Publish Date : 2017-07-30

(پسِ غبار سفر ناول (تیسری قسط

دیدبان شمارہ پنجم 
ناول: پسِ غبار سفر
(تیسری قسط) 

خالد قیوم تنولی 

باب (۶ )

 
 جب رات اپنا سحر پھونک پھونک کر ہانپنے لگی تو ہم دونوں نئے سرے سے جاگ اٹھے۔ میرے تن بدن میں حِدت سر اٹھانے لگی۔ جسم کی قید میں روح سلگنے لگی۔
 وقت کی چھت سے ساعتیں قطروں کی مانند گر رہی تھیں۔
 میں اپنے اندر کی ہیبت ناک خاموشی سے لرزنے لگا۔
 ’’کوئی بات کرو آمنہ!‘‘
 ’’کیا۔۔۔ کیا بات کروں؟‘‘
 ’’کوئی بھی بات۔۔۔ کچھ تو کہو‘‘
 وہ میرے قریب ہوئی اور برسوں کے گم شدہ محبوب ہاتھوں سے میرا سر سہلانے لگی۔ میں سیدھا لیٹا پلک جھپکے بنا آسمان کی سیاہ چادر پر ٹنکے نجوم کو دیکھے گیا۔ پہلو میں میٹھے سے درد نے ہلکے سے چٹکی لی۔ ہم نفسی کے معکوس لمس کا کیسا اثر تھا۔ اتنے بہت سے آنسو جانے کہاں سے اُمڈ آتے ہیں۔
 ’’ارے! آپ رو رہے ہیں؟۔۔۔۔ کیوں فہیم۔۔۔ کیا ہوا؟‘‘
 میں نے ہاتھ بڑھا کر اُسے قریب کیا اور پھر خود سے لپٹا لیا۔
 ’’نہیں تو۔۔۔۔‘‘
 ’’بتائےے ناں!‘ اس کی آوازرُندھ گئی۔
 ’’تمہیں یاد ہے آمنہ جب میں پہلی بار تم سے ملا تھا؟‘‘
 ’’ہاں!میں سیڑھیوں پر بیٹھی تھی اور آپ پہلی بار آئے تھے، بہت نیچے سے ، نشیبی جنگل میں سے گزر کر جس میں اسرار تھے، آبشار تھے، خودرو پھول تھے، پرندے اور ان کی مسحور کُن چہکار تھی۔۔۔ اور بارش تھی۔۔۔ آپ پہلی بار اتنی بلندی تک آئے تھے۔۔۔اپنے جذبوں کو آزمانے اور مایوس ہوئے تھے۔۔۔ اور مجھے رنجیدہ کیا تھا۔ آپ محبت کے ڈھنگ سے نا بلد،بے نیاز اور بے خبر تھے۔۔۔۔ جس جذبے کی تتلی کی آپ کو تلاش تھی وہ آپ کی پیٹھ پر بیٹھ گئی اور آپ جہاں بھر میں اُسے کھوجنے چلے۔ مجھے یاد ہے فہیم!۔۔۔۔میں جانتی تھی۔ آپ آئیں گے۔ دوبارہ آئیں گے۔۔۔ اور مجھے انتظار کرنا تھا جو کہ میں نے کیا۔ آپ جانتے ہیں کہ میں نے ایسا ہی کیا۔ کیا یا نہیں فہیم؟‘‘
 ’’ہاں!تم نے کیا آمنہ!‘‘
 ’’مجھے یاد ہے۔۔۔۔ سب۔۔۔۔ اور وہ بھی کہ آپ ڈوبنے سے خوف زدہ رہا کرتے تھے۔ بہت زیادہ سوچتے نہ تھے کہ مبادا ڈوب جائیں ۔ میں نے آپ کو۔۔۔ اور آپ کے نام کو۔۔۔۔ ہوائوں کے دوش پر تیرتے ہوئے آپ کے نام کو ہر لمحہ یاد رکھا جو ہر شام کسی بھٹکی ہوئی بازگشت کی طرح مجھ تک پہنچتا تھا۔۔۔ اور میں سیڑھیوں پر بیٹھی رہتی۔ آپ کے جانے کے بعد کئی بار میں نشیبی جنگل میں گئی۔ ۔۔ اورآپ کے نقشِ قدم تلاشے۔۔۔ انہیں بوسے دیے۔ ۔۔۔ اور آپ کی یاد کی خوشبو کو پہروں سمیٹتی رہی۔۔۔۔ مجھے یاد ہے فہیم!۔۔۔۔ وہ سگریٹ بھی جسے آپ تیز ہوائوں میں سلگانہ سکے تو جھنجھلا کر پھلواری کی سمت اچھال دیا۔ ۔۔۔ اور آپ کی پیشانی میں ایک شکن ابھر آئی تھی ۔۔۔۔ ساعتی اور خفیف سی شکن۔ اور وہ بھی جب آپ نے اخروٹ کے تنے پر کچھ لایعنی سی کھرنچ اپنی انگشتِ شہادت کے چمک دار ناخن سے ڈالی اور درونی اضطراب کے باعث اپنی کھلی اور کھڑی ہتھیلی سے تنے کو تھپتھپایا۔۔۔۔ تب پتوں کی اوٹ سے آنے والی سورج کی ایک طاقت ورکِرّن نے آپ کی انگوٹھی کے ننھے سے نگینے کو ایک دم ستارہ بنا ڈالا ۔۔۔۔ اور آپ نے خود سے کہاتھا کتنا قدیم ہے یہ نام ۔۔۔ ’آمنہ‘۔۔۔۔ کہا تھا کہ نہیں فہیم؟‘‘
 ’’ہاں! ہاں!۔۔۔۔کہا تھا‘‘
 ’’اور وہ منظر بھی جس میں آپ ایک تین دن کے بلونگڑے کو پیار سے اٹھائے، سہلاتے ہوئے مسکرائے جاتے تھے۔ آپ کے جانے کے بعد میں نے آپ کے اس مشفقانہ رَوّیے کو اپنی عادت بنا ڈالا۔ پہروں چوبی سیڑھیوں پر بیٹھ کر دُور نیچے نشیبی جنگل کی طرف دیکھا کرتی۔۔۔۔ اور بلونگڑے کی پیٹھ سہلاتی رہتی اور مسکرائے جاتی۔۔۔ پندرہ سال بیت گئے فہیم!۔۔۔۔ لگتا ہے آج کی بات ہو۔۔ ۔ نہیں بلکہ ابھی کچھ دیر ہی گزری ہو جیسے۔۔۔۔ ہے ناں فہیم؟‘‘
 ’’ہاں ! خدا کی قسم ۔۔۔ شیطانی حافظہ ہے تمہارا۔۔۔ کیا چیز ہو تم آمنہ ؟‘‘
 جواباً اس کی ہنسی کی کھنکھناہٹ اور سانسوں کی آنچ مجھے میری گردن پر محسوس ہوئی ۔ 
 ’’جب آپ واپس جا رہے تھے تو۔۔۔۔‘‘
 ’’ٹھہرو۔۔۔ٹھہرو۔۔۔ میں بتاتا ہوں!‘‘
 ’’بتائیے!‘‘
