Publish Date : 2017-07-23

نسائی و تانیثی مائیکروفکشن

 
 


دیدبان شمارہ پنجم 

نسائی و تا نیثی مائیکرو فکشن 

آرزو 

تحریر: عطیہ خالد

               
سال کا آخری دن ہے ۔۔۔۔۔۔ صبح نیا دن پرانے افق پر طلوع ہوگا ۔۔میرا دل گبھرا رہا ہے۔۔۔دنیا کے ہنگاموں اور شور سے الجھتا میں گزر جانے والے سال کا غم منا رہا ہوں۔۔پرانے کیلینڈر کو اپنی الماری میں سنبھال رہا ہوں۔۔۔۔۔۔
مجھے پرانی چیزوں سے عجب ربط رہتا ہے۔پرانا جوڑا، پراناجوتا ،پرانا لحاف، پرانی کتابیں ۔۔۔۔۔اور تو اور مجھے پرانے پھول اور پتے زیادہ پسند ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔درختوں کے ارد گرد گرے ہوئے,پرانے باسی پتے ۔۔۔۔میں انکو دیکھتا ہوں تو عجب وابستگی محسوس کرتا ہوں.اپنی چھڑی سے انکو چھیڑتا میں ان سے باتیں کرتا چلا جاتا ہوں۔۔۔۔۔۔شاید میں ایک پرانی روح ہوں بوسیدہ روح ۔۔۔۔
جو کسی پرانے کھنڈر کے کسی طاق پر دھری رہ گئی ہو۔۔۔۔۔
مجھ میں پرانے پن کی باس رچی ہوئی ہے باسی اور سال خوردہ باس ۔۔۔۔۔میں نئے پن کو اجنبی نگاہوں سے دیکھتا ہوں ۔نئےے سورج کو نئی دھوپ کو ۔نئے موسم کو ۔۔۔۔ان سب کو خود سے مانوس کرتے کرتے دن گزرتے جاتے ہیں بالآخر یہ پرانے ہو کر میری روح سے ساز باز کر لیتے ہیں ۔۔اور پھر انکے رخصت ہونے کی گھڑی آن کھڑی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔مجھے آزردہ کرنے کے لیے.... 
تم نئی تھیں ،کوری صراحی کی طرح ۔۔۔۔۔۔۔۔میری نظروں کے تعاقب سے سن سن کرتی سکڑتی سمٹتی ۔۔۔۔۔تمھاری باس محبت کے نئے نئے بھید اور اسرار لیے میرے تعاقب میں چلی آتی تھی۔تمھارا محبوب و مدعا میں تھا۔۔۔۔۔۔تم ان نئے بھیدوں کے ذریعے مجھے گھیر نہ پاتیں تو اپنی شکوہ کناں نگاہوں کے زاویوں کی کٹار سے مجھے گھایل کرنا چاہتی تھیں اور میں۔۔۔۔۔۔سدا کا بوسیدہ۔۔۔۔ پرانے طاقوں پرانے دریچوں پرانی چوکھٹوں سے راز دل کہتا ۔۔۔۔تمھاری اجنبی شکایتوں کو ان سنا کرتا رہا ۔۔۔۔۔تم نیا جوڑا پہنتیں تو میرا دل کسی گزشتہ پیرہن میں الجھا رہتا۔تمھارے بالوں میں سجے گجرے کی منہ بند کلیاں میری توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہتیں ۔۔۔۔رات کے پچھلے پہر وہ مسلا ہوا ڈھلکا ہوا تمھاری گردن پر۔۔۔۔ جیسے مجھے آواز دیتا ۔
