Publish Date : 2017-11-16

جہانِ گم گشتہ کی کہانیاں

دیدبان شمارہ ششم

جہانِ گم گشتہ کی کہانیاں

نجم الدّین احمد

 ادبِ عالم میں المیوں ہی نے وہ دوام پایا ہے -- جنھیں بجا طور ادبِ عالیہ کا مقام دیا جاتا ہے--  جس سے طربیے ہمیشہ محروم رہے ہیں۔ شاید یہ میری کور چشمی ہو کہ ادبی ابدیت پانے والے طربیے میری نگاہ سے اوجھل ہیں البتّہ شعر و ادب میں المیوں کی ایک طویل فہرست میرے سامنے موجود ہے جیسے ہومر کی اوڈیسی، جان ملٹن کی پیرا ڈائز لاسٹ، کیٹس کی اوڈز، شیکسپیئر کا ہیملٹ، ٹالسٹائی کا اینا کیرنینا، گابریل گارشیا مارکیز کے ناول وَن ہنڈرڈ ایئرز آف سالیٹیوڈ اور لو اِن دا ڈیز آف کولرا، کامیو کا پلیگ، اور دنیا بھر کی عشق و محبت کی داستانیں چاہے وہ مغرب کی رومیو جولیٹ ہو یا مشرق کی شیریں فرہاد، ہیر رانجھا، سسّی پنوں، مرزا صاحباں، قصّہ سیف الملوک، ماروی عمر، نوری جام تماچی۔ میں نے دُنیا بھر کے کلاسیکل ادب سے جدید ادب تک محض چند دانے شمار کیے ہیں وگرنہ المیوں کے ایسے ایسے شہ پارے خلق ہوئے ہیں کہ ادبِ عالیہ کی تسبیح کے شمار کی تسبیح کے دانے بھی تھکنے لگیں۔ گو بسا اوقات طربیہ اپنے عصر میں اوجِ شہرت کی ایسی ارفع بلندیوں تک رسائی پاتا ہے کہ اُس کے سامنے اُس کے زمانے میں المیہ گرد باد کی گھنیری رَیت تلے دفن ہو جاتا ہے لیکن جُوں ہی جھکڑ تھما المیہ دوام کے اوجِ کمال کی شہ نشین پر متمکن ہُواکہ اُسے گہنانے والا طربیہ خُود سدا کے لیے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں گُم ہو گیا۔ اور ارسطو کی طربیے پر المیے کو ترجیح صادق ثابت ہوتی چلی آ رہی ہے۔
 المیے کا یہ دوام انسانی زندگی کا المیوں سے عبارت ہونے کے سبب سے ہے۔ انسان مالی طور پر بے حد امیر کبیر ہو سکتا ہے، یہ امارت کی طاقت اُس میں نخوت و رعونت پیدا کر سکتی ہے، وہ لوگوں پر عرصۂ حیات تنگ کر سکتا ہے لیکن کیوں کر وہ خُود ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی المیوں سے بچا رہ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ مفلس، قلاش، محروم اور مظلوم و محکوم طبقے کو تو ویسے ہی قدم قدم پر المیوں کا سامنا رہتا ہے۔ شاعر ادیب ان المیوں کو اپنی لکھتوں کا موضوعِ سخن بناتے چلے آئے ہیں، بنا رہے ہیں اور ہمیشہ بناتے رہیں گے۔ المیہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا، جان کنی کی کیفیت وارد کرتا ہے۔
 جان کنی کی اِس کیفیت کو سہنے کی ہمّت اور حوصلہ پیدا کرنے کے لیے نگہت سلیم قاری کی اُنگلی تھامے اُسے چھوٹے چھوٹے المیوں سے گذارتی ہوئی بڑے سانحے یا بڑے المیے کے لیے تیار کرتی ہیں اور بالآخر برِصغیر پاک و ہند کے اُس ’’جہانِ گُم گشتہ‘‘ میں لے جاتی ہیں جو بظاہر تاریخ کے سلگتے اوراق میں مدفون ہوتا جا رہا ہے۔
 دُنیا میں کون ہے جو اپنی ذات کی نفی چاہے اور اپنی ذات کی مرگ پر جشن منائے؟ لیکن جو اپنی ذات کی نفی میں کامران ٹھہرتے ہیں وہ بہت سے ماورائی معاملات میں قدرت رکھنے لگتے ہیں۔ جادو کا معنی ’’تکرار‘‘ کا ہے۔ جادوگر نافہم قدیم الفاظ میں کسی بھی کام کی ہو جانے کی تکرار میں لگا رہتا ہے، بظاہر وہ یہ تکرار اپنے دیوی دیوتا سے کرتا ہے لیکن اصل چیز اُس کام کے ہو جانے کی تکرار ہے اور بالآخر جو وہ چاہتا ہے ،ہو جاتا ہے۔ جیسے ایک شرارتی بچے کو روز تکرار کی جائے کہ تم تو ہو ہی بُرے۔ یہ بات بچے کے لاشعور میں بیٹھ جاتی ہے اور وہ بَد نہ ہونے پر بھی مائل بہ بَدی ہو جاتا ہے۔ اِس کے برعکس اُسی بچے کے اچھا ہونے کی تکرار اُسے اعلیٰ انسان بنا دیتی ہے۔ آریائی وہ ہیں جنھوں نے اِس دھرتی پر وارد ہو کر تاخت و تاراج کیا اور ’’جشنِ مرگ‘‘ منایا۔ کیا وہی جشن آج بھی آریائی منا رہے ہیں؟ بُھول بھلیاں-- نگہت اپنے مجموعے کی اِس پہلی کہانی سے ہی قاری کو بُھول بھلیاں میں لے جاتی ہے۔ تہہ در تہہ، پرت در پرت پیاز کے چھلکے اُتارتے جاؤ، اندر سے کچھ نہیں نکلتا لیکن نگہت کے ہر المیے کے اندر سے اتنا کچھ نکلتا ہے کہ آخری سطر کی قرأت کے بعد قاری کے ارد گرد کے ماحول پر اِس قدر گہرا سنّاٹا اور سکوت طاری ہو جاتا ہے کہ سُوئی تک گِرنے کی آواز زورد دار دھماکے کے مانند سُنائی دیتی ہے۔
 فی زمانہ محبت کو دولت و ثروت اور پُر تعیش و پُر آسائش زندگی بسر کرنے کا آسیبِ تعقّل نگل گیا ہے۔ اب قصۂ عشق و محبت قصۂ پارینہ اور بوسیدہ ہو کر تاریخ کے اُن بوسیدہ اوراق میں غائب ہوتا جا رہا ہے جنھیں چُوہے کُتر رہے ہیں کہ آنے والی نسلیں اِس جذبے سے آشنا بھی نہ رہیں۔ محبت کو زر کا طاعون پڑ گیا ہے۔ رشتے ناطے جو پہلے ہی معیشت سے مبسوط و مشروط ہوتے جا رہے ہیں، اگر طاعونی چُوہوں نے محبت جیسے عظیم اور گراں مایہ جذبے کی اتنی باریک کترنیں کر دیں اور طاعون نے اُن کترنوں کو مکمل طور پر نگل لیا تو...... یہ روئے ارض پر انسانی زندگی کا سب سے بڑا المیہ ہو گا۔ میں ابھی مایوس نہیں مگر لمحۂ فکریہ ہے کہ اِس جاری بسیط المیے کے نتیجے میں ’’محبت اور طاعون‘‘  میں سے کون بچے گا۔ نگہت کے نزدیک طاعون فتح یابی سے ہم کنار ہوتا جا رہا ہے، اِس لےے طاعون کو ختم کرنا ہو گا۔
 اولاد کا جوان ہونے پر پیرانہ سال اور شکست و ریخت کے شکار، سہارے کے ضرورت مند و طلب گار والدین کو تنہائی کے حوالے کر کے دُنیا کی گہما گہمی میں مست اور الست ہو جانے کے المیے کا بیانیہ گرچہ نیا نہیں لیکن ’’ماہِ بے سایہ‘‘ میں پلٹ آنے والی بیٹی کی آخری سعی کے جواب میں اکلاپے کو سہتی ماں کا آنکھوں میں دَر آنے والی شناسائی کی رمق کو پھر سے اجنبیت میں بدل ڈالنا اور اپنے خول میں سمٹ جانا اِس امر کا شاخسانہ ہے کہ وہ آگاہ ہے کہ بیٹی کی آمد اور قیام عارضی ہے جس کے بعد پھر وہی تنہائی، وہی اکلاپا اور جگر چھلنے کرتے یادوں کے تیر بہ ہدف ہوں گے۔
 دُوسروں کو وہ عنایت کرنا، جس کی خُود تعویذ گنڈے کرنے والوں کو اشد ضرورت ہوتی ہے، ایک ایسا چلن ہے جس سے دینے اور لینے والا دونوں بخوبی آگاہ ہونے کے باوجود خُود فریبی کا شکار ہیں۔ مولوی عبدالرشید زندگی بھر محبوں میں محبوب کے حُب کی باریابی کے لیے تعویذ بانٹتے رہے لیکن اُس نے اپنی تین بیٹیوں کو اُس حُب سے دُور رَکھا۔ کیوں؟ ’’کوئلہ بھئی نہ راکھ‘‘ اِسی منافقانہ چہرے کی نقاب کشائی کرتا ہے۔ اور جب پہلوٹھی کی بیٹی اُسی جیسے مولوی کے ظلم و ستم کا شکار ہو کر اُس کی سابقہ تین بیویوں کے مانند عدم سدھارتی اور چھوٹی بیٹی بِنا تعویذِ حُب کے اپنے محبوب کے ہم رکاب ہو کر گھر چھوڑ جاتی ہے تو مولوی عبدالرشید کے پاس بیمار پڑنے اور پرلوک سدھارنے کے سوا چارہ نہیں بچتا۔ بچتی ہے تو منجھلی بیٹی -- خُود حُب کے لیے ترسی ہوئی اور پیاسی-- برہنہ پا جلتے صحرا کی تپتی ریت کے سفر پر، باپ کے نقشِ قدم پر چل کھڑی ہوتی ہے۔ نگہت عام ڈگر سے ہٹا ہُوا انجام دے کر قاری کی انا کو گہری ضرب پہنچاتی ہیں۔