 ’’تم نے کہا تھا کہ ۔۔۔ میں ممنون ہوں تمہارے ان ہانپتے سانسوں کی جنہیں تم بہت نیچے سے اتنی بلندی تک لائے۔ جب تم جنگل میں سے گزرو تو خود رو پھولوں کی پتیوں کو مسل نہ دینا جو دل کی مانند نازک ہوتی ہیں ۔ جب تم سیٹی بجاتے ہوئے لا ابالی پن سے جنگلی بیلوں کی چھاؤں تلے گزرو تو خیال کرنا کہ محبت سائبان ہوتی ہے۔ جب چشموں کے پاس سے گزرو تو ذرا تصور میں لانا کہ وہ آنسو کبھی بے توقیر نہیں ہوتے جو پوری دیانت داری کے ساتھ کسی کی یاد میں گالوں پر بہہ نکلتے ہیں ۔ جنگل میں چند کٹھن مقام بھی آئیں گے ۔ بھٹک نہ جانا کیوں کہ بعض پگڈنڈیاں کسی گہری کھائی کے دہانے تک پہنچا دیتی ہیں سوچنا کہ وہ کون سی خوبی ہے جو دائم یاد رکھی جا سکی۔۔۔۔اور ہاں یاد رکھنا کہ جس سے کوئی ایک بھی سچی الفت رکھنے والا ہو تو وہ کبھی نہیں ڈوب سکتا۔۔۔ کبھی غروب نہیں ہو سکتا۔ یہی سب کچھ کہا تھا نا تم نے آمنہ؟‘‘
 وہ وفورِ محبت سے لرز اُٹھی اور اس کی جسمانی تھرتھراہٹ برقی رو کی طرح میرے جسم کے آر پار ہو گئی:   ’’ہاں یہی لفظ تھے۔۔۔ بالکل یہی۔۔۔ سوفیصد۔۔۔ آپ نہیں بھولے آج تک‘‘
 ’’تمہاری دعائوں نے مجھے ہمیشہ سلامت رکھا‘‘
 ’’میں آپ کو یاد رہی؟‘‘
 ’’یاد سایہ نہیں ہوتی آمنہ!۔۔۔ جو تاریکی میں تنہاچھوڑ دے اور اجالے میں ساتھ چلنے لگے‘‘
 ’’واقعی! انسان اپنی عدم موجودگی میں اپنے ہونے کا کچھ حصہ پیچھے رہ جانے والوں کے لیے چھوڑجاتا ہے ۔ ۔۔ اپنی حرکات، افعال، ادائوں اور عادات کو نادانستہ طور پر چھوڑ جاتا ہے ۔۔۔ اس کی ہنسی رُلاتی ہے۔ مشامِ جاں اس کے وجود کی مہک سے معطر رہتے ہیں ۔۔۔ جب اداس ، بدگمان اور بدظن ہونے لگیں تو۔۔۔ اس کی ماورائیت آپ کو پُر امید اور باحوصلہ کرتی ہے ۔ بے آسرے پن میں روشنی کی کرن کی طرح آپ کا مطلوب و محبوب روپ آپ کو شانت رکھتا ہے ۔۔۔۔ اور اپنے غیر مرئی دست و بازو سے آپ کے منہدم ہوتے بدن کو سہارنے لگتا ہے ۔۔۔ کوئی چاہے کتنا ہی بن باس لے۔۔۔ پھر بھی وہ ہمارے ساتھ رہتا ہے‘‘
 ’’ہاں آمنہ!۔۔۔ ابتدا میں جسے ہم محبت کا عنوان دیتے ہیں لیکن اس کی مبادیات سے لا علم رہتے ہیں اور اپنی نافہمی کی بہ دولت جسے ہم اپنی سستی جذباتیت کے ہاتھوں بہ عجلت رَد کر دیتے ہیں ۔۔۔ اور نہیں سمجھ پاتے کہ محبت اصل میں ہے کیا۔۔۔ اور اس کی اشد احتیاج کب در پیش ہوگی۔۔۔ ہم گزر جاتے ہیں جیسے گاڑی سنگِ میل کو پیچھے چھوڑ جاتی ہے۔ پھر ہمیں اچانک یاد آتا ہے کہ جو گزر گیا وہ کون سا سنگ ِمیل تھا؟۔۔۔۔ غفلت کا یہ احساس ہمیں باوجود حرکت پزیر ہونے کے اسی گزرے ہوئے سنگِ میل سے وابستہ رکھتا ہے۔۔۔۔اور ایک بے پناہ آرزو ہمیں پلٹ آنے کے ارادے کا پابند ٹھہراتی ہے اورچھُوٹے ہوئے سنگ میل کا پُورا نقش دائم ہمارے تخیل میں قائم رہتا ہے۔۔۔ تم۔۔۔ تم آمنہ! وہی سنگِ میل تھیں جو مجھ سے چُوک گیا تھا۔۔۔ اور جب تم نا گزیر ٹھہریں تو میری آرزو اور خانم کا حکم میرا ہاتھ تھام کر مجھے اسی نشیبی جنگل کے آغاز پر چھوڑ گئے۔۔۔ اس تمام عرصے میں مَیں نے سینکڑوں دن مضطرب اور اتنی ہی راتیں بے قرار گزاریں۔۔۔۔ میں وجوہات سے غافل رہا۔۔۔ مگر وہ جو الم تھا اُس نے مجھے تم سے لا علم نہیں رکھا۔ کاش وہ غافل عرصہ ہمارے درمیان کبھی نہ آتا۔۔۔ اور ہم اتنے اندوہ سے کبھی دو چار نہ ہوتے‘‘
 ’’دراصل فہیم انسانی زندگی سطح مرتفع کی سی ہے۔۔۔۔ کہیں نشیب تو کہیں فراز۔۔۔۔ کہیں کھائیاں تو کہیں ابھرواں ٹیلے۔۔۔ انسان ایک خلا کو بھرتا ہے مگر دوسرا آپوں آپ رہ جاتا ہے۔ جیسے سلائی کے ٹانکوں کے بیچ ایک وقفہ۔۔۔۔ جس نے بہ ہر طور رہنا ہے۔۔۔۔ اسی توازن میں سلائی کا حُسن ہے۔ وقفے نا گزیر ہیں ۔۔۔ ان کے نہ ہونے سے حُسن پیدا نہیں ہوتا۔ ان وقفوں میں یاد ہوتی ہے ۔ آپ میرے سامنے اتنا تو نہ ٹھہر سکے کہ میں ایک مکمل تصویر ہی بنا سکتی لیکن جس جس نظر میں آپ کے جتنے بھی پہلو سما سکے تو زندگی بتانے کے لیے وہ بھی کافی تھے۔ تخیل کے لیے مادی اساب کا ہونا ضروری نہیں ۔ عین ممکن ہے کہ جسے آپ نے کبھی نہ دیکھا ہو۔ البتہ ایک اصل شبیہہ آپ کے ذہن کے پردے پر مرتسم ہو جائے۔۔۔ تصویر کا کیا ہے ۔۔ دل پر بنے۔۔۔۔ ذہن میں ۔۔۔ یا کینوس پر۔۔۔ تصویر کا کیا ہے‘‘
