Publish Date : 2017-11-16

نالہ شب گیر قسط اول

دیدبان شمارہ ششم ٦

سلسلہ وار ناول : نالہ شب گیر 
(قسط اول )

مصنف : مشرف عالم ذوقی ، انڈیا 
افتتاحیہ 

کچھ ’نالۂ شب گیر کے بارے میں ‘
’’وہ اپنے جسم کے تنے سے اپنے گرے پتّے اُٹھاتی ہے

اور روز اپنی بند مٹھی میں سسک کے رہ جاتی ہے/

وہ سوچتی ہے

کہ انسان ہونے سے بہتر تو وہ گندم کا ایک پیڑ ہوتی/

تو کوئی پرندہ چہچہاتا تو وہ اپنے موسم دیکھتی/

لیکن وہ مٹی ہے، صرف مٹی

وہ اپنے بدن سے روز کھلونے بناتی ہے/

اور کھلونے سے زیادہ ٹوٹ جاتی ہے۔۔ /

وہ کنواری ہے، لیکن ذلت کا لگان سہتی ہے/

وہ ہماری ہے

لیکن ہم بھی اُسے اپنی دیواروں میں چُن کے رکھتے ہیں /

کہ ہمارے گھر اینٹوں سے بھی چھوٹے ہیں /

___سارا شگفتہ

 

نالۂ شب گیر — سوچتا ہوں، آخر مجھے اس ناول کو تحریر کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی — اقبال نے کہا تھا   ؎

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

لیکن کیا سچ مچ ایسا تھا؟ صدیوں میں تصویر کائنات سے مردوں نے تتلیوں جیسے اس کے رنگ کو ’کھرچ‘ کر صرف استعمال ا ور استحصال کا ذریعہ بنا دیا تھا — حقیقت یہ ہے کہ شروع سے مجھے یہ بات پسند نہیں آئی کہ مرد آزادی اور بڑے بڑ ے فلسفوں پر گفتگو کرنے کے باوجود عورت پر پابندیاں لگاتا ہے — گھر کی عورت پہروں، بندشوں اور گھٹن کا شکار کیوں رہتی ہے — خصوصی طور پر پاکستانی عورتوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ راز بھی افشاں ہوا کہ وہاں اگر ایک لڑکی انجینئرینگ یا میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہی ہے تو کوئی ضروری نہیں کہ وہ ڈاکٹر یا انجینئر بن بھی جائے — کیونکہ اس کی تقدیر کا فیصلہ وہ کرے گا، آئندہ اس کی زندگی میں آئے گا — کچھ عورتیں مجازی خدا، شوہر اور شریک حیات کے ناموں سے بھی خفا نظر آئیں۔ یہ حال صرف پاکستان کا نہیں، ہندوستان کا بھی ہے۔ بنگلہ دیش کا بھی ہے — میٹروپولیٹن شہروں کی باتیں چھوڑ دیں تو عورت آج بھی وہی ہے — گھٹن ا ور بندش کا شکار — جہاں اس کے پاس کوئی شناخت نہیں اور وہ مدتوں سے اپنی آزادی کے احسا س کو ترس رہی ہے—

عورت آج برانڈ بن چکی ہے۔ ایک ایسا برانڈ، جس کے نام پر ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنے اپنے پروڈکٹ کو دنیا بھر میں پھیلانے کے لئے اس کی مدد لیتی ہیں۔ چاہے وہ جنیفیر لوپیز ہوں، ایشوریہ رائے یا سشمتا سین۔سوئی سے صابن اور ہوائی جہاز تک، بازار میں عورت کی مارکیٹ ویلیو، مردوں سے زیادہ ہے۔ سچ پوچھئے تو تیزی سے پھیلتی اس مہذب دنیا، گلوبل گاؤں یا اس بڑے بازار میں آج عورتوں نے ہر سطح پر مردوں کو کافی پیچھے چھوڑ دیا ہے — یہاں تک کہ ڈبلیو ڈبلیو ایف میں بھی عورتوں کے حسن اور جسمانی مضبوطی نے صنف نازک کے الزام کو بہت حد تک رد کر دیا ہے۔ یعنی وہ صنف نازک تو ہیں لیکن مردوں سے کسی بھی معنی میں کم یا پیچھے نہیں۔ صدہا برسوں کے مسلسل جبر و ظلم کے بعد آج اگر عورت کا نیا چہرہ آپ کے سامنے آیا ہے تو یقیناً آپ کو کسی غلط فہمی میں رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ عورت آپ اور آپ کی حکومت کی بیڑیاں توڑ کر آزاد ہونا چاہتی ہے — اور اب آپ اُسے روک نہیں سکتے۔

سینکڑوں، ہزاروں برسوں کی تاریخ کا مطالعہ کیجئے تو عورت کا بس ایک ہی چہرہ بار بار سامنے آتا ہے۔ حقارت، نفرت اور جسمانی استحصال کے ساتھ مرد کبھی بھی اُسے برابری کا درجہ نہیں دے پایا — عورت ایک ایسا ’جانور‘ تھی، جس کا کام مرد کی جسمانی بھوک کو شانت کرنا تھا اور ہزاروں برسوں کی تاریخ میں یہ ’دیوداسیاں ‘ سہمی ہوئی، اپنا استحصال دیکھتے ہوئے خاموش تھیں  — کبھی نہ کبھی اس بغاوت کی چنگاری کو تو پیدا ہونا ہی تھا۔ برسوں پہلے جب رقیہ سخاوت حسین نے ایک ایسی ہی کہانی ’مرد‘ پر لکھی تو مجھے بڑا مزہ آیا۔ رقیہ نے عورت پر صدیوں سے ہوتے آئے ظلم کا بدلا یوں لیا کہ مرد کو، عورتوں کی طرح ’کوٹھری‘ میں بند کر دیا اور عورت کو کام کرنے دفتر بھیج دیا۔ عورت حاکم تھی اور مرد آدرش کا نمونہ — ایک ایسا ’دو پایا مرد‘، جسے عورتیں، اپنے اشاروں پر صرف جسمانی آسودگی کے لئے استعمال میں لاتی تھیں۔ میں رقیہ سخاوت حسین کی اس کہانی کا دلدادہ تھا اور بچپن سے کسی بھی روتی گاتی مجبور و بے بس عورت کو دیکھ پانا میرے لئے بے حد مشکل کام تھا — سچ پوچھئے تو میں عورت کو کبھی بھی دیوداسی، بڑنی، سیکس ورکر، نگر بدھو، گنیکا، کال گرل یا بارڈانسر کے طور پر دیکھنے کا حوصلہ پیدا ہی نہ کر سکا۔ بادشاہوں یا راجاؤں مہا راجاؤں کی کہانیوں میں بھی ملکہ یا مہارانی کے ’رول ماڈل‘ کا میں سخت مخالف رہا۔ میں نہ اُسے شہزادی کے طور پر دیکھ سکا، نہ ملکہ عالم یا مہارانی کے طور پر وہ مجھے مطمئن کر سکیں  — کیونکہ ہر جگہ وہ مردانہ سامراج کے پنجوں میں پھنسی کمزور اور ابلا نظر آئیں۔خواہ انہو ں نے اپنے سر پر ملکہ کا تاج یا شہزادیوں سے کپڑے پہن رکھے ہوں۔ تاریخ اور مذہب کی ہزاروں برسوں کی تاریخ میں، خدا کی اِس سب سے خوبصورت تخلیق کو میں لاچار، بدحال اور مجبوری کے ’فریم‘ میں قبول نہیں کر سکتا تھا — ایسا نہیں ہے کہ یہ سب لکھ کر میں ان لوگوں کی سخت مخالفت کر رہا ہوں، جو عورت کی حمایت میں صفحات در صفحات سیاہ کرتے رہے ہوں۔ ممکن ہے، بلندی پر پہنچی عورت کے لئے وہ اپنی طرف سے بھی ایک لڑائی لڑ رہے ہوں، مگر آج کی زیادہ تر کہانیوں میں یہی عورت مجھے اتنی مجبور و بے بس نظر آتی ہے، جیسے آپ بیچ سڑک پر اُسے ننگا کر رہے ہوں  — چلئے مان لیا۔ بے حد مہذب، آزاد ہندستان کے کسی گاؤں، قصبے میں ایک ننگا ناچ ہوتا ہے — اجتماعی عصمت دری یا کوئی بھی ایسا جرم سرزد ہوتا ہے، جس میں ایک کمزور، بے سہارا عورت کا دامن تار تار ہو جاتا ہے۔ میرے کہنے کا مطلب یہی ہے، ایک بار وہ اپنی عصمت دری کا ماتم کر چکی ہے۔ یہ کیسی فنکاری ہے کہ بار بار ایک جھوٹی تخلیق کے لئے آپ اس کو مزید عریاں کرنے پر آمادہ ہیں — شاید زمانہ قدیم سے افسانوں کا یہی سب سے بہتر اور پسندیدہ موضوع رہا ہے۔ جس پر آزادی کے بعد کی ترقی پسندی نے بھیانک، دانشورانہ انداز میں سعیٔ کی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ بہار، اترپردیش، مدھیہ پردیش، راجستھان یا ہندستان کے قبائلی علاقوں یا گاؤں میں ایسے حادثے نہ ہوتے ہوں  — لیکن بے حد ذائقہ دار انداز میں اُنہیں پیش کرنا بھی عریانیت کی حدود پار کرنا ہے۔ ہماری کہانیاں مادام باواری یا اناّ کارنینا کی سطح پر ہے۔ عورت کو دیکھنے سے ہمیشہ گریز کرتی رہی۔

