Publish Date : 2017-07-23

پدرسری سماج اور اردو کی دو نمائندہ شاعرات

دیدبان شمارہ پنجم 

پدر سری سماج اور اُردو کی دونمائندہ شاعرات

(قاسم یعقوب)

 

پدرسری سماج میں عورت جسم ہے ،بغیر نظر کے۔ تانیثی متن اس کے خلاف احتجاج کرتا ہے،اور اس کی ردّتشکیل کرتا ہے۔ 

 اُردو نظم کی دو اور اہم شاعرات نصیر انجم بھٹی ہیں جن کے بغیر تانیثی بحث نامکمل رہے گی۔ نسرین بھٹی کی کتاب ”مورا تم بن جیا اُداس“(١٩٨٨ء ) ، اور ”بن باس “(١٩٩٤ء)اہم تانیثی کتب شمار کی جاتی ہیں۔”بن باس “ کی ایک نظم ”ہم لڑکیاں“ ملاحظہ کیجئے:

 

کتنی تاویلیں کرو گے، مونا لیزا کی اکیلی مسکراہٹ کی

لڑکیاں تو دھرتیوں کا روپ ہیں

دکھوں کی لسٹ، سامنے دیوار پردل روز کے نسخے کے ساتھ

سُرخ اور کالے رنگوں سے لکھی جائے گی تو مانو گے۔۔۔

بتاﺅ کتنوں نے ہم میں سے دیکھا ہے فلک کو

چاندنی میں اشک ہنستے کس نے دیکھی ہے

گلی میں مُڑتے اک بچے کے ہاتھوں لمبی مسافت کا پہلا نشاں ہے

زندگی گرائمر کی طرح تجزیہ کر کے سلجھ جاتی تو اچھا تھا

مگر پوروں کے اوپر ہی نہیں جذبے تو سب پوروں کے اندر ہیں

میں کس ناطے کا طعنہ دوں

میں کس رشتے کوFlenon Boardپر Explainکر ڈالوں

اگرچہ پھر بھی ان سب میں سمجھ نہ آنے والی بات کوئی نہیں بنتی

فقط اک مسکراہٹ

گرم بارش سرد جذبوں سے چھڑالاﺅ تو سورج کے صحن میں

سبز کونپل مسکرائے گی

کوئی Sleeping Beautyجاگ جائے گی

 نظم میں ایک عورت کے مرد کے ساتھ تعلق کی نوعیت سماجی سطح پر زیرِ بحث لائی گئی ہے۔مرد سے مکالمہ جس انداز سے عورت کرسکتی ہے وہ مرد کا حصہ نہیں ہو سکتا۔مرد عورت کو اپنے تناظر میں دیکھتا آیا ہے۔ عورت بھی مرد کے بنائے ہوئے سماجی رویوں میں خود کو دیکھتی ہے اور اپنے اوپر وہی سماجی حدود لاگو کرتی ہے جو مرد کے سماجی مفادات کا تحفظ کرتی ہو۔عورت کے جرم کوسماج Flenonبورڈ پرلکھتارہتاہے اور عورت جس کی وضاحت کرتے عمر گزار دیتی ہے۔عورت کی سلیپنگ بیوٹی مرد کے لےے سلیپنگ سطح پر ہوتی ہے اور جو مرد کے اشارے پر ہی خوابیدہ لمحات سے نکل کر متحرک ہو جاتی ہے۔ مرد ہمیشہ ایک فاصلہ قائم رکھتا ہے۔ حالاں کہ عورت مرد کو خواب اور حقیقت دونوں حالتوں میں خواہشِ اول ہی سمجھتی ہے۔ ایک اور نظم ”ہر لڑکی“ میں نسرین انجم لکھتی ہیں:

اگر مجھے ایک اور جنم ملے تو میں بانس کے جنگل کاشت کروں

اور ہری دھوپ کے خیمے میں

اپنے محبوب کے لےے بانس کا عطر کشید کروں

اور اپنی پلکوں کے پنکھے میگھ راگ سے بُنوں

اور اپنے دل کی دوات میں انگلیاں ڈبو ڈبو کر

ہواﺅں پر اس کا نام لکھتی رہوں

 اس نظم کا عنوان ”ہر لڑکی“ ہے۔ کیا ہر عورت اسی طرح سوچتی ہے؟کیا ہر عورت کے ہاں مرد کا تصور ایک طرح کا ہوتا ہے؟ اس کا جواب شاید ہاں میں آئے۔ کیوں کہ سماجی سطح پر عورت کو باور کرایا جاتا ہے کہ وہ مرد افضلیت(Superiority)کو اپنے سماجی تصور میں یقینی بنائے۔ چوں کہ عورت پر مرد افضلیت کا ڈسکورس صرف سماجی حقیقت تک محدود نہیں رہتا بلکہ بیک وقت نفسیاتی و سماجی جبر کے طور پر اُس پر نافذ ہوتا ہے اس لےے وہ اس ڈسکورس کے جبر کو توڑ ہی نہیں سکتی۔یہ جبر صرف سماجی عمل میں ہی نہیں ہوتا بلکہ مذہبی پریکٹس اور اخلاقیات کی تھیوریاں بھی اسی جبر کی حمایت میں اُس پر عمل کرتی ہیں۔گویا مرد بھی بعض حالتوں میں مجبور ہوتاہے کہ اس تقسیم کو قبول کرے اور کروائے۔

  اسی لےے عورت کی محبت لافانی اور دیرپا وقوع پذیر ہوتی ہے کیوں کہ سماجی جبر اُسے مرد کے تصور کے علاوہ کوئی سماجی انتخاب نہیں دیتا۔مرد کے انتخاب کا مطلب مرد کو ہر حالت میں قبولنا ہے۔مرد کے مقابلے میں کسی بھی قسم کی سماجی خواہشات کو ترجیح نہیں بنا سکتی۔مرد کو رَد کرنے کا انجام معاشرتی اقدار سے دربدری ہے:

میں نے بازو بند پہنا اور اپنا رقص اپنے بدن میں لےے لےے پھری

پھر کبھی جی لینے کی آس پر میں نے زندگی کو ٹال دیا

میں نے پیلے دوپٹے میں سُرخ رنگ کی گرہ لگائی

وہ تو پہلے ہی اس تاک میں تھے کہ یہ گرے اور وہ اُٹھا لے جائیں

پس اُٹھا لے گئے وہ

 عورت کے لےے غلطی کی کوئی گنجائش نہیں۔وہ زندگی میں اسی ایک عہد کے ساتھ حصہ بنتی ہے لہٰذا اپنے عہد کی خلاف ورزی اُسے مہنگی پڑ سکتی ہے۔

 نسرین انجم بھٹی نے بہت تلخ لکھا اور عورت کی اصل آواز کو پیش کیا۔نسرین انجم کے ہاں عورت کا مکالمہ عورت کے ساتھ ہے مگر اس کا موضوع مرد ہے۔ عورت عورت کو سمجھا رہی ہے مگر مرد کو درمیان میں رکھ کر۔مرد کے استعارے نسرین کا بنیادی موضوع قرار پاتے ہیں۔کچھ احباب کو یہ اعتراض ہے کہ عورت جب لکھتی ہے تو وہ صرف مرد کو ہی مرکزِ گفتگو کیوں بناتی ہے، اس کا مطلب وہ مرد کو خود اولیت دیتی ہے اور اُس سے حقوق کی جنگ میں خود کو دوسرے درجے پر لا کھڑا کرتی ہے۔مگر اس اعتراض پر نسرین کی نظمیں جواب دیتی ہیں۔نسرین عورت کو عورت پن سے آگاہ کرتی ہے جس کے لےے مرد کے حوالوں کا آنا عین ضروری ہے۔ مرد کی سماجی تشکیلات یا حصار بندیاں عورت کو کبھی آزاد کر ہی نہیں سکتیں جب تک عورت اُسے اس شعور سے نہ گزارے کہ وہ مرد مرکز معاشرے میں قید ہے اور اُسے اپنی اندر کی عورت کے ساتھ پہلے رہنے کا حق ہے۔