 عورت ازل سے ہی مرد کے ظلم و ستم کا شکار ہے۔ گناہ عورت کا ہو یا مرد کا، سزاوار صرف عورت ٹھہرتی ہے۔ ’’کالی‘‘ اور ’’ونی‘‘ بھی  ایسی ہی انسانیت سوز سزائیں ہیں۔ اگر مرد کسی عورت کے ساتھ بدکاری کرتا پکڑا جائے تو عورت ’’کالی‘‘ قرار دے دی جاتی ہے اور وہ مرد کسی اور عورت کو ’’کالی‘‘ بنانے کے لیے کوئی سزا پائے بغیر آزاد دندناتا پھرتا ہے۔ مرد اور عورت گھر سے بھاگ جائیں تو اُس مرد کی بہن یا بیٹی کو ’’ونی‘‘ ہو کر قرض چکانا پڑتا ہے-- وہ قرض جو اُس پر واجب بھی نہیں ہوتا۔ ’’زنگاری‘‘ افسانے کا موضوع بھی ’’ونی‘‘ ہونے والی عورت ہے۔ میراں کا بھائی سجاول، سکینہ کو بھگا کر لے جاتا ہے جس کا قرض پنچایت کے فیصلے کی رو سے میراں کو اپنا بدن سکینہ کے خاندان کے چار مردوں سے نچوا کر اُتارنا ہے۔ میراں کی واحد آس اُونچی پگ کے طنطنے والا اُس کا جرّی محبوب وریام ہے مگر ہوائے دوستاں کے رُخ بدلنے اور ’’ونی‘‘ کے بعد وریام کے میراں کی سہیلی کے ساتھ بیاہ نے اُس کے نصیب میں مزار پر دھمال ڈالنا لکھ دیا کہ وہ تاروں سے بھید لینے کے فن سے ناآشنا تھی۔
 آسمان نے ہمیشہ دام ہی بچھائے ہیں، سب کے لیے-- چاہے وہ کوئی بھی ہوں، شاہ عالم اور کاکو ہوں یا کوئی اَور۔ آسمان کے یہ بچھائے ہوئے غیر مرئی دام زمین پر ہیں، آسمان پر بھی اور خلا و فضا میں بھی قدم قدم پر پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کا دائرہ انسانی سانسوں، سماعتوں، بصارتوں اور حد یہ کہ خوابوں تک بسیط ہے۔ ان سے نجات کی واحد راہ موت ہے۔ بے کسی، کسمپرسی، افلاس، بُھوک، فاقہ کشی، بے پیرہنی، سرد و گرم موسم کی سختیاں-- غرض کیا شے ہے جن کے ساتھ استحصال کا واویلا کرتے کرتے انسان موت سے ہم کنار ہو جاتا ہے لیکن چھٹکارا نہیں ملتا۔ محبت اور سکون ملتا ہے تو بس بعد از مرگ۔
 نگہت سلیم کے مجموعے ’’جہانِ گم گشتہ‘‘ میں اِن چھے افسانوں کے علاوہ تین ناولٹ بھی شامل ہیں: آسیبِ مبرّم، حلقہ مری زنجیر کا اور جہانِ گم گشتہ۔
 کچھ آسیب ایسے ہوتے ہیں جو زندگی بھر کے لیے چمٹ جاتے ہیں، کبھی جان نہیں چھوڑتے۔ یہ بات سدا سے میری سمجھ سے بالاتر رہی ہے کہ یہ آسیب لوگوں پر کیوں سوار ہوتے ہیں؟ یا وہ اُنھیں کیوں اپنے آپ پر سواری کرنے دیتے ہیں؟ جھٹک کیوں نہیں دیتے؟ میں نے بیٹوں والوں کو اکثر بے سہارا پایا ہے؛ لاچاری کے عالم میں تڑپتے اور جو بیٹوں سے محروم ہوتے ہیں اُنھی سُکھی دیکھا ہے۔ پھر بھی لوگ بیٹے کو وارث، نسل آگے بڑھانے والا اور بڑھاپے کی لاٹھی گردانتے ہیں۔ بیٹا نہ جنمنے پر ایک موہوم آس میں اپنے کم وسائل پر بیٹیوں کا انبوہ جمع کرتے چلے جاتے ہیں اور پھر اُن بیٹیوں کو ہی قصور وار گردانتے ہوئے اُن کے بِلاوجہ جنمنے پر اُنھیں اُٹھتے بیٹھتے کچوکے لگاتے ہوئے سہمگیں رکھتے ہیں، جن کو اپنی لاحاصل تمنّا کے تعاقب کی تھکا دینے والے دوڑ دھوپ سے عدم سے وجود میں لانے کا باعث بھی خود ہوتے ہیں۔ تب قدرت ایسے ماں باپ پر کھلکھلا کر ہنستی ہے، اُن کا ٹھٹھا اُڑاتی ہے، اُن کے لیے سزا تجویز کرتی ہے اور تب یا تو وہ ہمیشہ بیٹے سے محرومی کی آگ میں جلتے رہتے ہیں اور یا پھر......!