۔میں اسکے تعاقب میں تمھاری خوشبو سے الجھ الجھ جاتا۔
تقدیر کہیں دور ہنس دیتی ۔۔۔
اور چٹک جاتا کوئی غنچہ ۔۔۔
مجھے تمھاری سازشوں پر غصہ آتا ۔۔۔
پنگھوڑےمیں لیٹا ہوا نوزائیدہ وجود مجھے جیسے منہ چڑاتا ۔۔۔۔
میں نئے جوش نئے ولولے سے بوسیدہ کاغذوں کے پلندوں میں گم ہو جاتا ۔۔۔
تم چائے کا کپ رکھ کر پلٹ جاتیں چپ چاپ۔
رفتہ رفتہ تمھاری نگاہوں کے زاویے جھک گئے۔۔۔۔۔۔۔
شکوے خاموش ہوگئے ۔شرمانے لجانے کا وقت تو کب کا بیت چکا۔
وقت بھلا کبھی رکتا ہے ۔۔۔
دن پر دن ڈھلتے گئے راتیں بیتتی گئیں ۔۔۔۔دن ،مہینے، سال. ۔۔۔۔   اب تو شمار نہ رہا تھا کوئی ۔۔۔۔مجھے تم سے پرانے پن کی باس آنے لگی تھی شاید ۔۔۔۔۔ 
میں تم کو دیر تک دیکھتا رہتا ۔۔۔۔۔دیکھتا رہنا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔
کیسا دلآویز روپ دھار لیا تھا تم نے ۔۔۔۔
میں اپنی پرانی دلپسند کتاب اٹھاتا ۔۔۔لیکن وہ مجھے گھیرنے میں ناکام رہتی ۔۔۔۔۔ اسے چھوڑ کر تم کو پڑھنے کا جنون ہو چلا تھا مجھے۔۔۔۔
تم مجھے پرانی چوکھٹ پر جڑی ہوئی کوئی مورت لگتی تھیں اب ۔۔۔۔۔
مانوسیت نامانوسیت کی بحث میں الجھا میں وقت کو گرہ لگا رہا تھا ۔۔۔میرا دل چاہتا تھا جب پکھیرو شام ڈھلے لوٹ رہے ہوں شور مچاتے ہوئے ۔۔میں تمھارا ہاتھ تھام کر چھوٹی ندی کے کنارے سیر کروں ۔۔۔ پرانے برگد تلے ہم شامیں گزاریں۔۔۔۔
چمنیوں کو دھواں اگلتا دیکھیں۔ سلگتے کوئلوں کی باس کو اپنی کچھ سانسیں مستعار دیں۔۔۔رات ستاروں بھرا گھونگھٹ اوڑھ لے تو میں تم کو حویلی کے پچھلے حصے میں لے جاؤں، جہاں دیر تک ہم باتیں کریں ۔۔۔۔ گلاب کی بیل کے نیچے بچھی چارپائی پر بیٹھ کر۔۔۔۔۔۔۔۔بوڑھے چاند کی روشنی کو چھولیں۔۔۔۔۔۔۔۔
جوں جوں تم سے میرے انس کا رشتہ گہرا ہوتا جاتا ہے تم میری مٹھی سے پھسل رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں تم کو دونوں ہاتھوں سے جکڑلینا چاہتا ہوں تم آنچل چھڑائے جاتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔   
ُاف یہ کیسی تاریک اور مہیب رات ہے ۔۔۔چاند نے بھی منہ چھپا رکھا ہے ۔بس ہو ا
ہے ۔۔۔بگولوں کی مانند اڑتی پھرتی۔سیٹیاں بجاتی ۔چنگھاڑتی ۔۔۔۔۔۔
تم مجھ میں پیوست محسوس ہوتی ہو ۔۔۔۔۔
ایسے لگتا ہے کہ تم میری واحد آرزو ہو جس کے بنا میں زندہ نہیں رہ سکتا۔۔۔۔۔۔