 ’’تم کبھی خانم سے ملیں؟‘‘
 ’’ہاں!‘‘
 ’’کیا؟ ۔۔۔۔ واقعی؟۔۔۔۔؟؟‘‘ میں ایک جھٹکے میں اٹھ بیٹھا۔۔۔ ’’مگر کہاں؟۔۔۔کب؟۔۔۔ اور کیسے؟ کیسی تھیں وہ؟‘‘
 ’’کئی بار۔۔۔ہر جگہ۔ لیکن فہیم ہماری ملاقات یوں نہیں ہوئی جیسا کہ آپ کے ذہن میں ہے۔ آپ نے انہیں دیکھا اور ان کی قربت میں رہے۔ اس کئی بار کے مشاہدے کی وجہ سے وہ آپ کی یاد اشت کے ایک مخصوص گوشے میں قائم ہیں ۔۔۔ ارتقا سے محروم، جامد اور آخری بار دیکھے ہوئے منظر کی طرح بے حرکت۔ عین اس تصویر کی طرح جو آپ نے ان کے تصویری البم سے اُچک لی تھی۔ جامد منظر میں عمر کا کوئی ایک لمحہ تھا وہ ۔۔۔ البتہ میں انہیں زندگی کا قرض چکاتے ہوئے آج بھی دیکھتی ہوں ۔ ہمارے درمیان ایک ایسا ربط بحال ہے جو سائنسی آلات کا محتاج نہیں۔ یہ خواب اور خیال کا واسطہ ہے جس کی بہ دولت ہم مل لیتے ہیں ‘‘
 ’’یہ کیسے ممکن ہے۔ میری بساط سے باہر کا معاملہ ہے یہ!‘‘
 ’’جب طلب اپنی صداقت کے نہایت غایت درجے تک جا پہنچے تو کچھ روحانی قوتیں فعال ہو جاتی ہیں ۔ بس بات اسی طلب کی ہے اور یہ بھی کہ جب مقاصد ہم آہنگ ہو جائیں ۔۔۔ اگر طلب کی شدت مقررہ اور متعینہ پیمانے تک رسائی پالے تو وہ فریکوئنسی خود بہ خود مل جاتی ہے جو کثافتِ مادہ میں سے گزر جاتی ہے۔ روحانیت کے بھی کچھ خاص پیرا میٹرز ہیں۔ یہ ہاتھ لگ جائیں تو کوئی مشکل پھر مشکل نہیں رہتی۔ چونکہ آپ کی طلب، صداقت کے حتمی درجے تک پہنچنے سے قاصر ہے۔۔۔ اس لیے آپ اس لطیف رابطے سے محروم ہیں جو فاصلے کو معدوم کر دیتی ہے۔آپ یاد میں زندہ ہیں اور میں ہر حال میں انہیں اپنے ساتھ موجود پاتی ہوں ‘‘
 ’’مگر وہ ہیں کہاں؟ کیسی ہیں؟ آخری بار کب ملی تھیں تم سے؟‘‘
 ’’زندہ ہیں۔۔۔ بہت مطمئن ہیں ۔۔۔ ابھی جو کچھ ہم نے کہا سُنا، وہ اس کی سامع و ناظر تھیں۔ ہمارے ساتھ تھیں ۔ ابھی تو گئی ہیں ۔ ۔ ۔۔ مگر فہیم! وہ جس سلطنت میں رہتی ہیں وہاں کے قواعد و ضوابط بڑے کڑے ہیں ۔ اپنی مرضی نہیں رہتی۔ آزرو نہیں رہتی، ذرا جو کئی بے قاعدہ یا بے ضابطہ ہوا تو معزول کر دیا جاتا ہے ۔ پابندِ سلاسل ہو جاتا ہے۔ سارے اعزاز و اختیارات چھین لیے جاتے ہیں ۔ ہاروت و ماروت کی طرح باقی تمام عرصہ اندھے کنویں میں الٹے لٹک کر بسر کرنا پڑ جاتا ہے یا پھر دائمی جدائی کے صحرا میں پھینک دیا جاتا ہے ۔ ۔۔ ساری عمر بھٹکتے ، بلکتے  اور تڑپتے گزر جاتی ہے ۔۔۔ کھلے ہوئے کواڑ بند کردیئے جاتے ہیں ۔ جلوے سے محرومی کا عذاب ، قبر کی اذیت سے سو گنا زیادہ ہے فہیم!۔۔۔۔ اس تجارت کا مت پوچھو جس میں سوائے سوز کے کچھ نہیں ۔۔۔۔ یہاں تو موت پر بیعت ہوتی ہے اور جزا سے دست کش ہو جانے کا معاہدہ ۔۔ دوسری کوئی صورت ہے ہی نہیں ‘‘
 ’’ان کی نگاہ میں میرا مقام کیا تھا؟‘‘
 ’’آپ نے ہمیشہ اُن کا مان رکھا۔۔۔ آپ کویوں دیکھ رہی تھیں جیسے چرواہا گم ہو کر دوبارہ مل جانے والی بھیڑ کو محبت سے دیکھتا ہے‘‘
 یہ سن کر میں نے اپنے بال نوچے اور گھٹی گھٹی چیخوں سے رونے لگا۔
 آمنہ نے نہایت انسیت اور درد مندی کے ساتھ مجھے خود سے لپٹا لیا اور ھیرے دھیرے کہنے لگی:
 ’’وقت کی بہتی رَو کا کوئی بھی سِرا گرفت میں نہیں آتا فہیم!۔۔۔۔ مگر ہم اپنی عزیز صورتوں کی مہک تو پا سکتے ہیں جو اس کی مُہین اور غیر مرئی لپٹوں میں مخفی ہوتی ہے۔ خوب روشن چراغ کی ٹھنڈی لو کے عکس کی طرح جو ہمیں امکان سے جاملاتی ہے۔ وہم ِذات کا آشوب ناقابلِ علاج ہوتا ہے فہیم!۔۔۔۔ جب ہم زمینِ دل پر محاسبۂ ذات کی جاروب کشی نہیں کرتے اور توکل و تقویٰ کا غالیچہ نہیں بچھاتے تو ان گنت توہمات کے جھاڑ جھنکار اُگ آتے ہیں دل کے ایک سرے پر اُجاڑ قبرستان نمود پانے لگتا ہے۔۔۔ ویرانی، مایوسی اور بدگمانی کا گورستان جس میں کوئی دیا نہیں جلتا اور نہ ہی وہ قدم رکتے ہیں جنہیں رسم ِدُعا ادا کرنا ہوتی ہے۔ خدارا دامن ِ صبر تھامیے!۔۔۔ محبت اور اس سے منسلکہ عقیدت کو کسی اجر سے منسوب مت کیجیے۔۔۔۔ اور شکر ادا کیجئے جس نے آپ کو درد کی دولت سے نوازا۔۔۔۔ اس شرف سے محروم مت ہوں فہیم!۔۔۔ ذرا اپنی بے تاب عقیدت کے صدقے مجھے اس کوچہ گرد مغنی کے نغمے کے وہ بول تو سنائیں جو آپ نے ناریل اور پام کے جھنڈ اور قرمزی ریت والے ساحل پر سنا تو آپ احساس ِ ہجر سے آزردہ ہوئے اور آپ کی آنکھیں روئیں ۔۔۔ کیا تھے وہ بول فہیم؟‘‘