 یا پھر اُن پر ایسا آسیب مسلط کر دیاجاتا ہے جو مبرّم ہوتا ہے؛ وہ ایسی شدنی سے دوچار ہوتے ہیں جو ٹالی نہیں جا سکتی اور اُن پر ایسی ہونی پڑتی ہے جو اَن ہونی نہیں ہو سکتی۔ استہزا اَور جگ ہنسائی اُن کا نصیبہ ٹھہرتی ہے۔ وہ جو جنم لیتا ہے اُس کے پیشاب کی دھار نالی تک نہیں پہنچتی، رانوں کو تر کرتی ہوئی پیروں میں تالاب بناتی ہے جس پر محلے کے لڑکے تالیاں پیٹتے ہیں-- کہ وہ کسی طرف سے تعلّق نہیں رکھتا-- اُسے نچواتے ہیں۔ تالیاں اور ناچ اُس کے دماغ میں ایسا بیٹھتا ہے کہ وہ خود تالیاں پیٹتے اور ناچتے ہوئے، ہر ہر لمحہ مرتے ہوئے انجامِ حیات کی سمت کٹھن سفر طے کرنے لگتا ہے۔
 نگہت سلیم کا یہ موضوع ایسا ہے جس پر بہت کم لکھا گیا ہے۔ مجھے صرف ’’بانگڑو‘‘ نام ایک ناول یاد پڑتا ہے-- مصنف کا نام یادداشت سے محو ہے-- جو اپنے لڑکپن میں مَیں نے کسی ڈائجسٹ میں پڑھا تھا۔ نگہت نے نہ صرف مخنث پیدا ہونے والے بچّے پر لکھا بل کہ ایسی کمال فنی مہارت اور تخلیقی بصیرت سے موضوع کو نبھایا کہ جہاں وہ ایسے بچّے کی پیدائش کے بعد عملی، ذہنی اور نفسیاتی مسائل کا اپنے بیانیے میں احاطہ کرتی ہیں، وہیں کجی کے حوالے سے بچّے کے احساسات، جذبات اور نفسیاتی و نفسانی گرہیں بھی ہنروری سے آشکار کرتے ہوئے اپنے موضوع کے ساتھ انصاف کرتی نظر آتی ہیں۔ یقینا اِس موضوع پر لکھنے سے پہلے نگہت کو بے حد تحقیق کرنا پڑی ہو گی یا پھر اُنھیں اپنی زندگی میں کسی مخنث بچّے اور اُس کے والدین کا مشاہدہ کافی قریب سے کرنے کا موقع ملا ہو گا۔
 گرچہ فی زمانہ محبت کو دولت و ثروت اور پُر تعیش و پُر آسائش زندگی بسر کرنے کا آسیبِ تعقّل نگل گیا ہے، گرچہ اب قصۂ عشق و محبت قصۂ پارینہ اور بوسیدہ ہو کر تاریخ کے بوسیدہ اوراق میں غائب ہوتا جا رہا ہے، گرچہ محبت کوزر کا طاعون پڑ گیا ہے لیکن جب عشق کا جادو بولتا ہے تو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ پھر وہ طوقِ غلامی کو خاطر میں لاتا ہے نہ آفاتِ سماوی کی پرواہ کرتا ہے۔ محب و محبوب اپنی فانی ہستیوں کی قربانی سے جذبۂ حُب پر سرخروئی اور لافانیت کی مہر ثبت کر جاتے ہیں۔ دُنیا کے دُوسرے قبیلے-- غلام اور مظلوم قبیلے-- کے افراد کو اذنِ حُب بھی نہیں۔ غلام بختاں گر بخت آور نہیں تو شہزادی بھی بدبخت ہے اور دونوں کی سیاہ بختی کا ذمہ دار ایک ہی شخص ہے-- دُنیا کے پہلے قبیلے-- ظالم قبیلے-- کا رئیس، شہزادی کا باپ۔ شہزادی کے محبوب کو جرمِ الفت کی سزا میں آگ کی بھٹی میں بھونکنے والا، جو نہیں جانتا کہ آگ کے الاؤ سرد پڑ کر ٹھنڈی راکھ میں بدل جاتے ہیں لیکن ذات کے الاؤ دھکتے رہتے ہیں۔ جس کے دِل میں مہر و محبت نہیں ہوس بھری ہے؛ دولت کی ہوس اور بختاں جیسی تانبئی رنگت، ستواں ناک نقشے والی غلام زادیوں کے اکہرے تراشیدہ بدنوں کو اپنے بسترِ ہوس پر اپنے جسم کے بوجھ تلے مچلتے اور تڑپتے دیکھنے کی ہوس۔ شہزادی اپنے محبوب اللّٰہ وسایا کا پیکر ایک مور میں تراشتی ہے جو اُسی ریتلے طوفان کے بگولوں میں آزادی پا کر اپنی موت کی منزل کا رُخ کرتا ہے، جو طوفان کھلے صحرا کے الاؤ میں اُتر جانے والے سسّی پنّوں کے ریت کا مقبرہ تعمیر کرتا ہے۔ شہزادی محبوب کا پرتو نہ پا کر جاں بہ لب ہوتی ہے تو بختاں کو سارنگ کے ساتھ جانے کی اجازت دینے کا خطا کار-- بختاں کا باپ-- اپنے جرم کی پاداش میں صحرا سے مور ڈھونڈ لانے کی سزا کا حق دار ٹھہرتا ہے۔ وہ نخلستان میں مور کا گلا نہیں گھونٹتا بل کہ اپنی بختاں کی موت کے بدلے میں شہزادی کی سانسیں بند کر رئیس کو کرب میں مبتلا کرتا ہے۔ افریقا کے ساحلِ غلامان سے اُٹھتے طوفان جو سند ھ کے صحرا کے ساتھ صدیوں سے مل کر بین کر رہے تھے اب خاموش ہو چکے تھے۔ ......یا اُن کا بین، اُن کا نوحہ بڑھ گیا تھا؟  ایک اَور المیہ، بل کہ دوہرا اَلمیہ۔
 المیہ تو عجائب و غرائب سے بھری دُنیا میں پاکستان اور اہلِ پاکستان کے لیے سانحۂ سقوطِ ڈھاکہ یا پاکستان کا دولخت ہونا ہے۔ وجود کا ایک اَنگ کاٹ کر الگ کر دیا گیا، ایک جہان ناعاقبت اندیشوں نے گم کر کے ہمیشہ کے لیے رِستا ہُوا ناسور اپنی نسلوں کا مقدر کر دیا۔ بظاہر اِس کے عوامل میں عالمی ریشہ دوانیاں ہیں لیکن: ’’ایک تھا بدعہد سیاست دان دُوسرا تھا اقتدار کی خواہش میں مضطرب سیاست دان اور تیسرا تھا اُن سب کا سردار انگشتِ ابلیس پر ناچتا ہُوا...... جو اُس منصب پر فائز تھا جس کے لائق وہ ہر گز نہ تھا...... یہ تھے تاریخ کے وہ قزاق جنھوں نے اِس ملک کے سفینے کو لوٹا...... سیاسی شعور سے بے بہرہ، اخلاقی گراوٹ اور بدترین جرائم میں مبتلا شرم ناک مشاغل والے وہ سب لوگ جو بعد میں خود کو بے قصور اور محب الوطن ثابت کرتے رہے......‘‘ اور شطرنج کی اِس بساط پر کرنل جلال احمد اور شب افروز جیسے بے شمار مہرے۔ 
 یوں تو اِس سانحے کے بعد بے شمار افسانے، کئی ناول اور ناولچے سامنے آئے۔ سبھی اپنے اندر کوئی نہ کوئی پہلو سمیٹے ہوئے تھے۔ اِن میں انتظار حسین کا ’’بستی‘‘، صدیق سالک کا انگریزی میں 
Witness to Surrend 
جس کا اُردو میں ’’میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا‘‘ کے عنوان سے ترجمہ ہُوا۔   قراۃالعین حیدر کا ’’آخرِ شب کے ہم سفر‘‘، خالد فتح محمد کا ’’خلیج‘‘، مستنصر حسین تارڑ کا ’’راکھ‘‘، طارق محمود کا ’’اللّٰہ میگھ دے‘‘ اور محمد حمید شاہد کا ’’مٹّی آدم کھاتی ہے‘‘ قابلِ ذکر ہیں۔ لیکن اِن میں کوئی بھی ایک اَور اہم پہلو کا احاطہ کرتا نہیں دِکھائی نہیں دیتا۔ اِس اہم پہلو کو نگہت سلیم نے اپنا موضوع بنایا ہے۔ دراصل پسا کون؟ دراصل اپنا سب کچھ کھویا کس نے؟ دراصل بے وطن کون ہُوا؟ نگہت کا ناولچہ اُن ہی اصل بے وطن-- بَل کہ دو مرتبہ بے وطن-- ہونے والوں کے رنج و الم کے پہلو کا احاطہ کرتا ہے۔
