاد نہیں ہے؟ ''
کمرے میں کچھ دیر تک خاموشی چھائی رہی۔ نرس نے ایک بار جھانک کر کمرے میں دیکھا، شاید وہ کمرے میں چھائی خاموشی کے خوف سے اندر نہیں آئی تھی۔
جے رام نے پھر پیچھے بیٹھی سندری کو دیکھا اور کہنے لگا '' بھابھی میں نے آپ کو اور کشن سیٹھ کو سب سے زیادہ خوش تب دیکھا ہے، جب منوج چھوٹا تھا۔ تب آپ کے پاس پیسے تو نہیں تھے۔ لیکن خوشیوں کا انبار تھا۔ شاید پیسوں اور خوشیوں کا تال میل اکثر نہیں ہو پاتا ہے۔ وہ خوشی آپ کے پاس کہاں سے آتی تھی؟ منوج کے پاس سے ہی نا؟ ''
کشن لال نے کروٹ بدلی اور دوست کی طرف چہرہ کرکے بیڈ پر لیٹا رہا۔ جے رام ا سٹول دور کر کے اس طرح بیٹھ گیا، جس سے وہ کشن اور سندری دونوں سے مخاطب ہو سکے۔ پھر ٹھوڑی پر ہاتھ رکھ کراورپاؤں آگے پھیلا کر کہنے لگا۔
'' یار ایک بات بتاؤ، کیا ہمارے بچوں نے ہم سے آکر کہا تھا کہ آپ ہمیں پیدا کرو؟ ''
''ہم نے انہیں صرف اپنی خوشیوں کے لئے پیدا کیا تھا۔ بچے تو اپنے ساتھ خوشی کا خزانہ لے کر آتے ہیں اپنے ماں باپ کو دینے کے لئے۔ منوج کی پیدائش پر آپ لوگ کتنے خوش تھے۔ ہماری مینو جب پیدا ہوئی اس وقت ہم بھی بہت پرجوش تھے۔ننھی مینو کی خواہشیں پوری کرنے میں مجھے بے پناہ خوشی ملتی تھی ''
جے رام کی بات سن کر کشن لال گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ اسے یاد آ رہا تھا، معروف پینٹر ونسنٹ وینگی کی سوانح عمری'''لسٹ فار لائف'' میں ایک جگہ کہا گیا ہے کہ۔
'' محبت سے لطف محبت کرنے میں ہیں، محبت حاصل کرنے میں نہیں۔ہم جب اپنے بچوں سے محبت کرتے ہیں، ان کی تکلیفوں کو دور کرکے انہیں خوش دیکھتے ہیں، تو اپنی زندگی کی انمول خوشی حاصل کرتے ہیں۔ ہمارے بچوں نے ہمارے گھر پیدا ہوکر، ہم سے محبت کرنے کا سکھ دے کر، ہمیں بہت کچھ دے دیا ہے۔ اس سے زیادہ قیمتی صلہ ہمیں اور کیا مل سکتا ہے میرے دوست؟ '' یہ کہتے ہوئے جے رام اپنے دونوں ہاتھوں سے دوست کے ہاتھ پکڑ کر اسے تھپتھپانے لگے۔
جے رام کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ اس کے چہرے پر آ نے والے آنسو رک گئے تھے۔ کہا نہیں جاسکتا، رکے ہوئے آنسو دکھ کے تھے یا خوشی کے، یا پھر اپنی بیٹی مینو کی یاد کے،
جو شادی کے بعد کسی اور شہر میں جا بسی تھی۔



Category : Translation
Author : بنسی خوب چندانی / عامر صدیقی

DEEDBAN

Deedban Publications | N-103 Jamia Nagar New Delhi | Tel: +(91)-9599396218 | Email: deedban.adab@gmail.com
The copyright to all contents of this site is held by the authors of this site. Any kind of reproduction would be an infringement.