ادھر اس خیال نے دل میں جڑ پکڑی ۔۔۔۔ادھر تم نے اخری ہچکی لی۔۔۔۔۔۔۔آہ!!!!!!!

 

----------------

 

ارادہ 

تحریر : سیدہ آیت......ساہیوال ..
پاکستان

       

لوگوں کا کام دیکھنا ہی ہے ۔ تسلیم !!
 کیونکہ اللہ نے انہیں آنکھیں دے رکھی ہیں مگر آنکھوں اور نگاہوں میں تو فرق ہے نا؟؟ 
اور اسی باعث  گھورنے اور دیکھنے میں جو فرق ہے وہ اسے محسوس ہونے لگا تھا۔۔۔اس محل نما حویلی میں دو آنکھیں مسلسل اس کے تعاقب میں رہنے لگی تھیں شروع شروع  میں تو وہ اسے اپنا وہم سمجھتی رہی مگر یقین اس دن ہوا جب اس نے بی جان کو یہ کہتے سنا کہ ۔۔۔ 
"جوڑے کا پھول مرجھا جائے ، سرخ ساڑھی
 کی سلوٹیں سفید سادہ چادر میں بدل جائیں
 تودیکھنے والوں کو نگاہوں کےزاویے بدلنا نہیں 
پڑتے۔۔"
یہ بات جب سے اس نے یہ بات سنی تھی دل کی دنیا میں بے چینی و بے تابی بہتی ندیا کے پانی 
کی طرح مدھم شور مچائے رکھتی تھی۔۔۔آخر جب بے قراری حد سے بڑھی تو ڈرتے ڈرتے ماں کی گود میں سسکتے ہوئے پوچھنے کی جسارت کر ہی بیٹھی
" بھلا رنگ کیسے بے رنگی پھیلا سکتے ہیں؟۔۔۔۔۔بی جان"۔۔۔
"سفید لباس والوں کو دنیا سے کیا لینا "۔۔۔ماں کی زیرک نگاہوں نے اٹھارہ سالہ نورِ عین کو ایک نظر میں جانچ کر سرد لہجے میں کہا تو اس کی روح تک کانپ گئی۔۔وہ چپ کی بانہوں سمٹ  گئی مگر خیال پر کون بند باندھ سکا ہے۔۔۔جو اس کی سوچ کے برگد پہ  خوش رنگ ڈوری کی طرح لپٹنے لگتا۔۔۔جس میں متوالا من چپکے چپکے کچھ منت کی  کئی گرہیں لگاتا رہتا اور وہ اندر ہی اندر خواب بنتی رہتی۔۔من چاہی سوچیں بھی معصوم بچوں کی طرح شرارتی ہوتی ہیں ہر شے الٹ پلٹ کرآنکھ سے اوجھل پرزے ڈھونڈ نکالنے والی۔۔۔اس کی سوچیں بھی دو آنکھیں کہیں سے ڈھونڈ ڈھانڈ کر  خیال کے چہرے پر ثبت کر دیتی تھیں اور پھر مسکراہٹ بن کر لبوں کو چومنے لگتیں۔۔۔ اس کا سفید لباس اکثر بھیگنے لگا تھا۔۔۔ نمی نے اسے عجب ہمت افزا  لذت سے آشنا کیا تھا کئی روشن در اس پر وا ہوئے تھے ۔۔۔اب وہ پہلے کی طرح  گھبراتی نہیں تھی۔۔ کیونکہ وہ جان گئی تھی جام اسی کا جس نے تھام لیا۔۔
اس کے اندر عورت نے کئی کروٹیں لیں اس نے خودکلامی میں نعرہء ہمت بلند کیا اور خود سے مخاطب ہو کر کہا آنسو پونچھ میں تجھے مرنے نہیں دوں گی ۔
وہ آئینے میں چھلانگ لگا کر خود سے لپٹ گئی ۔تب اس نے سفید چادر کو رنگنے  کا پختہ ارادہ کر لیا جو اس کے اور زندگی کے درمیان حائل تھا!!!
......

”عام سی عورت“
تحریر:  ناہید اختر بلوچ 

گلشن کو اپنی نئی بیگم صاحبہ مہناز سروش کسی اور ہی دنیا کی باسی معلوم ہوتی تھی ۔ایک بہت خاص عورت جس کی ہر ادا میں عجب بانکپن تھا ۔جو چلتی تو ایک عالم مسحور ہو کر دیکھتا رہ جاتا ۔رکتی تو دنیا ٹھہری ہوئی لگتی ۔بولتی تو لہجے کی مٹھاس دل موہ لیتی ۔اور خاموشی قدموں میں آن بیٹھتی ۔ہر صبح جب وہ تیار ہو کر کمرے سے باہر آتی تو گلشن رشک سے اس کو تکے جاتی ۔سلک کی ساڑھی میں اس کا سراپا اور بھی نمایاں ہو جاتا ۔راج ہنس جیسی گردن پر گھنے بالوں کا کس کر باندھا گیا جوڑا اور اس کے گرد لپٹے موتیے کے پھول ۔۔۔ نازک سی سینڈل کی مدھر ٹک ٹک اور ہاتھ میں پکڑی لیدر کے کور والی وہ خوبصورت سی ڈائری جسے گلشن نے چپکے چپکے کئی بار کھول کر پڑھنے کی کوشش کی تھی مگر مجال ہے جو ایک حرف پلے پڑا ہو ۔اس نے سنا تھا کہ بیگم صاحبہ بہت بڑی شاعرہ ہے ۔شہر کے ہر بڑے مشاعرے میں اس کا نام مشاعرے کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا ۔
اس صبح حسبِ معمول وہ نک سک سے تیار کار کے ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر اچانک مڑی ۔
”سنو گلشن آج رات کوارٹر کے بجاۓ اماں جی کے کمرے میں سونا ، ان کی طبیعت خراب ہے “
گلشن جو ان کے جوڑے پر نگاہیں جماۓ کھڑی تھی ، گڑبڑا کر سر ہلا کر رہ گئی۔
رات کو اماں جی کے کمرے میں اونگھتی گلشن کی نیند ان کے خراٹوں کی وجہ سےبار بار ٹوٹ رہی تھیں  ۔
سوئی جاگی کیفیت میں نیچے سے کسی کے چیخنے چلانے کی آوازیں اس کی سماعتوں کو جھنجھوڑ گئیں۔
اس کے بھاگتے قدموں کو سیڑھیوں نے جکڑ لیا۔
رات کے ایک بجے صاحب شراب کے نشے میں دھت مغلظات بکتے لاتوں اور گھونسوں سے کسی کو پیٹ کر دروازہ بند کر کے کمرے میں جا چکے تھے ۔
بالوں کا کسا ہوا جوڑا کھل چکا تھا ۔موتیے کے پھول زمین پر روندے جا چکے تھے۔
وہ بھاگ کر نیچے اتری۔خراشوں سے بھرا نوچا کھسوٹا چہرہ مہناز سروش کا تھا ۔خاص عورت کے بھرم کا غازہ اتر چکا تھا جس کی تہوں سے ایک عام سی عورت صاف دکھائی دے رہی تھی ۔