 بنگالیوں کو بنگلہ دیش کی صُورت میں نیا ملک مل گیا اور مغربی پاکستانیوں کو پاکستان۔ لیکن ایک طبقہ ایسا بھی تھا جسے کچھ نہیں ملا۔ نہ یہ وطن نہ وہ دیش۔ مسلمانوں کا وہ طبقہ جس نے تقسیم برِ صغیر پاک وہند کے وقت اپنے پیاروں کی جانیں، مال و اسباب، بھرے پُرے گھر، سب کچھ گنوا کر مغربی اور مشرقی پاکستان ہجرت کی۔ مغربی پاکستان آنے والے تو سقوطِ ڈھاکہ کے دوران محفوظ رہے لیکن مشرقی پاکستان ہجرت کرنے والوں کو، جن میں مشرقی بنگال کے باشندوں کی بڑی تعداد تھی، مکتی باہنیوں نے ایک بار پھر 1972ء کی ہجرت کی صعوبتوں، سکھوں ہندوؤں کی قتل و غارت گری، عورتوں کی عصمت دریوں کی یاد تازہ کرتے ہوئے اُن پر ایک نئی ہجرت کا بوجھ لاد دِیا۔ 
 سانحہ 71ء کے دو اہم کرداروں-- کرنل جلال احمد اور شب افروز، پہلا جنگ میں باقاعدہ حِصّہ لینے والا تو دُوسری ’’اُس منصب پر براجمان انگشتِ ابلیس پر ناچتا نااہل سردار‘‘ کے محل کی حسین و جمیل مغنیہ اور علیحدگی میں اہم کردار ادا کرنے والی خفیہ ایجنسیوں کا ایک کل پرزہ-- کی طویل عرصے کے بعد ملاقات کے دوران ایک خاموش کردار، نور الہٰی عرف خادم، جسے یادوں نے کبھی سلہٹ شہر سے باہر نہیں آنے دیا۔ کرنل اور شب افروز کے اعترافات خادم کو کرب و اذیّت سے پُر ماضی کے دریچوں میں جھانکنے کا موقع فراہم کر دیتے ہیں۔ اُس کی نگاہوں کے سامنے شفاف ندیوں میں رواں نوکے اور کشتیاں کھینے والے ملاحوں کے پُرسوز گیت؛ چاول، چائے اور پٹ سن کے باغات، سیلاب میں بہتی لاشیں، مغربی پاکستان سے کبھی نہ پہنچنے والی امداد کی آس؛ ماں کے یہ دُکھ بھرے الفاظ ’’کب تک ہم ایک سرحد سے دُوسری تک دھکیلے جاتے رہیں گے، کوئی ہمیں کچھ نہ مانے انسان تو مانے...... ہماری چھوٹی سی زندگی کے لیے بس یہی بہت ہے۔‘‘ حاملہ بہن کی شاہ جلال ؒ کی درگاہ کے راستے میں مکتی باہنیوں کے ہاتھوں قتل اور ملاح باپ کا یہ کہنا: ’’گھر نہ جا...... وہاں اب کوئی نہیں بچا...... تُو مغربی پاکستان چلے جانا...... اب وہی ہمارا وطن ہے......‘‘ اِس ہجرت در ہجرت اور بے سروسامانی کا سبب بننے والے کرداروں میں سے دو اُس کے سامنے بیٹھے اپنے اپنے حِصّے کی غفلت اور جرم کا اعتراف کرتے ہیں۔ خادم یا نور الہٰی-- جس کی عمر اپنی زندگی کے چودہویں برس پر رُکی ہوئی ہے، بے قابو ہو کر کرنل اور شب افروز پر چھری سے مسلسل وار کر کے کیفرِ کردار تک پہنچا دیتا ہے۔ تفتیش اور عدالتی جرح میں اپنا جرم قبول کرتا ہے لیکن محرک بتانے سے قاصر رہتا ہے۔تفتیش اور عدالتی جرح والا یہ آخری حِصّہ کہانی پر بوجھ اور فالتو معلوم ہوتا ہے کیوں کہ کرنل اور شب افروز کے قتل پر کہانی اپنی تکمیل کو پہنچ جاتی ہے۔