 ’’جانتی ہو آمنہ وہ مغنی کون تھا؟‘‘
 ’’بتائیے؟‘‘
 ’’وہی پھول بانٹنے والا۔۔۔۔ خانم کا سفیر۔۔۔ جو ہمیں ہر روضے پر ملا کرتا تھا!‘‘
 ’’آپ پھر بھی خانم کے اسلوبِ عنایت کو نہیں سمجھ سکے۔۔۔ آپ نہیں جان سکے کہ سلوک و طریقت کے بے شمار رنگ ہیں مگر کوئی بھی راستی کی حد سے باہر نہیں ہوتا۔۔۔ چلئے آپ نے اس مغنی کو کیسے پہچانا؟‘‘
 ’’اس نے اپنے سفری تھیلے میں سے مٹھی بھر گلاب کی پتیاں دیتے ہوئے کہا تھا دنیا اتنی بڑی نہیں جتنی تو سمجھتا ہے۔۔۔۔ اطمینان اندر ہونا چاہیے۔۔۔ اور تُو باہر ڈھونڈنے چلا بڑی نعمت بڑے برتن میں سماتی ہے۔ دل دنیا سے بہت بڑا ہے میرے بھائی جس میں کائناتیں سما جاتی ہیں۔۔۔‘‘
 آمنہ یہ سن کر مسکرائی۔ سازشی مسکراہٹ تھی اُس کی جس میں کوئی راز محفوظ نہیں ہوتا۔
 ’’بہر حال سنائیے تو ۔۔۔۔!‘‘
 میں نے اس کی خواہش کی تعمیل میں چند مصرعے دہرائے:
 "El amor qu'es fino amor,
 n procura .... n galardning,
 lo es remedia; esto es,
 ver es que la cousa ennoblece,
 aquela pena que crece."
  کامل عشق کے لیے لازم ٹھہرا کہ وہ حصول سے دست کش ہو جائے۔ اس لذیذ زہر کا یہی تریاق ہے کہ بس بخشے ہوئے درد پر اکتفائے صبر کیا جائے 
 ’’صداقت کو کسی بھی زبان کا پیرہن پہنائیے وہ اپنی اثرپزیری سے محروم نہیں ہوتی‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ دوسرے پلنگ پر محوِ خواب مریم کو دیکھتے ہوئے بولی:
 ’’اِس کی پیدائش سے قبل میرے اور خانم کے دمیان ایک کہر جیسی دیوار حائل تھی۔ کبھی خواب میں یا کسی خیال میں ڈوبی ہوتی تو ایک ازحد شفیق اور شیریں آواز مجھے سنائی دیا کرتی۔ مجھے میرے نام سے مخاطب کرکے یک طرفہ گفتگو ہُوا کرتی۔ ۔۔۔ شروعات میں مَیں اسے اپنا وہم سمجھی مگر پھر مجھے میرے سوالوں کے جواب ملنے لگے۔ کبھی یوں ہوتا کہ غیر مرئی ہاتھ میرا سر سہلانے لگتے جن کی گرمی اور ملائمت سے مجھے اپنی رحیم و کریم ماں کی یاد آجاتی۔۔۔ کئی بار چاہا کہ ملتمس ہوں کہ پردے جو حائل ہیں انہیں سرکا دیجئے اور دل کو دیدار سے بھر دیجئے مگرکہہ نہ پائی۔۔۔یہ ایسی لطف انگیز کیفیت ہوتی ہے فہیم کہ جو اس میں مبتلا ہواوہ اس سے شفایاب ہونے پر کبھی راضی نہیں ہوتا۔۔۔ جیسے دائم رہنے والا تاپ جس میں وجود کا انگ انگ میٹھے، مستقل اور مسلسل درد سے کھنکھناتا رہتا ہے۔ مریم پیدا ہوئی تو مہینوں میری حیرت کو کہیں ٹھکانہ نہیں ملا۔ میں آپ کی جانب سے گرفت کی منتظر رہنے لگی۔ دھڑکا لگا رہتا کہ آپ کسی دن اس گمبھیر راز سے متعلق استفسار کریں گے۔۔۔ لیکن آپ نے آج تک ایسا نہ کیا۔۔۔ مریم میں ہم دونوں میں سے کسی کا بھی عکس نہیں ۔ وہ خانم کی صفا ت لے کر ہمارے جیون سانجھ کے افق پر نمودار ہوئی۔۔۔ البتہ آپ نے کبھی نہ پوچھا کہ یہ ایسی کیوں نہیں جیسے ہم ہیں ‘‘
 ’’وہ بوڑھا چرواہا جس نے مریم کو گھٹی پلائی تھی، یاد ہے تمہیں ؟‘‘
 ’’ہاں یادہے!‘‘
 ’’ایک دن جب میں اس کی اقتداء میں عبادت سے فارغ ہوا تو اس نے پوچھا تھا کہ میرا خانم سے کیا رشتہ ہے‘‘
 ’’ارے! کمال ہے اسی بزرگ چرواہے کی بیوی نے بھی مجھ سے پوچھا تھا کہ میں خانم کی بیٹی تونہیں ؟۔۔۔ میں یہ سن کر حیرت سے ماؤف سی ہو گئی اور چپ چاپ اسے دیکھے گئی تو اس نے نادم سی ہو کر کہا۔۔۔ ’کیوں کہ آپ کی بچی بالکل اُن جیسی ہے‘۔۔۔ پھر وہ اِدھر اُدھر کی عام سی باتوں کو چھیڑنے لگی‘‘
 ’’میں نے بوڑھے چرواہے کو بہت کُریدا مگر وہ طویل خاموشی اختیار کر لیتے‘‘
 ’’او رآپ نے مجھے آج تک نہیں بتایا کہ آپ جان گئے تھے‘‘
 ’’تم نے بھی تو نہیں بتایا ناں مجھے‘‘۔ میں نے اس کے زانوئوں سے اپنا سر چھڑاتے ہوئے محبت بھرا گلہ کیا جو کہ بہ ہر حال بلا جواز تھا۔
........................