..........
 _ شک __
تحریر گل ارباب  خیبر پختونخواہ پشاور __
              

وہ دونوں عورتیں بھی  اپنی دیگر ساتھی عورتوں کی طرح ہاتھ میں شناختی کارڈ پکڑے اپنی باری کا انتظار کر رہی تھیں..راشن بانٹنے والی خاتون بہت  بڑی سیاسی شخصیت تھیں - غریب اور بد حال نظر آنے والی عورتیں جاتیں  گھی کا ڈبہ آٹے کی بوری اٹھاتیں اور بیگم صاحبہ کیمرے کی طرف مسکرا کر  دیکھتیں مختلف اطراف سے تصاویر بنتیں ....نازک مزاج تھیں سو جلدی تھک بھی جاتیں.
چمچے ! جلدی سے فریش جوس کا گلاس لے آتے کبھی شوگر فری کولڈ ڈرنک پیش کرتے...وہ دونوں عورتوں کے ہجوم میں کھڑے کھڑے تھک گئی تھیں ابھی ان سے آگے بہت رش تھا سو تھک کر ذرا سستانے کو   ایک  طرف  زمین پہ بیٹھ گئیں  -دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ کر بجھی بجھی سی  مسکراہٹوں کے تبادلے کیے اور پھر وقت گزاری کے لیے باتیں شروع کر دیں-
-"کیا شوھر نہں  ہے __بیوہ ہو__ جو خیرات لینے آئی ہو  ،،؟
35  -36 سالہ خوش شکل خاتون سے دوسری نے پوچھا..
" نہیں  _مرا نہیں ہے زندہ ہے ....مگر مجھے چھوڑ چکا ہے ،،
 بھیگے لہجے میں افسردگی گھلی  تھی ..
"مگر کیوں تم تو بہت خوبصورت عورت ہو ...اور خوبصورتی تو ہمیشہ سے مرد کی کمزوری رہی ہے  ،، ؟
"بس __ میری غلطی تھی  میں  شک بہت کرتی تھی  اس پہ -ایک دن تنگ آ کر طلاق دے دی گھر سے نکال دیا اور __آفس میں کام کرنے والی سیکرٹری سے نکاح کر لیا-،،
اب  لہجے کے ساتھ آنکھیں بھیگنے لگی تھیں ...بس اس دن سے زندگی سزا کی طرح کاٹ رہی ہوں__
-"اور تم ؟ تمہارا شوھر ،،؟
26 سالہ نوجوان اور حسین عورت  سے دوسری  نے سوال کیا__
-"میرا بھی شوھر تو ہے لیکن مجھے طلاق دے کر اس نے دوسری شادی کر لی  ہے ....اور مجھے دوسری والی نے دھکے دے کر گھر سے نکال دیا ہے ...اب در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہوں- ،،اس کی آنکھیں  خشک تھیں شاید آنسو  سوکھ چکے تھے یا دکھ سہہ سہہ کر  عادت پڑ گئی تھی __اب آسانی سے آنسو نہیں نکلتے تھے ...
-"مگر کیوں؟
اس نے تمھیں  طلاق  کیوں دی تم تو خوبصورت ہونے کے ساتھ کم عمر بھی ہو  -اور خوبصورتی کے ساتھ کم عمری بھی مرد کی کمزوری سمجھی جاتی ہے - پھر طلاق کیوں کیا __ کیا تم بھی شوہر پہ بہت شک کرتی تھیں ،،؟ 
پہلے والی کے لہجے میں تجسس تھا -"  نہیں میرا مسلہ دوسرا تھا ...میں ___ وہ کچھ توقف سے بولی ."میں شک نہیں کرتی تھی__دوسری نے نے خلا میں کسی نادیدہ چیز کو گھورتے ہویے کہا __

 

 



Category : Prose
Author : عطیہ خالد/ سیدہ آیت / ناہید اختر بلوچ/ گل ارباب

DEEDBAN

Deedban Publications | N-103 Jamia Nagar New Delhi | Tel: +(91)-9599396218 | Email: deedban.adab@gmail.com
The copyright to all contents of this site is held by the authors of this site. Any kind of reproduction would be an infringement.