ایسا کیوں ہے، یہ میری سمجھ میں آج تک نہیں آیا — لولیتا سے دی اسکارلیٹ لیٹر تک، ایسا نہیں ہے کہ عورتوں پر ہونے والے ظلم اور استحصال کے خلاف وہاں نہیں لکھا گیا، مگر مغرب میں ادب سے متعلق زیادہ تر موضوعات کا محور یا مرکز صرف یہ جسمانی استحصال نہیں ہے۔ لیکن ہمارے یہاں اردو ہندی دونوں زبانوں میں محض ایک کمزور اور ظلم سہتی ہوئی عورت کا تصور ہی رہ گیا ہے — کیا آج ایسا ہے — ؟ صرف چھوٹے موٹے گاؤں، قصبوں میں ہونے والے واقعات کو درکنار کیجئے — آپ کہہ سکتے ہیں، بڑے شہروں میں بھی اس طرح کے واقعات عام ہیں  — جیسے سیکس اسکنڈلس سے لے کر عورتوں کو زندہ جلائے جانے تک کی داستانیں ابھی بھی مہذب دنیا کا مذاق اُڑانے کے لئے کافی ہیں —

اس حقیقت کو تسلیم کئے جانے کے باوجود مجھے احساس ہے کہ یہ وہ موضوعات ہیں، جنہیں پریم چند سے منٹو تک ہزاروں لاکھوں بار دہرایا جا چکا ہے — اور اس سے بھی بڑا ایک سچ ہے کہ نئے ہزارہ کا سورج طلوع ہونے تک عورت نے اپنی ہر طرح کی بیڑیاں توڑ کر آزاد ہونے کی بھی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ جہاں تک میری بات ہے، نہ میں اُسے غلام دیکھ سکتا ہوں، نہ کمزور — نہ وہ مجھے شاہ بانو کے طور پر قبول ہے اور نہ ہی عمرانہ کے طور پر — میں اُس پر قدرت کی صناّعی دیکھتا ہوں اور یہی چیز میرے ادب کے لئے نئی نئی فنتاسیوں کو جنم دے جاتی ہے —

یعنی وہ ہے ایک پُراسرار ترین مخلوق —

رائیڈرزہیگڑڈ کی ’شی‘ کی طرح — ایک چونکا دینے والی حقیقت — ‘

’جسم — ‘ جسم سے جسم تک — وہ ایک آگ ہے، شرارہ ہے۔ وہ اپنی خوبصورتی اپنے جمال سے آپ کو ’بھسم‘ کر دینے کی صلاحیت رکھتی ہے —

تو آپ اپنی کہانیوں میں اس عورت کو کیوں نہیں تلاش کرتے!‘

میرے ساتھ مشکل یہی ہے کہ میں عورت کے لئے ہمدردی کا بوجھ نہیں اُٹھا سکتا۔ میرے سامنے اُسے دیکھنے اور محسوس کرنے کے لئے دوسرے فریم بھی ہیں۔ میں عورت کو صرف مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا — وہ مجھے فنتاسی کے لئے اتنی مناسب معلوم ہوتی ہے کہ یہ نام آتے ہی کسی دوسری دنیا کی مخلوق یا جنت کے دروازے یا ’پری لوک‘ کا تصورسامنے آ جاتا ہے۔ وہ محبت بھی کرتی ہیں اور ایسی محبت کہ اُس کی محبت کے آگے نہ صرف سجدہ کرنے کی خواہش ہوتی ہے بلکہ آپ سوبار مر کر سو بار زندہ ہوسکتے ہیں۔ وہ ایک نہ ختم ہونے والا ’اسرار‘ہے۔ اُس کی خوبصورتی آپ الفاظ میں قید نہیں کر سکتے۔ اُس کاخوبصورتجسم آپ کے سارے تصورات سے زیادہ شیریں اور غیر یقینی حد تک آپ کے الفاظ کو کھوکھلا اور بے معنی بناتا ہے، کیونکہ وشوامتر کی اس مینکا کو آپ الفاظ کے ذریعہ باندھ ہی نہیں سکتے۔ یعنی، عورت ہر بار میرے لئے طلسم ہوشربا کی ایک ایسی ساحرہ بن کر آتی ہے، جسے پلٹ کر دیکھنے والا انسان پتھر کا ہو جاتا ہے۔ ناقابل یقین، حسن کا مجسمہ اور تخلیقی محرکات کے لئے ایک بیش قیمت تحفہ۔

وہ ندی بھی ہے اور نہیں بھی ہے۔ کوئی سونامی لہر، کوئی جوار بھاٹا، کوئی سیلاب شرارہ، سیلاب، جھومتا گاتا آبشار۔ وہ سب کچھ ہے اور نہیں بھی ہے۔ وہ ایک کبھی نہ ختم ہونے والی ’پری کتھا‘ ہے۔ وہ دنیا کی ساری غزلوں، نظموں سے زیادہ خوبصورت اور’پُراسرار بلا‘ ہے۔ جو آج کی ہر تلاش و تحقیق کے ساتھ نئی اور پُراسرار ہوتی چلی جاتی ہے۔

’عورت‘ — کائنات میں بکھرے ہوئے تمام اسرار سے زیادہ پُراسرار، خدا کی سب سے حسین تخلیق — یعنی اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ وہ عورت کو جان گیا ہے تو شاید اُس سے زیادہ شیخی بگھارنے والا یا اس صدی میں اتنا بڑا جھوٹا کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔ عورتیں جو کبھی گھریلو یا پالتو ہوا کرتی تھیں۔ چھوٹی اور کمزور تھیں۔ اپنی پُراسرار فطرت یا مکڑی کے جالے میں سمٹی، کوکھ میں مرد کے نطفے کی پرورش کرتیں۔ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی وہ محض بچہ دینے والی ایک گائے بن کر رہ گئی تھیں  — مگر شاید صدیوں میں مرد کے اندر دہکنے والا یہ نطفہ شانت ہوا تھا یا عورت کے لئے یہ مرد آہستہ آہستہ بانجھ یا سرد یا محض بچہ پیدا کرنے والی مشین کا محض ایک پُرزہ بن کر رہ گیا تھا۔۔  عورت اپنے اس احساس سے آزاد ہونا چاہتی ہے۔۔  شاید اسی لئے اس ناول کا جنم ہوا۔۔  یا اس لئے کہ عورت جیسی پُراسرار مخلوق کو ابھی اور کُریدنے یا اُس پر تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔ہم نے ابھی بھی مہذب دنیا میں اسے صرف پاک ناموں اور رشتوں میں جکڑ رکھا ہے۔