 راقم کو نگہت سلیم کے تینوں ناولچوں کو ناولچے تسلیم کرنے میں باک ہے کیوں کہ اِن تینوں کی طوالت علی الترتیب ۹۴، ۶۳ اور ۲۶ صفحات ہے جو ناولچے کی کم سے کم معیاری ضخامت-- ۰۸ تا ۰۲۱ صفحات-- کو نہیں پہنچتی۔ میرے خیال میں اِن تینوں کو بھی افسانے کے زمرے میں شمار کیا جانا چاہیے۔ اُودھے پرکاش کا افسانہ ’’پیلی چھتری والی لڑکی‘‘ جو باریک لکھائی میں لگ بھگ ڈیڑھ صد صفحات سے زاید کا ہے، جسے نقاد ناول یا کم از کم ناولچہ قرار دیتے رہے لیکن خود مصنف اِسے ’’طویل مختصر افسانہ‘‘  ( اگرچہ یہ اصطلاح بھی راقم کے نزدیک صریحاً غلط ہے۔ یہ کیا بات ہوئی کہ کوئی کہانی بہ یک وقت طویل بھی ہو اور مختصر بھی۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی گاڑی کو بہ ایں ہمہ متضاد سمتوں میں چلانے کی کوشش کی جائے)
کہنے پر مصر رہے۔ اِسی طرح دُوسرا حوالہ نوبیل انعام یافتہ کینیڈین افسانہ نویس ایلس مُنرو کا دوں گا، جن کے بعض افسانے ناول کی عام ضخامت یعنی دو سو صفحات تک کے ہےں مثلاً لَو آف اے گُڈ وومن۔
 اِس جملہ معترضہ سے ہٹ کر نگہت سلیم کے افسانوں کے اجمالی تجزےے سے اُن کی تخلیقات میں اُن کی فنی باریکیاں نمایاں، پنہاں اور چھب دِکھاتی نظر آتی ہیں۔ مجھے یہ کہانیاں ہر گز نامانوس نہیں لگیں۔ البتّہ کتاب میں شامل محترمہ خالدہ حسین کے مضمون ’’نامانوس اجنبی کہانیاں‘‘ کی اِس بات سے کامل اتفاق ہے کہ ’’جہانِ گم گشتہ‘‘ کی کہانیوں کا کینوس بے حد وسیع ہے۔ وسیع کینوس کے باوجود ہر کہانی اپنے ایک مخصوص فطری ماحول میں جنم لیتی ہے اور کہانی کی قرأت کے دوران ہی احساس ہو جاتا ہے کہ اِس کہانی کو کسی اَور ماحول میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ جیسے کہ ’’جشنِ مرگ‘‘ میں پہاڑی علاقے کا ماحول تخلیق کیا گیا ہے۔ عام طور پر ’قرشِ ارض‘ کا ارتعاش اور ’ہبوطِ ارضی‘‘ ایسے ہی علاقوں میں وقوع پذیر ہوتا ہے۔ ایک کٹر مولوی کے گھر کا ماحول حبس اور گھٹن زدہ ہی ہونا چاہیے اور یہی ماحول ’’کوئلہ بھئی نہ راکھ‘‘ کے لیے ہر لحاظ سے موزوں ہے۔ اِسی طرح ’’زرنگاری‘‘ ، ’’’’آسمان نے بچھا رکھا تھا دام‘‘ اور ’’آسیبِ مبرّم‘‘ بھی اپنے فطری پس و پیش منظر میں لکھے گئے ہیں۔ ’’حلقہ مری زنجیر کا‘‘ میں نگہت نے داستانِ عشق کے بیان کے لیے تھر کے صحر کے انتخاب ا اَور ’’جہانِ گم گشتہ‘‘ کے لیے بند گلی کے ایک گھر کا ماحول تخلیق کر کے پہلا افسانوی مجموعہ ہونے کے باوجود کہنہ مشقی اور تخلیقی وفور کی کثرت کا بہ خوبی اظہار کیا ہے۔
 جس طرح ہر کہانی اپنے جُدا ماحول میں گتھی ہوئی ہے اِسی طرح کردار بھی کہانی اور ماحول میں رچے بسے ہُوئے ہیں کہ اُن سے باہر کے اور اجنبی محسوس نہیں ہوتے۔ کہانی، ماحول اور کردار تینوں ایک دُوسرے میں اِس طرح پیوست ہیں قاری بھی اپنے آپ کو اُسی کہانی اور ماحول میں پاتے ہُوئے کرداروں کو عمل اور بات چیت کرتے ہُوئے یُوں دیکھتا ہے گویا وہ خُود بھی کہانی کا ایک خاموش کردار ہو۔ ہبوطِ ارضی سے تباہی و بربادی اُس کی نگاہوں کے سامنے پھرتی ہے، دیارِ غیر میں جا بسنے والے بچّوں کی ماں کی تنہائی اُسے بھی ڈستی ہے، مولوی کے گھر کا حبس زدہ ماحول اُسے اپنی سانسوں کا گلا گھونٹتا محسوس ہوتا ہے، ناکردہ گناہ کی پاداش میں گائیدہ کیے جانے کی سزا اُسے بھی بستی کو زنگاری دِکھاتی اور ہوش و خرد  سے بے گانہ ہو کر دیوانہ وار دھمال ڈالنے پر مجبور کرتی ہے تو آسمان کے بچھائے دام سے نجات کا واحد راستہ عدم کی اَور دِکھائی دیتا ہے، ناآسودہ تمنّاؤں کے آسیبِ مبرّم لپٹ جاتے ہیں، اُس کے اندر عشق کا بھانبھڑ ہر سُو آگ برسانے لگتا ہے تو صحرائی بگولے گھیر لیتے ہیں اور لگتا ہے جیسے کسی نے اُس کی گردن کے گِرد کپڑا کَس دیاہے، وہ بے دم ہو کر گِر جاتا ہے۔ وہ ماضی کی ہڑک کا شکارِ سہل بن کر ناستلجیائی ہو جاتا ہے اور رَنج و الم بھری یادوں کی راکھ کُریدتے کُریدتے ایسی مقتل گاہ تعمیر کرتا ہے جہاں قتل ہونے اور قتل کرنے لگتا ہے۔ نگہت کی کہانیوں کے کردار قاری کے اندر سرایت کر جاتے ہیں کیوں کہ وہ اَوپرے اور بے جان نہیں بَل کہ جیتے جاگتے اور زندگی سے بھرپُور ہیں۔ 
 نگہت سلیم کے افسانوں کے موضوعات تو اپنی ہم عصر خواتین افسانہ نویسوں سے اچھوتے ہیں ہی اُن کا اُسلُوب، زبان، لفظوں کا مناسب و موزوں چناؤ اور برتاؤ ، مشاہدے کی گہرائی اور گیرائی بھی اُنھیں ممتاز کرتی ہے۔ وہ جو زبان استعمال میں لاتی ہیں وہ خالدہ حسین کو مائل بہ کلاسیکیت دِکھائی دیتی ہے اور اُنھیں کچھ الفاظ کے لیے لغت کا سہارا لینا پڑتا ہے لیکن میرے خیال میں اِس ندرتِ زبان کا سبب فصاحت و بلاغت ہے-- فصیح و بلیغ زبان کے باوجود ایسی روانی قائم رکھنا کہ قاری بہتا چلا جائے نگہت کی قادر الکلامی سے مملو ہے-- اُن الفاظ کا استعمال ہے جنھیں ماضی قریب سے نظر انداز کر کے-- عام بول چال ہی کیا لکھتوں میں بھی-- برتنا چھوڑ دیا ہے۔ اب جب تک ہم اپنے جملے میں دو چار انگریزی الفاظ نہ برت لیں ہمیں ایک احساسِ کم تری مارے رکھتا ہے اور برتنے پر گردن احساسِ تفاخر سے تن جاتی ہے۔ عام بول چال کو چھوڑیے، ہمارے ادیب بھی تن آسانی اور سہل رسانی کا شکار ہو گئے ہیں۔ اُنھیں ’’ہبوطِ ارضی‘‘ کو ’’لینڈ سلائیڈنگ‘‘ کہنا اور لکھنا سہل لگتا ہے۔ نگہت نے اِس تن آسانی کے بجائے زبان کے احیاء کے لیے تن دہی کا وطیرہ اپنایا ہے جو قابلِ تحسین ہے۔ ’’جہانِ گم گشتہ‘‘ کے افسانے پکار پکار کر کہتے ہیں کہ مصنفہ نے اِن المیوں کو خُود پر سہا ہے۔ ہر المیے کو اپنا المیہ سمجھا ہے اور اپنا المیہ بیان کرنا آسان نہیں ہوتا، ادبِ عالیہ خُون جگر سے نمو پا کر تخلیق ہوتا ہے۔
''' 
نجم الدّین احمد، 259-61/E، بلاک Z، 
ماڈل ٹاؤن، بہاول نگر، پنجاب، پاکستان۔



Category : Criticism
Author : نجم الدین احمد

DEEDBAN

Deedban Publications | N-103 Jamia Nagar New Delhi | Tel: +(91)-9599396218 | Email: deedban.adab@gmail.com
The copyright to all contents of this site is held by the authors of this site. Any kind of reproduction would be an infringement.