 شائستہ حبیب کی کتاب ”سورج پر دستک“(١٩٨١ )اورپروین شاکر کی کتاب خوشبو“ نے بھی اُردو تانیثی فکریات کو ایک نیا رجحان دیا۔شائستہ حبیب تازہ کارنظم نگار ہیں جو پروین شاکر کی تانیثی رویوں کے بہت قریب ہیں۔پروین شاکر نے عورت سے زیادہ عورت کے اندر ایک ”لڑکی“ کو دریافت کیا۔ ایک ایسی لڑکی جس کے پاس طنطنہ اور غرور ہے جو مرد کو اپنی انا سے آگاہ کرنا جانتی ہے۔ایسی لڑکی جس میں لڑکی نہیں بلکہ ایک مکمل انسان کا روپ موجود ہے۔جو ہنستا روتا ہے، ناراض ہوتا ہے، اپنی مرضی کا خود مالک ہے۔جس کے پاس جذبے بھی ہیں، فکربھی اور حساسیت بھی۔ ایسا فطری انسان جو محبت کر سکتا ہے تو نفرت بھی کر سکتا ہے۔ جس کے پاس قبول کرنے کی صلاحیت ہے تو رد کرنے کا اختیار بھی ہے۔یہ سب خاصیتیں پہلے مرد کے پاس تھیں۔ پروین شاکر کے ہاں ایک ”طاقت ور“ لڑکی جنم لیتی ہے:

میں کیوں اُس کو فون کروں

اُس کے بھی تو علم میں ہوگا

کل شب موسم کی پہلی بارش تھی

 یا

کمالِ ضبط کو خود بھی تو آزماﺅں گی

میں اپنے ہاتھ سے اُس کی دلہن سجاﺅں گی

وہ جہاں بھی گیا لَوٹا تو مرے پاس آیا

بس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی

وہ تو خوشبو ہے ہواﺅں میں بکھر جائے گا

مسئلہ پھول کا ہے ، پھول کدھر جائے گا

سب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو تھا ایسے دیکھتا

ایک دفعہ تو رُک گئی گردشِ ماہ و سال بھی

  یہ اگرچہ غزل کے اشعار ہیں مگر یہی لہجہ نظموں میں بھی جا بجا نظر آتا ہے۔عورت مرد کو انا دکھا رہی ہے، اُس کو اپنی حیثیت کا ادراک کروا رہی ہے۔ پروین شاکر کے ہاں پہلی دفعہ ایک نئے سماج کی تخلیق کا اشارہ ملتا ہے۔وہ کہتی ہے کہ صرف مرد ہی عورت کو نہیں دیکھتا عورت بھی مرد کا انتخاب کر سکتی ہے۔پروین بتاتی ہے کہ مرد کتنا بے چارہ ہے کہ کہیں بھی چلا جائے اسی ”گٹھیا“ عورت کے پاس ہی واپس آتا ہے۔

 پروین شاکر نے اُس لڑکی کو اپنی نظموں اور غزلوں میں پیش کیا جو نئے سماج میں اپنے حقوق سے آگاہ ہو رہی تھی جو مرد کے بنائے سماج سے انحراف کا اعلان کر چکی تھی۔جو لڑکی کو ایک انسان دیکھنے اور دکھانے پر بضد ہے۔



Category : Criticism
Author : قاسم یعقوب

DEEDBAN

Deedban Publications | N-103 Jamia Nagar New Delhi | Tel: +(91)-9599396218 | Email: deedban.adab@gmail.com
The copyright to all contents of this site is held by the authors of this site. Any kind of reproduction would be an infringement.