باب (۷)
 
میرے ہاتھوں کی جلد کے نیچے قدیمی زخموں کے ناسور جاگ اٹھے ہیں اور انگلیوں کی پوروں کے اندر لہو رسنے لگا ہے۔ شب کے سناٹے کے وجود پرصریر خامہ گہری خراشیں چھوڑے جا رہی ہے۔ خدشہ ہے کہیں مریم کی نیند میں خلل نہ واقع ہو۔۔۔ سو عیارانہ احتیاط اور رفتار سے لکھتا چلا جا رہا ہوں۔
 خاموشی کے طویل وقفوں کے دوران شبینہ چوکیداروں کی سیٹیوں کی گونج سنائی دے جاتی ہے۔ وہ اپنے فرض اور میں اپنے قرض سے مجبور ہوں۔ ٹھہرئیے! مریم کروٹ بدل رہی ہے۔باطنی اندوہ کی کوئی دل خراش سسکاری اس کے بند لبوں کے پیچھے گھٹ کے رہ گئی۔آہ۔۔۔! میری معصوم بچی!۔۔۔ جس کے گالوں پر اشک اپنے نشانات چھوڑگئے۔ میں ذرا اس کا کمبل درست کرلوں اور انگیٹھی میں چند مزید کوئلے ڈال دوں۔ باہر برف باری شدت پکڑ چکی اور کمرے میں ٹھنڈ۔
 یہ وسوسوں اور واہموں نے کیوں میری سوچوں کی راہ روک لی؟
 ۔۔۔۔تو میں بتا رہا تھا کہ میں نے آمنہ کے زانوؤں سے اپنا سر چھڑاتے ہوئے محبت بھرا گلہ کیا جو کہ بلا جواز تھا۔ 
 چند ساعتیں یوں گزریں کہ ہم نے کوئی بات نہ کی۔ پھر میں ہی بولا:
 ’’آمنہ! اب تم کس مقام پر ہو؟‘‘
 ’’پتہ نہیں فہیم۔۔۔۔ کسی کو اپنے مقام کی خبر نہیں۔۔۔ میرا مطلب ہے ہم جیسے عامیوں کو تو بالکل ہی نہیں۔ جب زندگی کو بہ یک وقت خوف اور امید لاحق ہو تو مقام کی فکر معبود ِبرحق کی رضا سے منسوب کر دینی چاہیے۔ جسے مقام کا تردد ہُوا، جانیے کہ وہ ہلاک ہوا۔ جس نے اپنی قیمت خود مقرر کی اور پھر بہ ضد ہوا تو سمجھئے کہ وہ بے حیثیت ہُوا۔ جب حضرت یوسف ؑ نے اپنے جمال کا آئنے میں مشاہدہ کیا تو خود بین ہوئے اور خود کو بے مثال جانا لیکن بازارِ مصر میں بِکے تو محض سترہ کھوٹے سکوں کے عوض۔ تب انہوں نے خود کو ہیچ جانا اور غمگین ہوئے۔ تاہم عزیزِ مصر نے خریدا تو سونے کے انبارِ کثیر کے بدلے۔ پھر وہ خوش ہوئے اور اپنے آپ پر نازاں بھی۔۔۔ اُسی وقت الہام ہوا کہ قیمت تو دراصل وہی تھی یعنی سترہ کھوٹے سکے۔ اپنا مقام جاننا خود کو مبتلائے آفت کرنے کے مترادف ہے۔ جذبۂ عشق سلامت رہے تو کیابُرا ہے کہ دمِ آخریں، درِ محبوب پر زندگی تمام ہو جائے۔ محب پر لازم ہے کہ دستکیں دیئے جائے۔ کبھی تودر کھلے گا۔۔۔۔ صرف دستکیں فہیم!۔۔۔ صرف دستکیں۔۔۔۔‘‘ یہ کہتے کہتے آمنہ میرے پہلے سے یوں اٹھی جیسے خزاں رسیدہ پتہ ٹہنی سے جدا ہوتا ہے۔
 ’’آمنہ۔۔۔۔؟‘‘
 ’’درِ یار پہ دستک دینی ہے فہیم۔۔۔ آئیے۔۔۔ دونوں کوشش کریں‘‘
 کتنا دشوار ہے نفس کی مخالف سمت میں بڑھنا۔ اس لمحے اپنی جمود زدہ کیفیت سے باہر نکلنا از حد دشوار لگا۔ مگر آمنہ کی معیت میں نکلا تو احساس ہوا کہ مخالفت سے موافقت میں چلے آنے میں اپنا کوئی کمال نہیں۔ یہ توفیق کے معاملے ہیں۔
 رجعت کے وہ لمحات رقت انگیزی سے نڈھال ہوگئے۔
 سپیدۂ سحرا بھی دُور تھا۔
 ’’گِریہ کیوں طاری ہوتا ہے آمنہ؟‘‘
 ’’کیوں کہ سفر باقی ہوتا ہے۔ جب تک راہ نہیں کٹتی، آنسو بھی نہیں تھمتے‘‘
 ’’آنسو کب تھمتے ہیں ؟‘‘
 ’’جب منزل مل جائے‘‘
 ’’منزل کب ملتی ہے ؟‘‘
 ’’کوئی جیتے جی مر کے بھی پالیتا ہے‘‘
 بلونگڑا مارے خوف کے اپنے آپ میں دبک گیا۔ وہ میری جانب مُڑی اور بولی:
 ’’حُبِ مجاز میں انس کی اصلیت جوں ہی منکشف ہو تو ابہام، شبہات اور خدشات بھاپ کی طرح اُڑ جاتے ہیں۔ حجابات یک دم نہیں اُٹھتے۔ مراحلِ شوق دفعتاً طے نہیں ہوتے۔ پانی مطلوبہ اور متعینہ درجے سے پہلے نہ کھولتا ہے اور نہ جمتا ہے۔ اس راہ میں کوئی شارٹ کٹ نہیں آتا۔ کوئی چور دروازہ نہیں ہوتا۔ گیلی لکڑی کو آگ فوراً نہیں جلاتی۔پہلے اس کی نمی کو ختم کرتی ہے۔ جب تک اپنے اخیتار اور حیثیت کی نفی نہ ہو، محبوب کے اختیار تک رسائی ممکن نہیں ہوتی۔ بیٹھے بٹھائے منزل کا قرب نہیں مل سکتا فہیم!۔۔۔ مسافت سہنی پڑتی ہے۔ مصائب کے ذائقے تو چکھنے ہی ہیں۔ کب ممکن ہوا کہ منزل تو ہو لیکن راہ نہ ہو۔ منزل کو زوال نہیں تو راہ بھی معدوم نہیں۔۔۔۔‘‘
 ’’اپنے اختیار کی نفی کیسے کی جائے؟‘‘
 ’’کام توکٹھن ہے مگر نا ممکن نہیں۔ اُس سجدے میں ذرا بھی لذت نہیں ہوتی جس میں ذلت محسوس نہ ہو۔ رائی برابر حقارت، کینہ، گھمنڈ اور نفرت ہو تو اخلاص کی چڑیا پَر نہیں مارتی۔۔۔۔ وہ سجدہ جو عجز نہ لوٹائے تو جان لیجئے کہ من خرابات سے پر اور خرافات سے آلودہ ہے۔ فہیم !۔۔۔ چاہے تکبر کی خفیف تر پر چھائیں ہی کیوں نہ ہو، دل روشن نہیں ہو سکتا۔ ہائے ہائے۔۔۔کیا عظیم لوگ تھے جو یہ فرما گئے:
 فرید اایسا ہو رہو، جیسا ککھ مسیت
 پیراں تلے لتاڑیے، کدے نہ چھوڑیں پریت‘‘
 خانم! 