ماں، ماں ہوتی ہے۔ بہن کی ایک پاکیزہ اور مقدس دنیا ہوتی ہے۔ بیوی کی دنیا ایک الگ دنیا ہوتی ہے۔یہ سب صرف پاکیزہ رشتے اوڑھے ہوتی ہیں، عورت کا جسم نہیں۔ ان رشتوں میں کہیں جسم کا تصور نہیں آتا(ممکن ہے، بیوی کے رشتہ میں آپ اس جسم کو تلاش کرنے کی کوشش کریں لیکن حقیقت یہ ہے کہ عورت سے بیوی بنتے ہی اُس میں شردھا اور تقدس کے پھول بھی کھل اٹھتے ہیں )۔ وہ تصور جو اچانک ’عورت‘ کہتے ہی، آپ کے آگے ایک خواب رنگوں والے اندر دھنش کی خوبصورتی بکھیر دیتی ہے۔ اس لئے عورت کے نام کے ساتھ ان پاکیزہ رشتوں کا تصور نہیں آتا۔ صرف دل کو لبھانے والا جسم، یعنی ایک ایسا جھنجھنا کر بجنے والا جسم، جس کے صرف خیال سے آپ کسی ہوائی گھوڑے پر سوار ہو جاتے ہیں۔ حقیقت میں عورتوں سے متعلق بڑی بڑی باتیں کرنے کے باوجود ہم وہیں ہوتے ہیں ___ اپنی تنگ نظری کا دھواں پیتے ہوئے۔

’’عورت‘‘ — ہزاروں برسوں کے اس سفر میں کہاں کھوگئی ہے عورت؟پہلے بھی کہیں تھی یا نہیں ؟ قدیم گرنتھوں میں دروپدی، کُنتی، سیتا، ساوتری، پاروتی، دمینتی، شکنتلا، میتری وغیرہ — عزت سے پکاری جانے والی، الفی کے آخر تک لکس کا عریاں اشتہار کیسے بن گئی؟ یا وہ اشتہار نہیں بنی۔ ’لرل‘ اور ’لکس‘ کے اشتہاروں سے آگے نکل کر اور بھی مورچے سنبھالے ہیں اس نے — کہا جائے تو ایک پڑاؤ W.W.F.بھی ہے۔ آنے والے وقت میں کہاں کھو گئی یہ عورت؟

’خدائے ستاّر

عصمتوں کو ہزار پردے میں رکھنے والے/

صفات میں تیری عدل بھی ہے/

تو پھر مرے اور میرے محرم کے بیچ

تفریق کا سبب کیا — ؟‘

— عشرت آفریں

ادب تحریر کرنے والی عورتوں کے لئے ایسے سوال کوئی نئے نہیں ہیں۔ کہ اے خدا، اگر تو انصاف پسند ہے تو مرد اور عورت کے درمیان اتنا فرق کیوں ؟ اسی لئے آج کی عورت جب اڑان کے لئے اپنے پرکھولتی ہے تو کبھی کبھی ’جوناتھن سی گل‘ کی طرح اپنے دائرے کو توڑتی ہوئی آگے بڑھ جاتی ہے۔ ہم اُسے کسی بھی نام سے پکاریں لیکن آخر اسے ایسا کرنے کا حق بھی ہم نے ہی دیا ہے۔

یہ مت بھولئے کہ صدیوں کے ظلم اور مردوں کی غلامی سے نجات کے بعد، اپنی آزادی کا استعمال کرتے ہوئے وہ اپنی ایک نئی دنیا بھی بنا سکتی ہے۔ اس نئی دنیا کو تنگ نظری کی آنکھوں سے مت دیکھئے — وہ اڑنا چاہتی ہے تو اُڑان کے نتیجے میں کچھ ’حادثے‘ بھی ہوسکتے ہیں — مگر یہاں سب سے اہم بات یہی ہے کہ وہ اب اپنی اُڑان کے لئے مکمل طور پر آزاد ہے —  میرے لئے یہ کوئی چونکنے والی بات نہیں تھی کہ صدیوں سے استحصال کا بوجھ اٹھاتی عورت اپنے وجود، اپنے جسم اور اپنے حقوق کی لڑائی لڑتے ہوئے کہاں کہاں لہولہان یا شکست کا سامنا کر سکتی ہے یا پھر کہاں کہاں وہ مردوں کو شکست دے سکتی ہے۔

عورت: خوف سے مکالمہ اور احتجاج

’’اور بالآخر وہ ایک دن

اپنے مذہب کے خلاف چھیڑیں گی جہاد/

جس مذہب نے قید کر دیا تھا اُنہیں

ایک بند، گھٹن اور حبس سے بھرے

اندھیرے کمرے میں /

— صمد یزدانی(سندھی شاعر)

عورت نام آتے ہی گھر کی چہار دیواری میں بند یا قید، پردے میں رہنے والی ایک ’خاتون‘ کا چہرہ سامنے آتا ہے۔ اب سے کچھ سال پہلے تک مسلمان عورتوں کا ملا جلا یہی چہرہ ذہن میں محفوظ تھا۔ گھر میں موٹے موٹے پردوں کے درمیان زندگی بسر کر دینے والی یا گھر سے باہر خطرناک برقعوں میں اوپر سے لے کر نیچے تک خود کو چھپائے ہوئے — عرصہ پہلے پارٹیشن پر لکھی ہوئی کسی مشہور ’ہندو افسانہ نگار‘ کے ایک افسانہ میں ایسی ہی ایک برقعہ پوش خاتون کا تذکرہ ملتا ہے — ’’ ہم انہیں دیکھ کر ڈر جایا کرتے تھے۔ کالے کالے برقعہ میں وہ کالی کالی ’چڑیل‘ جیسی لگتی تھیں، تب ہم سڑکوں پر شاپنگ کرتی ان عورتوں سے صرف ڈرنے کا کام لیا کرتے تھے۔‘‘

وقت کے ساتھ کالے کالے برقعوں کے رنگ بدل گئے — لیکن کتنی بدلی مسلمان عورت یا بالکل ہی نہیں بدلی — قاعدے سے دیکھیں، تو اب بھی چھوٹے چھوٹے شہروں کی عورتیں برقعہ تہذیب میں ایک نہ ختم ہونے والی گھٹن کا شکار ہیں۔ لیکن گھٹن میں بغاوت بھی جنم لیتی ہے اور مسلمان عورتوں کی بغاوت کی لمبی داستان رہی ہے۔ ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ ’مذہب کے اصولوں اور قوانین کو زندگی سے تعبیر کرنے والی‘ صوم وصلوٰۃ کی پابند عورت نے ایک دن اچانک بغاوت یا جہاد کے لئے بازو پھیلائے اور کھلی آزاد فضا میں سمندری پرندے کی طرح اڑتی چلی گئی۔