 بتائیے! اُس محتاط اورمعتبر لہجے کو اپنانے کا گُر آمنہ کو کیسے ودیعت ہوا۔ اپنے ارد گردپھیلی حیرتوں اور دیرینہ محرومیوں کے ادراک نے مجھے وہ فرد بنا دیا جس کے آنسو بات بات پر نکل آتے تھے۔ کوئی بھی جذبہ جس کا ناطہ گداز اور حساسیت سے ہو، میرا گلہ رُندھ جاتا تھا۔چند لمحات کے لیے معافی چاہوں گا۔ مجھے ذرا رو لینے دیجئے۔ ذرا ہلکا ہو لینے دیجئے۔ متواتر بہتے آنسوئوں میں مجھ سے لکھا نہ جائے گا۔ کچھ بھی مزید بتایا نہ جائے گا۔
 آج کی رات سارے جہاں کا درد لے آئی ہے۔ آپ تو جانتی ہیں کہ آنسوؤں کے قلزم کے شفاف کناروں پر نیند کے پرندے نہیں اترا کرتے۔ مسافت ِہجر میں پائوں شل ہو جائیں تو وصل کے کوچے کا خاکہ ادھورا رہ جاتا ہے۔ دل نا رسائی کے غم سے بے حال ہوتو آس کے چراغ کبھی نہ جلنے کے لیے گُل ہو جاتے ہیں۔ خیال،خواب اور عزائم کے دستے عین بر سرِ محاذ دغا دے جائیں تو ہمت اپنے ہتھیار اپنے ہی قدموں میں رکھ دیتی ہے۔ 
 کیابُرا تھا اگر خواب اور خواہش میں نیند کی دوری حائل نہ ہوتی؟
 کیا برا تھا اگر وصل اور رسائی میں آنکھ برابر فاصلہ نہ ہوتا؟
 درد کے بے شمار راستے ہیں۔ 
 دل سفر کے محمل میں بیٹھا ہے۔
 خیال کی رَو بہت آگے نکل گئی۔ میں پلٹ کر اسی رات کی طرف بڑھتا ہوں جب آمنہ محوِ مناجات تھی اور میری سماعتیں اس کے محتاط اور معتبرلہجے میں مگن تھیں۔ پہلے اس نے کتاب الحکمت کی چند آیاتِ کریمہ کی تلاوت کی اور پھر ان کا مفہوم بیان کرتے ہوئے گویا ہوئی:
 ’’اللہ نور ہے آسمان اور زمین کا، ایک طاق کی مانند جس میں چراغ روشن ہو، چراغ ایک شیشے میں دھرا ہوا اور شیشہ تو گویا ایک چمکتا ہوا ستارہ ہے اور یہ چراغ زیتون کے مبارک درخت سے جلایا جاتا ہے۔ صفتاً نہ یہ شرقی ہے اور نہ غربی، عنقریب اس کا تیل روشنی دینا شروع کر دے اگرچہ آگ اُسے نہ بھی چھوتی ہو،’نور علیٰ نور ‘ ہو کر، اللہ جسے چاہتا ہے اپنے نور کی طرف ہدایت دیتا ہے اور انسانوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے اور اللہ ہر چیزکا علم رکھتا ہے‘‘
(النور)
 اُس رات کی سحر اشکوں کی چکا چوند میں نمودار ہوئی۔
 ہائے ہائے۔۔۔ کیا لوگ تھے جو یہ فرما گئے:
 سلسلۂ روز وشب نقش گرِ حادثات
 سلسلۂ روز وشب اصلِ حیات و ممات
 سلسلۂ روز وشب تارِ حریر دورنگ
 جس میں بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفات
 ذکر کہیں چلا تھا اس کوچہ گرد مغنی کا جو ہمیں بیش ترروضوں پر نمائندئہ میزبان کی صورت میں ملا کر تا تھا۔ جس نے ناریل اور پام کے جھنڈ اور نقرئی ریت والے ساحل پر مجھ سے کہا تھا: ’’دل دنیا سے بہت وسیع ہے میرے بھائی جس میں کائناتیں سما جاتی ہیں ‘‘ 
 نہیں جانتا خانم!
 یہ فاصلوں، زبانوں اور نقوش کو موہوم کر دینے کی اہلیت کیسے مل جاتی ہے؟
 میں نے آمنہ سے آپ کے اور اپنے باہمی ربط بارے استفسار کر کے ناحق اُسے زحمت دی۔فراموش کر گیا کہ آپ کی نگہبانی میری راہوں میں رہنمائی کے سنگِ میل نصب کرتی رہی ہے۔ نہ جانے کتنی آنکھوں کا فریضہ مجھے اپنے محیط میں رکھتا آیا ہے۔ 
 وہ عجیب دوپہر تھی جب وہ کوچہ گرد مغنی مجھے ہسپانوی خانہ بدوشوں کے بھیس میں ملا اور آپ کی جانب سے سونپی ہوئی ذمہ داری کی بہ دولت مجھ باطن کے جلاوطن اور ظاہر کے غریب الوطن کے چہرے پہ جمی مسافرت کی گرد کو اپنے کمر بند کے پلو سے نہایت دردمندی اور عمیق دلچسپی کے ساتھ جھاڑتے ہوئے مدہم، محتاط، معتبر اور مغموم لہجے میں گنگناتا رہا:
 "Vosotors por bien amar,
 entendeys la de alcancar;
 es yerro pensar quitar, 
 los muy devidos dolores....."
 
(الفتِ خوب سے تمہیں غرضِ حصول ہے لیکن ناگزیر غم و اندوہ سے تغافل کا خیال خوب نہیں)

 سورج سر پر آچکا تھا۔ بحری ہواؤں سے ہمارے ملبوسات پھڑپھڑارہے تھے۔ دھیمی دھیمی خنکی اور حدت کی باہمی آمیزش نے نادیدہ زخموں کو سلا دیا تھا۔ ناریل اور پام کے پتے جیسے اظہارِ تشکر کے واسطے بغل گیر ہورہے ہوں۔ چھوٹی چھوٹی مطمئن لہریں فراخ ساحل سے ٹکرا کے گم ہورہی تھیں جیسے ننھے منے بچے شرارت اور الا اُبالی پن سے اپنے پہناوے اُتار پھینکتے ہیں۔ وہ بھی ایسا ہی ساحل تھا جس پر مسافروں نے اپنی کشتیاں جلا دی تھیں۔
 میں نے پوچھا: ’’ وہ کونسی حمایت ہے جو کڑی ابتلا میں دفعتاً حاصل ہو جاتی ہے ؟‘‘
 کوچہ گرد مغنی مسکرایا اور میرے دل پر کمال ملائمت سے اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے بولا:
 ’’وجدان ہے وجدان۔۔۔ سمجھ گئے۔۔۔ وجدان۔۔۔ جو سرد ہوتی سوچوں کی راکھ سے کُمک کی چنگاریاں اُچھال دیتا ہے۔ بے ہمتی کے جھکڑوں میں قدموں کو امید کی چٹان سے باندھ دیتا ہے۔۔۔ اور نا ممکنات کی آندھیوں میں امکانا ت کے پیغام بھیجتا ہے۔ سمجھ گئے؟‘‘
 ’’تو کیا اسی لیے کشتیاں جلا دی گئی تھیں ؟‘‘
 ’’تم ٹھیک سمجھے!‘‘
 ’’اور خدارا! یہ بتائےے کہ آپ یہاں کیسے؟‘‘
 ’’جن سوالوں کا جواب معلوم ہو ان کی تکرار نہیں کیا کرتے‘‘یہ کہہ کر وہ کوچہ گردمغنی ہنستا چلا گیا۔ اور ہنستے ہنستے دُور ہوتا چلا گیا اور یہ کہتا ہوا چلا گیا: ’’ پھر ملیں گے۔ کہیں اور ملیں گے‘‘
 میں نے چشمِ تصور سے دیکھا،سوختہ کشتیوں کی راکھ لہروں کے سنگ جوانبِ رفتہ بہہ رہی تھی۔
 خیال کی رو کہیں اور نکل گئی۔ میں پلٹ کر ذرا اُن دنوں سے آپ کو ملاتا ہوں جب فرصت نے ہمیں مغلوب کر لیا تھا۔
 ایک ڈھلتی سہ پہر میں ہم تینوں مکئی کے خشک سِٹوں کو بوریوں میں بھر رہے تھے تو مریم نے کہا: ’’کیوں نہ ہم ایک بزم کی طرح ڈالیں ؟‘‘
 ’’کیسی بزم بھئی؟‘‘ میں نے پوچھا۔
 ’’بزم اہلِ فکر‘‘
 ’’اہل ِ فکر یا اہلِ فقر؟‘‘ میں نے پیار سے مزاحاً پوچھا تو وہ کھلکھلا اُٹھی:
 ’’نہیں بابا۔۔۔۔ اَہلِ فکر!!!‘‘
 ’’تجویز تو خوب ہے!‘‘ آمنہ خوش دلی سے بولی۔
 ’’اور یہ منعقد کہاں ہوا کرے گی؟‘‘
 ’’یہیں۔۔۔ ہمارے ہاں۔۔۔۔!‘‘
 ’’بھئی تو پھر دیر کیوں۔۔۔ ہوجائے بسم اللہ۔۔۔۔!‘‘ میں نے بوری کا منہ باندھتے ہوئے کہا۔ ’’کیوں آمنہ؟‘‘
 ’’جی واقعی مگر ہمارے علاوہ دیگر اراکینِ بزم کون ہوں گے؟‘‘
 ’’ہاں بیٹا! اس کے متعلق بھی سوچا آپ نے؟‘‘میں نے مریم سے پُوچھا۔
 ’’جی بابا۔۔۔ فہرست بن چکی ہے۔ دکھائوں آپ کو؟‘‘
 ’’کمال ہے۔۔۔ لاؤ ذرا ہم بھی دیکھیں۔۔۔۔‘‘
 فہرست پر نظر پڑتے ہی میں نے ہنستے ہوئے آمنہ کی طرف بڑھائی۔ وہ بھی مسکرانے لگی۔ دیگر سبھی اراکین بوڑھے تھے۔ جانے پہچانے چہرے تھے۔ محبوب لوہار، نورو ملاح، ماسٹر خوشحال سنگھ، حافط شمسی، موہن داس سنار، حکیم نشتر انصاری، مائی خیراں اور آنسہ انجیلا وغیرہ۔
  میں نے والہانہ محبت سے مریم کی پیشانی چوم لی: ’’ واہ بیٹا واہ۔۔۔ اب کب بُلا رہی ہوان اہل ِفکر کو؟‘‘
 ’’کل شام چائے پر بلائیں‘‘ آمنہ بولی: ’’بقیہ امور بھی طے ہو جائیں گے اور تیاری بھی‘‘
 ’’شکریہ اَمّو!‘‘
 ’’جیتی رہو میری بچی‘‘
 اگلی شام تک دعوت کے سارے انتظاما ت مکمل ہو گئے۔ صحن میں چھڑکاؤ کر دیا گیا۔ دریاں بچھا کر اوپر سفید چاندنی پھیلا دی گئی۔ تکیے سجا دیے گئے۔ شمع دان، سونف الائچی اور دیگر سامانِ خوردونوش بھی۔ اب صرف مہمانوں کا انتظار تھا۔ وقتِ مقررہ پر ہم گھر سے باہر نکل آئے اور بہ غرض ِاستقبال ہاتھ باندھے اور نظریں آبادی کی طرف سے آتی ہموار راہ پر ٹکا دیں۔ شام کے دھندلکے ندی پار کے گمبھیر جنگل سے نکل کر وادی کی طرف سرکنے لگے تھے۔ سورج اپنی بچی کھچی کرنوں کی پٹاری بند کرنے کو تھا اور اپنے غیر مرئی دراز بازوئوں کو قوس قزح کی طرح لہرا کر افق کو لالہ گوں کر چکا تھا۔ اپنے آشیانوں کی طرف لوٹتے ہوئے پنچھیوں کی ڈاریں اس گلابی پسِ منظر میں بہت بھلی لگ رہی تھیں۔