’فرہنگ آصفیہ‘ میں بغاوت کا لفظی معنی نافرمانی اور سرکشی کے آیا ہے۔ نافرمانی کی پہلی کہانی دنیا کے پہلے انسان یا پہلے پیغمبر حضرت آدمؑ کی بیوی حضرت حوّا سے شروع ہو جاتی ہے۔ اﷲ نے سب سے پہلے آدم کو پیدا کیا اور پھر آدم کی تنہائی ختم کرنے کے لئے اُن کی پسلی سے حضرت حوّا کو پیدا کیا۔ جنت میں سب کچھ کھانے پینے کی آزادی تھی، لیکن ایک درخت کے بارے میں حکم تھا کہ اس کا پھل کبھی مت چکھنا۔ ’نافرمانی‘ کی پہلی روایت یہیں سے شروع ہو جاتی ہے۔ عورت پیدائش کے وقت سے ہی اپنی تجسس کو دبا پانے میں ناکام رہی ہے۔ اس کے اندر سوالوں کی ایک ’دنیا‘ پوشیدہ ہوتی ہے۔ حضرت آدمؑ نے لاکھ سمجھایا۔ لیکن آخر کار حضرت حوّا نے ’گندم‘ توڑ کر کھا ہی لیا اور اسی نافرمانی کے نتیجے میں آدمؑ اور حوّا کو جنت سے نکالا گیا اور وہ دنیا میں آ گئے۔

تو دنیا کے دروازے آدمؑ اور حوّا کے لئے کھل چکے تھے۔ وہ آپس میں مل کر رہنے لگے۔ حضرت حوّا جب پہلی دفعہ حاملہ ہوئیں، تو ایک بیٹے اور ایک بیٹی کی ایک ساتھ پیدائش ہوئی۔ بیٹے کا نام ’قابیل‘ اور بہن کا نام ’اقلیمہ‘ رکھا گیا۔ دوسری دفعہ جب حاملہ ہوئیں، تو ایک بیٹا ’ہابیل‘ اور بہن ’یہودا‘ کی پیدائش ہوئی۔ شریعت کے مطابق ایک پیٹ کی بیٹی کو دوسرے پیٹ کے بیٹے سے رشتۂ ازدواج میں منسلک کرنا تھا۔ یعنی شریعت کے مطابق ’قابیل‘ کی شادی ’یہودا‘ کے ساتھ اور ’ہابیل‘ کی ’اقلیمہ‘ کے ساتھ طے پائی تھی۔

یہ کیسی افسوسناک بات ہے کہ دنیا کے پہلے قتل کی وجہ بھی ایک عورت ہی بنی۔ پہلا قتل ایک عورت کے نام پر ہوا تھا۔ قابیل پہلی لڑکی یعنی اقلیمہ سے پیار کر بیٹھا۔ اس طرح عورت کے نام پر ’ہابیل‘ کو اپنی جان گنوانی پڑی۔

شریعت کا فرمان جاری کرنے والے اور اُس پر عمل کرنے والے مولویوں نے ہر بار مذہب کی حفاظت کی آڑ لے کر عورت کو اپنے پیر کی جوتی بنانے کی کوشش کی ہے۔ مسلسل ظلم، بیویوں کے ساتھ نا انصافیوں رواج، آزادی سے کچھ قبل تک بیوی کی موجودگی میں ’داشتہ‘ رکھنے اور کوٹھوں پر جانے کا رواج، اس بارے میں اپنی مردانگی کی جھوٹی دلیلیں، شہزادوں، نوابوں اور مہاراجاؤں کے ہزاروں لاکھوں قصوں میں عورت نام کی چڑیا سچ مچ مردوں کی بے محابا خواہشات کی تکمیل کے لئے کھیتی بن گئی تھی — مرد عورت کی ’زمین‘ پر ہل چلا سکتا تھا، رولر چلا سکتا تھا۔ زمین کو چاہے تو زرخیز اور چاہے تو بنجر بنا سکتا تھا — وہ مرد کی ’کھیتی‘ تھی اس لئے اُسے بولنے کا کوئی حق نہیں تھا۔ مرد اُس کاکسی بھی طرح کا استعمال کر سکتا تھا۔

مسلم معاشرے نے عورت کو وہیں اپنایا، جہاں وہ مجبور تھی، جہاں اُسے مارا پیٹا یا سزا دی جا سکتی تھی۔ جہاں مرد عورتوں کو ’حلال‘ کر کے جبراً ان کے مالک بن سکتے تھے___ ایسا نہیں ہے کہ دوسرے معاشروں میں یہ عورت راحت و آرام کی سانس لے رہی تھی۔ یہ عورت ہر جگہ بندشوں میں گھری ہوئی تھی۔مذہب کی بیڑیاں توڑ کر عورت جب چیخی، تو اُس کی چیخ سے آسمان میں بھی سوراخ ہو گیا۔ دیکھا جائے تو عورت ہر جگہ قید میں تھی۔ تبھی تو سیمون دبوار کو کہنا پڑا — ’عورت پیدا نہیں ہوتی، بنائی جاتی ہے۔‘

سیمون دبوار کی آپ بیتی کا ایک واقعہ یاد آ رہا ہے۔ قاہرہ کے ایک سیمینار میں بولتے ہوئے سیمون نے مردوں پر عورتوں کے لئے حاکمانہ، زمیندارانہ اور ظالمانہ رویہّ اختیار کرنے کا الزام لگایا۔ وہاں تقریب میں شامل مردوں نے سیمون کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ عورتوں کی نا برابری اُن کے مذہب کا حصہ ہے اور قرآن میں اس کا ذکر ہے اور مذہب کا قانون دنیا کے ہر قانون سے اوپر ہے۔

یہاں میں صرف ایک مثال دینا چاہوں گا۔ صرف یہ دکھانے کے لئے کہ دیگر ملک یا معاشرہ میں بھی شروع سے ہی عورت کی یہی حالت رہی ہے۔ انگریزی ناول ایسی مثالوں سے بھرے پڑے ہیں۔ایم جی لیوس کا مشہور ناول ’دی میک۔۔ ‘جب1796 میں شائع ہوا، تو ادبی دنیا میں ہلچل مچ گئی۔ دنیا بھر کے عیسائی طبقے میں اس ناول پر نا اتفاقی کی فضا پیدا ہو گئی۔ پادریوں نے خاص اعلان کیا کہ یہ ناول نہ خریدا جائے، نہ پڑھا جائے اور نہ گھر میں رکھا جائے۔ ’دی میک‘ میں عورتوں کو ’نن‘ بنانے والی رسم کے خلاف جہاد چھیڑا گیا تھا — مذہبی پادریوں کے، عورتوں کے جسمانی استحصال کے ایسے ایسے قصّے اس کتاب میں درج تھے کہ دنیا بھر میں اس کتاب کی ہولی جلائی گئی — سچ تو یہی ہے، جیسا کہ سیمون دبوار نے کہا تھا — ’’عورتیں پیدا نہیں ہوتیں بنائی جاتی ہیں۔ وہ ہر بار نئے مردانہ سماج میں نئے نئے طریقے سے ’ایجاد‘ کی جاتی رہی ہیں۔‘‘

کیا یہ بند بند سے معاشرے کا احتجاج تھا، یا مسلم مردانہ سماج سے صدیوں میں جمع ہونے والی بوند بوند نفرت کا نتیجہ۔ یہ مذہب کا کرشمہ تھا یا صدیوں قید میں رہنے والی عورت اور اُس کی گھٹن کا نتیجہ — برسوں سے گھر کی چہار دیواری میں قید عورت کو آخر ایک نہ ایک دن اپنا پنجرا تو توڑنا ہی تھا۔ دیکھا جائے تو یہ بغاوت کے تیور معاشرے میں کم و بیش جنم لیتے رہے تھے۔ نبیوں کی روایت میں حضرت محمدؐ آخری نبیؐ ہیں۔ یعنی اُن کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ لیکن بہت بعد میں قرۃ العین طاہرہ نام کی ایک عورت نے اعلان کیا کہ میں ’’نبیہ‘‘ ہوں۔ اﷲ نے یہ کہا ہے کہ مرد پیغمبر نہیں آئیں گے۔ یہ کہاں کہا گیا ہے کہ عورت پیغمبر نہیں آئیں گی۔ نتیجہ میں قرۃ العین طاہرہ کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ اردو کے مشہور نقاّد سجاد حیدر یلدرم کو کہنا پڑا — ’’میں حشر کا قائل نہیں، مگر حشر کا منتظر ضرور ہوں۔ میں قرۃ العین طاہرہ کے قاتلوں کا حشر دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘

دراصل عورت اب عورت کے گندے ماضی سے لڑ رہی تھی — عورت تاریخ پر چابک برسا رہی تھی۔ وہ صدیوں میں سمٹے اُن پہلوؤں کا جائزہ لے رہی تھی، جب جسمانی طور پر اُسے کمزور ٹھہراتے ہوئے مردانہ سماج میں اُس پر ظلم وستم ایک ضروری مذہبی فریضہ بن چکا تھا۔

یہ بھی دیکھنے کی بات ہے کہ دراصل بغاوت کی بیار زیادہ تر وہیں بہہ رہی تھی، جہاں بندشیں تھیں  — دم گھٹنے والا معاشرہ تھا۔ شاید اسی لئے تقسیم کے بعد کے پاکستان میں حکومت کرنے والے علماء اور ملاؤں کے خلاف عورتوں نے بغیر خوف اپنی آواز بلند کرنا شروع کی۔ کہاں ایک طرف پردہ نشینی کا حکم اور کہاں دوسری طرف دھکا دھک سگریٹ پیتی ہوئی، الفاظ سے تلوار کا کام لیتی ہوئی عورتیں —

دراصل نئے اسلامی معاشرے میں نوکر شاہی اور سیاست کا جو گھناؤنا کھیل شروع ہوا تھا، وہاں مرد صرف اور صرف ظالم حاکم تھا۔ عورت نئی اسلامی جمہوریت میں، مذہب کا سہارا لے کر پیر کی جوتی بنا دی گئی تھی، درد بھرے انجام کو پہنچی عورتوں کی اسی کہانی پر تہمینہ درّانی نے اپنی آپ بیتی لکھنے کا فیصلہ کیا۔ پاکستانی سیاست کے اہم ستون مصطفیٰ کھر نے سیاست اور مذہب کے درمیان ہم آہنگی قائم کرتے ہوئے اپنی بیویوں کے ساتھ ایسے ظلم کئے کہ آج کے مہذب سماج کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ تہمینہ کی آپ بیتی ’میرے آقا‘ نے پاکستان کے سیاسی ادبی حلقے میں ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ یہ عورت کے ظلم وستم کی داستاں تو تھی ہی۔ لیکن عورت اب بھی اپنے وجود کے لئے مرد کو نیچا دکھانے پر اتر آئی تھی۔

بقول سلوِیا باتھ —

’میں تو شبدوں کی پہیلی ہوں۔

ایک ہاتھ/

ایک طلسمی گھر/

ایک تربوز/

جو لڑھک رہا ہو/

ایک سرخ پھل ہاتھی دانت، صندل کی لکڑی /

وہ ریزگاری

جو ابھی ابھی تازہ، ٹکسال سے نکلی ہو،

میں ایک رشتہ ہوں

اسٹیج ہوں، گائے کا بچھڑا ہوں

میں نے سنہرے سیبوں کا بھرا تھیلا کھایا ہے

اور اب میں

اُس ٹرین میں سوار ہوں

جو کہیں رُک نہیں سکتی‘‘

میں برابری ا ور آزادی کا قائل ہوں  — اس لئے برسوں سے ایک ایسی کہانی کی تلاش میں تھا، جہاں اپنے تصور کی عورت کو کردار بنا سکوں  — اس ناول میں دو کردار ہیں  — صوفیہ مشتاق احمد ا یک خوفزدہ لڑکی کی علامت بن کر سامنے آتی ہے یہاں مجھے ضرورت ایک ایسی عورت کی تھی، جسے صوفیہ مشتاق احمد کے ساتھ مضبوطی کی علامت بنا کر پیش کر سکوں  — ناہید ناز کا کردار ایک ایسا ہی کردار ہے کہ جب ناہید کے کردار نے جنم لیا تو میری مشکل آسان ہو گئی۔ نہ وہ نفسیاتی مریضہ ہے نہ پاگل، مگر وہ صدیوں کے کرب اور غلامی سے آزاد ہونا چاہتی ہے — کیا یہ آسان ہے! یا صرف ناول اور کہانیوں تک محدود؟ ہم جس معاشرے میں ہیں، وہاں آج بھی عورت کی آزادی کا تصور نہیں کیا جا سکتا — اس لیے ’’نالۂ شب گیر‘‘ صدیوں کی وہ درد بھری موسیقی ہے، جو شب کے بحر ظلمات کا سینہ چیر کر پیدا ہو رہی ہے۔۔  مگر یہاں کون ہے جس کے پاس درد کی ان صداؤں کو سننے کے لئے وقت ہے۔ یہاں کی ہر عورت’ سیمون دبوار‘ ہے، جسے درد بھری آواز میں آخر کار یہی کہنا ہوتا ہے، عورت پیدا کہاں ہوتی ہے۔۔  وہ تو بس بنائی جاتی ہے۔۔

٭٭٭
دیدبان شمارہ ششم ٦
سلسلہ وار ناول : نالہ شب گیر 
مصنف : مشرف عالم ذوقی ، انڈیا 
حصہ اول 

 

دشت خوف
 

(صوفیہ مشتاق احمد)
 

 

 

نالۂ شب گیر
 

روز ازل سے اب تک کے فسانے میں ایک مرد ہے ایک عورت

لیکن غور کریں تو دونوں کی کہانی کتنی جدا ہے۔

خدا نے مرد کا تصور کیا تو ساتھ ہی نا تراشیدہ خوفناک چٹانوں اور عظیم الشان پہاڑوں کی تخلیق میں مصروف ہو گیا۔

خدا نے عورت کا تصور کیا تو گدلے پانی میں گڈمڈ ہوتی آسیبی پرچھائیوں کو دیکھا۔ عورت کی تخلیق کے ساتھ گدلے پانی کو عالم بالا سے عالم سفلی کی طرف اچھال دیا۔۔

اور وہاں خوف کی شکلیں نمودار ہو گئیں۔

مرد چٹانوں پر شان کبریائی سے کھڑا تھا۔

عورت گدلے پانی میں جھانکتی ہوئی خوف کی پرچھائیوں کے درمیان سہمی ہوئی کھڑی تھی۔ اور اس کی تقدیر اسی نالۂ شب گیر سے جوڑ دی گئی تھی۔

خدائے لوح و قلم نے اسے مرد کے لئے لوح مشق بنا کر بھیجا اور روز ازل سے وہ ضرب کی جگہ تقسیم ہوتی ہوئی بے نشاں بن چکی ہے —

 

مصنف کے نوٹس
ایک واہیات شب کے ساحل پر کھڑی لڑکی کا پورٹریٹ

 

XXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXX

XXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXX

XXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXX

XXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXX

XXXXX

ہنسنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ چونکنے کی ضرورت ہے، مندرجہ بالا سطور میں، میں نے کچھ لکھنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن لکھتے ہوئے احساس ہوا، یہاں ہر لمحہ ایک نئی دنیا بن جاتی ہے اور اوپر جو کچھ لکھا، وہ سب ماضی کا حصہ، بیکار یا واہیات ثابت ہو چکا ہوتا ہے۔ میری اس بات کو اس طرح سمجھیں کہ ابھی ایک زمین کے، ایک خالی حصہ کو کراس کرتے ہوئے ہم آگے بڑھتے ہیں اور واپس آتے ہیں تو یہاں ایک نیا شہر آباد رہتا ہے۔ نیا ہائی وے — فلک بوس عمارتیں  — فلائی اورس کے جال — سڑک پر خطرناک ٹریفک اور ایک دوسرے سے ٹکراتی ہوئی گاڑیاں۔ غور کریں تو اس سے زیادہ برق رفتاری کے ساتھ خیالات کا ٹکراؤ ہو رہا ہے۔ ہم ایک لفظ لکھتے ہیں۔ اور دوسرے ہی لمحے اس کے نئے معنی پیدا ہو جاتے ہیں۔ یقین نہ ہو تو فیس بک، ٹوئیٹر اور اس طرح کے دوسری ماڈرن ویب سائٹس دیکھ لیں  — اور اس ماڈرن ویب سائٹس کے ہائی وے پر اگر دو لوگ کھڑے ہیں تو آپ وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ یہ دو لوگ کون ہیں۔ آیا ان میں مرد کون ہے اور عورت کون — ؟ ممکن ہے پہلی نظر میں جو عورت ہو وہ دوسری نظر میں مرد ثابت ہو — یا جو پہلی نظر میں مرد ہو وہ دوسری نظر میں انفارمیشن ٹکنالوجی سے نکلا ہوا ایک انقلابی بزنس ماڈل ثابت ہو۔۔  اس لیے قارئین، سب سے پہلے مندرجہ بالا سطور میں جو کراس کے نشان ہیں انہیں پڑھنے کی کوشش کیجئے — یقینی طور پر وہاں کچھ لکھنے کی کوشش کی گئی تھی۔ مگر اب نہیں ہے۔ اب وہاں صرف کراس ہے اور کراس پر غور کریں تو ایک اور نئی بات سامنے آتی ہے۔ جب ہم غصے میں تحریر کو کراس کرتے ہیں تو اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ ہم ایک خیال میں رنگ بھرنے سے پہلے ہی اسے مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یا، خیال میں جو رنگ بھرنے کی کوشش کی گئی، اس میں رنگ بھرنے کے ساتھ ہی رنگوں نے اترنا بھی شروع کر دیا اور آپ غور کریں تو کراس میں دو لکیریں ملتی ہیں  — اور کہتے ہیں دنیا بھی اس لیے آباد ہوئی کہ یہاں دو جنس کے لوگ تھے۔ ایک مرد، دوسری حوا — صرف حوا یا آدم ہوتے تو شاید دنیا کا عمل ہی سامنے نہ آتا۔ کراس کی ایک لکیر میں ایک حوا چھپی ہے۔ اور دوسری لکیر میں آدم ۔۔  آپ ملاحظہ کریں تو دونوں لکیریں ایک جیسی ہیں اور آپ کے لیے پہچاننا مشکل کہ آدم کون ہے اور حوا کون۔۔  آپ ان دونوں لکیروں کو گھماتے جائیے۔۔  مگر آخر تک یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گا کہ کون سی لکیر طاقت کا اشارہ ہے اور کون کمزوری کی علامت۔۔

قارئین! ہماری اس کہانی یا اس نئی دنیا کے ساتھ یہی ہو رہا تھا۔ عرصہ تک بلکہ صدہا صدی تک ایک لکیر، دوسری لکیر پر حاوی ہو کر صفحہ ہستی پر اپنا تماشہ دکھاتی رہی۔ مگر اس درمیان دوسری سوئی ہوئی لکیر میں حرکت ہوئی اور پہلی لکیر کا تماشہ نہ صرف بند ہوا بلکہ انہیں دیکھنے والے فرشتے بھی دم بخود رہ گئے۔۔

’نہیں ۔۔  وہ اول لکیر والا۔۔ ‘

’آپ غلط سمجھے۔۔  وہ حوا ہے۔۔ ‘

’اور دوسری لکیر۔۔ ‘

’وہ بھی حوا ہے۔۔ ‘

ہنسنے کی آوازیں۔۔  ’پھر آدم کہاں گیا؟‘

’آدم کراس میں چھپا ہے۔ وہ دیکھیے۔۔  لیکن کراس میں تو حوا بھی ہے۔۔  تو پھر ان دونوں میں سے آدم کون ہے اور حوا کون ۔۔ ؟

 

قارئین، سچائی یہ ہے کہ حقیقت، فنٹاسی میں اور فنٹاسی حقیقت میں جذب ہو گئی ہے۔ یہ کنفیوژن، یہ الجھن، یہ سارا کچھ y2k سے پیدا ہوا ہے۔

y2k ۔۔ ؟قارئین، چونکنے کی ضرورت نہیں ہے۔

ابھی سے پندرہ سال پہلے عورت کی طرح، سیمون د بوار کے لفظوں میں کہوں، تو یہ دنیا نئی نئی سیپ سے برآمد ہو رہی تھی۔۔  ایک نیا گلوبل گلوب ہمارے سامنے تھا، جس میں ایک ساتھ یہ مکمل دنیا ایک دوسرے کو دیکھ سکتی، پہچان سکتی اور گلوبل مارکیٹ کا ایک حصہ بن سکتی تھی۔۔  سن ۲۰۰۰ — یعنی y2k ۔۔  نئی صدی میں ’oo‘ کے اعداد کے ساتھ ایک غراتی ہوئی خوفناک بلی آ گئی تھی۔۔  جو ایلس کی طرح ونڈر لینڈ کی فنٹاسی سے باہر چھلانگ لگا کر اس نئی دنیا میں غرا رہی تھی کہ اب دیکھو۔۔  یہ ’oo‘ تمہاری دنیا میں ایک جھٹکے سے زلزلے کے آثار پیدا کر کے، نئے کھیل دکھانے والا ہے۔ ساری دنیا اور دنیا بھر کے انجینئر y2k کا حل تلاش کرنے میں لگ گئے۔ اور اس تلاش میں ہماری گول گول گھومتی اور لرزتی دنیا کو آئی ٹی کا جھنجھنا مل گیا۔ اس جھنجنے کے ملتے ہی گلوبل طلسمی آئینہ سے جھانکتا ہواہندوستانی بازار ایک نئی انگڑائی لے چکا تھا — اور یہ سب y2k کی وجہ سے تھا۔ انٹرنیشنل مارکیٹ فارین شیئر، اکسچینج، اسٹاک آپشن اور راتوں رات ایک بدلتی ہوئی زندگی تھی۔۔  خواب اور فنٹاسی گم تھے۔۔  انقلاب کا واسطہ حقیقت کی سرزمین سے تھا مگر کتنی عجیب بات، یہ سرزمین ابھی بھی عروج اور زوال میں کھوئی ہوئی تھی۔ ایک طرف ملٹی اسکائی بلڈنگس اور فلائی اورس کے جال تھے تودوسری طرف جھگی جھونپڑیاں بھی تھیں۔ ایک طرف لیپ ٹاپ، ڈیجٹل موبائیل تھے، حیران کرنے والے شاپنگ مالس تھے، تو دوسری طرف ڈپریشن کا شکار اکانومی بھی تھی۔ ایک طرف گے، لیسبیئن، لیو ان ریلیشن شپ کی حمایت کرنے والے تھے تو دوسری طرف عشق کے نام پر زندہ جلا دی جانے والی واردات اور رحم مادر میں ہی لڑکی کو پیدائش سے پہلے ہی ختم کر دینے جیسے خیالات بھی تھے۔ ’کنیکٹیویٹی کے اس دور میں، y2k کے انقلاب کے پندرہ برسوں میں جدید و قدیم کا یہ سنگم حیران کرنے والا تھا۔ ہم اڑتے اڑتے بھی کیڑے سے بدتر تھے اور چلتے چلتے بھی کیڑے سے بد تر۔۔

انقلاب کے ان پندرہ برسوں میں لفظ ومعنی کی شکلیں بد لی تھیں۔ اور شاید یہیں سے اس کہانی کے پیدا ہونے کی کلبلاہٹ سنائی دینے لگی تھی۔۔ اور قارئین اس لیے آئندہ صفحات پر جو کہانی آپ پڑھنے جا رہے ہیں وہاں کی فضا کچھ کچھ انہی خیالوں سے مانوس ہے — بندر ڈگ ڈگی بجائے گا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک آدم قد بن مانس میں تبدیل ہو جائے گا۔ ترقی کی ریس میں سوشل انجینئرنگ ڈائنوسار جیسے انسان پیدا کرے گی اور سیاست سرکس میں تبدیل ہو جائے گا۔ ہم کراس اور تضاد کے پل پر سوار ہیں جہاں ہم شاخوں پر بیٹھے بھی ہیں اور اپنی ہی شاخوں کو کاٹ بھی رہے ہیں۔ جہاں ہم تیزی سے مارس اور پگھلادینے والے سورج کی طرف قدم بڑھانے کے بارے میں غور کر رہے ہیں اور دوسری طرف ہم سوائن فلو اور سارس جیسی بیماریوں کے شکار ہو رہے ہیں۔۔  ایک طرف ہم بھول گئے ہیں کہ کراس کی ایک لکیر مرد ہے یا عورت — اور دوسری طرف رشتوں کے سجے بازار میں بیٹھی ہوئی ایک لڑکی آج بھی پندرہویں صدی کے قید خانے میں قید ہے اور معاف کیجئے گا، آئندہ صفحات میں، ایک ایسی ہی لڑکی سے میں آپ کی ملاقات کرانے جا رہا ہوں، اور اس کی ضرورت یوں پیش آئی کہ ایک واہیات رات، انقلاب کی تیز رسی پر پھسلتی ہوئی دنیا کے بارے میں جب یہ احمق غور کر رہا تھا، اور ہیٹ، گڈنائٹ اورآل آؤٹ سے بھی نہیں مرنے والے مچھر مجھ پر حملہ کر رہے تھے، اور میں ایک خالی کینواس پر اس لڑکی کا پورٹریٹ بنانے کی کوشش کر رہا تھا — y2k کے 00 اچانک اچھل کر میرے سامنے آ گئے۔ اور یہ لمحہ میرے لیے اذیت ناک تھا جب میں اچھلتا ہوا کورے کینواس اور پھر اس کہانی کا حصہ بن گیا تھا۔

کہنا مشکل ہے کہ کراس کی پہلی لکیر میں کس کا چہرہ چھپا تھا — ؟ ناہید ناز کا یا صوفیہ مشتاق احمد کا؟ یا کسی دوسری عورت کا۔ جیسے یہ کہنا مشکل ہے کہ کراس کی دوسری لکیر میں کس کا چہرہ پوشیدہ تھا، کمال یوسف کا یا کسی اور مرد کا — جیسے یہ کہنا مشکل ہے کہ y2k انقلاب کے پندرہ برسوں بعد یہ دنیا مریخ پر اڑنے کی تیاری کر رہی ہے۔۔  یا دیگر صورت میں یہ دنیا پندرہویں صدی کے اندھیرے میں گم ہونے جا رہی ہے۔۔  اور میری مجبوری یہ کہ یہ کہانی کسی ایسے موسم میں برآمد ہوئی جہاں لغات سے نکلے ہوئے لفظ، تتلی کے پروں کی طرح، رنگوں کو کشید کرتے ہوئے، پھڑپھڑاتے ہوئے ہوا میں اس طرح بکھر گئے کہ کمال یوسف، ناہید ناز میں یا ناہید ناز، کمال یوسف کے قالب میں سما گئے اور اس طرح جیسے پلک جھپکی، عقاب نے پر پھیلائے اور دنیا چپکے سے تبدیل ہو گئی۔

 

معاف کیجئے گا، یہاں ایک مصنف کے طور پر میں نے کچھ نوٹس لیے ہیں اور جو حقیقت سامنے آئی، اسے اپنے طور پر بتانے یا سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ ممکن ہے میری فکر کا دائرہ محدود ہو تو یہ آپ پر ہے کہ آپ اپنے طور پر تجزیہ کے پل صراط سے گزریں اور نئی صدی کی تاریخ کے صفحات سے گزرتے ہوئے، جو واقعات آپ کے سامنے رکھے جا رہے ہیں آپ ان کا اپنی سطح پر نتیجہ برآمد کریں۔ یہ آپ کی صواب دید پر ہے کہ آپ میرے نظریہ کی حمایت کرتے ہیں یا مخالفت۔ یہ آزادی بہر صورت آپ کے اختیار میں ہے۔

اور ایک ایسے عہد میں، میں نے یہ کہانی سنانے کی ذمہ داری قبول کی ہے جہاں جدید و قدیم، فنٹاسی اور حقیقت، نئے اور پرانے دماغ ایک دوسرے میں تحلیل ہو رہے ہیں۔ سوشل نیٹ ورکنگ کی اس نئی اور چونکانے والی دنیا میں الفاظ نئے سرے سے خود کو دریافت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔  اوراسی نئی دنیا سے دو عورتیں برآمد ہوئی ہیں۔ ایک صوفیہ مشتاق احمد اور دوسری ناہید ناز۔۔

اور اس وقت بھی وہ میلا سا کاغذ میرے ہاتھوں میں ہے، جہاں ایک بلی کی تصویر بنی ہوئی ہے اور اس کے پیٹ میں ایک چوہا ہے — میں زندگی کی نئی حقیقتوں کے تعاقب میں، اب بھی تصویر میں پوشیدہ مفہوم کو سمجھنے کی سعی کر رہا ہوں۔۔

تو ایک تھی صوفیہ۔۔  صوفیہ مشتاق احمد —

٭٭٭

 

 

 

 

 

To be, or not to be: that is the question:

Whether ‘tis nobler in the mind to suffer

The slings and arrows of outrageous fortune,

Or to take arms against a sea of troubles,

And by opposing end them? To die: to sleep;

No more; and by a sleep to say we end

The heart-ache and the thousand natural shocks

That flesh is heir to, ‘tis a consummation

Devoutly to be wish’d. To die, to sleep…..

Wi٭٭

iam Shakespeare

 

 

 

(1)
 

’’میں ہر بار تمہارے گھر کی الگنی پر گیلے کپڑے کی طرح ’لٹکی‘ رہی۔ تم میرے لئے مٹھی مٹھی بھر دھوپ لاتے تھے۔ اور میں تھی، برف جیسی یخ___ دھوپ تمہاری مٹھیوں سے جھڑ جھڑ جاتی تھی۔۔  سوکھتی کیسے میں۔۔ ؟ تمہارے ہی گھر کی الگنی پر لٹکی رہی۔ دُکھ دینے کے لئے تمہیں۔‘‘

 

وہ کچھ ایسا ہی سوچتی تھی۔ اپنے بارے میں  — وہ یعنی، صوفیہ مشتاق احمد۔ اُسے اپنے بارے میں کچھ بھی سوچنے کا حق حاصل تھا۔ جیسے یہ کہ راتیں کیوں ہوتی ہیں ؟ جیسے یہ کہ آسمان پر ٹمٹماتے تاروں میں، اُس کی بھولی بسری عمر کیسے سماجاتی ہے۔۔ ؟ جیسے یہ کہ صبح کیوں ہوتی ہے۔۔ ؟ سورج کیوں نکلتا ہے۔۔ ؟ دھوپ سے زندگی کا کیسا رشتہ ہوتا ہے — ؟