 سب سے پہلے محبوب لوہار پہنچے، اپنے حُقے سمیت پھر باقی سب۔ہم نے پلکیں بچھا دیں اور دل فرشِ راہ کر دیئے۔معانقے، مصافحے، مزاج پُر سی اور دعاؤں کے تبادلے ہوئے۔
 گھر باتوں، خوشبوئوں، رنگوں اور جذبوں سے بھر گیا۔
 پہلے اِدھر اُدھر کی عام، غیر رسمی اور بے ریا گفتگوئیں ہوئیں۔ قہقہے بکھرے۔ نوک جھونک ہوئی۔ مصنوعی شکوے شکایتیں بھی۔ جو بیمار تھے انہوں نے اپنے امراض اور علاج کی تفاصیل سنائیں۔ بعض نے زمانۂ رفتہ کا عہد اِمروز سے مواز نہ کیا۔ متعدد سماجی نزاکتوں، باریکیوں اور تبدیلیوں پر بے دریغ تبصرے ہوئے۔ کسی نے بچھر جانے والی محبوب ہستیوں کو یاد کیا تو خود رویا اور دوسروں کو بھی رُلایا۔ وقت کے محبس میں ہر فرد نے موقع ملتے ہی اپنے اپنے خزینۂ خاص کی گھٹڑی کھول دی۔ اچھی بھلی خوشگوار محفل لمحوں میں مجلسِ ماتم بن گئی۔
 اس رنجیدگی اور سنجیدگی کے سحر کو توڑنے کی غرض سے آمنہ گویا ہوئی :
 ’’معزز حاضرین ِ مجلس!‘‘
 محبوب لوہار حقے کا کش لیتے لیتے رُک گئے۔ حافظ شمسی کی تسبیح تھم گئی۔ نورو ملاح، ماسٹر خوشحال سنگھ کے کان میں سرگوشی کو موقوف کر کے آمنہ کو گھُورنے لگے۔ مائی خیراں کا پوپلا منہ ذرا دیر کے لیے فق سارہ گیا۔ موہن داس سنار اور حکیم نشتر انصاری کسی گہرے روگ پر افسردہ ہو رہے تھے، چونک کر ہوشیار ہو گئے۔ا نجیلا، مریم کے کسی جواب پر تعجب سے مسکرا رہی تھیں، فوراًہی اُدھر متوجہ ہو گئیں جہاں آمنہ کہہ رہی تھی:
 ’’ہماری بیٹی کی تجویز تھی کہ ایک بزمِ اہل ِفکر کا ڈول ڈالا جائے۔۔۔۔ سو آج ہمارا یوں اکٹھاہونا بہت بامعنی اور بامقصد ٹھہرتا ہے۔ آپ سب کے چناؤ میں محبت، عزت اور عقیدت کا ہاتھ ہے۔ آپ کے تجربات صائب و مُسلّم ہیں۔ زندگی سے جو کچھ آپ نے اخذ کیا اور جس قدر اسے معتبر کیا ہم اس سے مستفید ہونے میں کوئی دقیقہ فرد گزاشت نہ کریں گے۔ اس جُڑت کا تقاضا ہے کہ جو تنہا سوچتا ہے، اب سب کے ساتھ مل کر سوچے۔جسے جس ذوق کا دعویٰ ہے وہ اس کے اظہار میں کوئی عارمحسوس نہ کرے۔ جو جس فکر کا حمایتی ہے اس پر دوسروں کی رائے کا احترام واجب ہے۔ کیا آپ متفق ہیں ؟‘‘
 ’’اوئے میری سوہنی پُتری۔ اس توں وَدھیا خیال اجے تک کسی دے من میں نہیں آیا۔ ساڈی تو عمراں بیت گئیاں۔ بَلے او بَلے۔۔۔ اُوئے بولو سارے۔۔۔۔۔‘‘
 یہ ماسٹر خوشحال سنگھ تھے۔
 نورو ملاح نے انگشت ِشہادت اونچی کی اور ساتھ ہی کھڑے ہو گئے:
 ’’ایک بات پوچھوں۔ ایک سوال۔۔۔۔؟‘‘
 ’’جی بابا۔۔۔ پوچھئے‘‘
 ’’روز آنا ہوگا؟۔۔۔ میرے تو گوڈے گِٹے۔۔۔۔؟‘‘
 ایک با جماعت قہقہ بلندہُوا۔
 ’’تو اور کیا۔۔۔ روز محفلاں ہوں گی‘‘ حکیم صاحب بولے۔
 ’’نہیں جی!‘‘ آمنہ مسکراتے ہوئے بولی’’ہفتے میں ایک مرتبہ یا پھر مہینے میں دو بار‘‘
 ’’منظور ہے، منظور ہے‘‘ حافظ شمسی چلائے۔
 ’’چندہ بھی ہوگا‘‘ موہنی داس نے دھیمی سی سرگوشی کی جسے محبوب لوہار نے سن لیا ’’تُو دے گا؟۔۔۔۔تُو نہیں دے گا۔ جان نہ نکل جائے تیری ‘‘
 ’’دُوں گا۔کیوں نہیں دُوں گا۔‘‘
 ’’کوئی چندہ وغیرہ نہیں ہوگا‘‘ میں نے بہ آواز ِبلند کہا۔
 ’’یہ بھی منظور ہے‘‘ حافظ شمسی بارِ دگر چلائے۔ 
 اس کے بعد بہت سے امور زیر ِبحث آئے۔ بہت سے معاملات طے پاگئے۔ مریم کو معتمدِ عمومی کا عہدہ تفویض ہوا کہ ہر اجلاس کی کارروائی کو وہی ضابطۂ تحریر میں لائے گی۔ میرِ مجلس مستقل نہیں ہوگا۔ وقت کی پابندی کو ہر رُکن بہ ہر صورت مدِ نظر رکھے گا۔ وہ ماہِ شعبان کے اختتامی ایام تھے۔ آئندہ کے پہلے باقاعدہ اجلاس کے بارے بعد از ماہ ِ رمضان کا اعلان کر دیا گیا۔ رات بھیگ رہی تھی۔ جب یہ محفل اختتام پزیر ہوئی۔ مشعلوں کی روشی میں سبھی رخصت ہوگئے۔
......................



Category : Prose
Author : خالد قیوم تنولی

DEEDBAN

Deedban Publications | N-103 Jamia Nagar New Delhi | Tel: +(91)-9599396218 | Email: deedban.adab@gmail.com
The copyright to all contents of this site is held by the authors of this site. Any kind of reproduction would be an infringement.