قارئین! مجھے احساس ہے کہ میں نے کہانی غلط جگہ سے شروع کر دی۔ اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ایسا میرے ساتھ اکثر ہوا ہے۔ مگر پیارے قارئین، مجھے اس بات کا اعتراف کر لینے دیجئے کہ مجھے اس کہانی کو لکھنے کا کوئی حق نہیں تھا اور یقین جانیے، اس کہانی کے کرداروں سے، ملنے سے قبل تک مجھے اس بات کا احساس تک نہیں تھا کہ زندگی سے وابستہ بے حد معمولی سچائیاں اتنی تلخ، اتنی سنگین بھی ہوسکتی ہیں  — مجھے یہ بھی احساس ہے کہ آج کے عہد میں، جس کے بارے میں یہاں تک کہا جاتا ہے کہ اس سے زیادہ مہذب ترین دنیا کا کوئی تصوراوبامہ کے پاس بھی نہیں ہے — اور نیوکلیائی ہتھیاروں کی، انسانوں کے قتل عام کی اس سے بدصورت مثال شاید تاریخ کے بے رحم صفحوں پر بھی مشکل سے ہی ملے گی — مجھے احساس ہے کہ انسانی بم، جینوم، کلوننگ اور نیوٹکنالوجی کے اس عہد میں میں آپ کو ایک ایسی کہانی سنانے جا رہا ہوں، جس پر چوتھی دنیا کے مہذب ترین لوگ شاید ہی بھروسہ کر سکیں  — انسانوں کو غلام بنانے والی کہانیاں اور غلاموں سے کیڑے مکوڑوں سے بھی زیادہ بدترین سلوک کی فنتاسیاں، معاف کیجئے گا، لوگ بھولے نہیں ہیں  — تاریخ کے صفحات اذیت اور جبر کی مثالوں سے بھرے پڑے ہیں  — لیکن یقین جانئے، میں ایسی کوئی رس بھری، لذیذ داستان آپ کے سامنے رکھنے نہیں آیا — اور آپ ہنسیں گے، یقیناً آپ کو ہنسنا چاہئے — کہ خود کو مہذب ثابت کرنے کی ریس میں اگر آپ کو کوئی ایسا قصہ سنایا جائے کہ عظیم طاقتوں میں سے ایک بننے جا رہے ملک ہندستان میں، ایک مسلمان لڑکی اپنی شادی کے لئے، ’شاہزادوں ‘ کا انتظار کرتے کرتے تھک گئی اور اچانک ایک دن اُس نے ایک تنہا، اُداس کمرے میں — آسیبی داستانوں کے مشہور زمانہ کردار ڈراکیولا کو دیکھ لیا — تو چونکئے گا مت — اور یقین جانیے، ہماری اس کہانی کی کردار صوفیہ مشتاق احمد کے ساتھ بھی یہی ہوا —

٭٭

 

آدھی رات گزر چکی تھی۔ کمرے میں زیروپاور کا بلب جل رہا تھا۔ باہر خوفناک آندھیاں چل رہی تھیں۔ پتّے سرسرا رہے تھے۔ باہر کوئی جنگل نہیں تھا۔ پھر بھی چمگادڑوں، بھیڑیوں، الّو اور طرح طرح کی خوفناک آوازیں رات کے پُراسرار سناٹے کو اور بھی زیادہ خوفناک بنا رہی تھیں اور یقیناً یہ دستک کی آواز تھی — نہیں۔ کوئی تھا، جو دیواروں پررینگ رہا تھا — کیا ویمپائر — اُف، خوفناک آوازوں کا ریلا جسم میں دہشت کا طوفان برپا کرنے کے لئے کافی تھا۔ سہمی ہوئی سی وہ اٹھی۔ کاٹو توبدن میں خون نہیں  — وہ اٹھی، اور تھرتھراتی، کانپتی کھڑکی کی طرف بڑھی۔ لڑکھڑاتے کانپتے ہاتھوں سے کھلی کھڑکی کے پٹ بند کرنے چاہے تو ایک دم سے چونک پڑی — کوئی تھا جو دیواروں پر چھپکلی کی طرح رینگ رہا تھا۔ اُف۔ اُس نے خوفزدہ ہو کر دیکھا — یقینایہ ڈراکیولا تھا — ہونٹ انسانی خون سے تر — دانت، لمبے، بڑے اور سرخ — وہ اپنے ’تابوت‘ سے باہر آیا تھا۔ صبح کی سپیدی تک اپنے ہونے کا جشن منانے یا پھر انسانی خون کا ذائقہ تلاش کرنے۔۔  وہ یکبارگی پھر خوف سے نہاگئی۔کسی اسپائیڈر مین کی طرح ڈراکیولا اُس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ دیوار پر آرام سے چھپکلی کی طرح — پنجوں پر اُس کی گرفت مضبوط تھی۔ وہ اُسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اُس کی گھگھی بندھ گئی۔ وہ چیخنا چاہتی تھی مگر۔۔  رینگتا ہوا، ڈراکیولا، ایکدم، دوسرے ہی لمحے اُس کے کمرے میں تھا — اُس کی آنکھوں میں وحشیانہ چمک تھی۔۔  اور اُس کے نوکیلے دانت اُس کی نازک ملائم گردن کی طرف بڑھ رہے تھے۔۔  اُس کی آنکھوں میں نیم بے ہوشی کی دھند چھا رہی تھی —

٭٭٭
دیدبان شمارہ ششم ٦
سلسلہ وار ناول : نالہ شب گیر 
مصنف : مشرف عالم ذوقی ، انڈیا 
 حصہ دوم ٢
(2)

 

مصنف سے صوفیہ مشتاق احمد کی بات چیت
 

’اُف، ڈراؤنا خواب، لیکن اس صدی میں ڈراکیولا — آپ کتابیں بہت پڑھتی ہیں، ڈراؤنی کتابیں ؟‘

’نہیں پڑھتی۔‘

’پھر یہ خواب‘

’نہیں، یہ خواب نہیں ہے۔ دیکھئے۔۔ ‘

مصنف کے لئے یہ صبر آزما لمحہ تھا۔ یقیناً اُس کی گردن کی ملائم جلد کے پاس کئی داغ تھے — لیکن کیا یہ ڈراکیولا کے نوکیلے دانتوں کے نشان تھے، یا۔۔  مصنف اِن ’اذیت گزار‘ لمحوں کے سفر سے، پھیکی ہنسی ہنستا ہوا اپنے آپ کو باہر نکالنے کا خواہش مند تھا —

’یقیناً یہ داغ۔۔  آپ سمجھ رہے ہیں نا، ایک صبح ہم اٹھتے ہیں۔ اور کیڑے نے۔۔  کیڑا۔۔  آپ سمجھ رہے ہیں نا۔۔ ؟‘

صوفیہ مشتاق احمد کا چہرہ اس وقت لیوناڈوی ونچی کی پینٹنگ مونالزا کی طرح ہو رہا تھا، جس کے تأثر کو آپ لفظوں کا لباس پہنا ہی نہیں سکتے۔ یقیناً۔۔  وہ کیڑا ہی تھا۔ نوکیلے دانتوں والا ایک خوفناک کیڑا۔۔  اور آپ سے زیادہ بہتر کون جانے گا کہ اس صدی میں انسان سے زیادہ خوفناک کیڑا۔۔  دوسرا کون ہوسکتا ہے۔۔ ‘

ہے۔۔ ہے۔۔ ہے۔۔، مصنف پھیکی ہنسی ہنسنے پر مجبور تھا۔۔  ’یہ سب تو دانشوری، دانشمندی کی باتیں ہیں۔ ہے۔۔ ہے۔۔ ‘

مصنف کے الفاظ کھو گئے تھے۔۔  لیکن وہم و گمان کی ایک بے نام سی کہانی یہ بھی تھی کہ مصنف نے وہ داغ دیکھے۔۔  اور یقیناً وہ داغ اُس کی گردن پر موجود تھے۔۔

لیکن اس کہانی کے ساتھ، اس بے معنی گفتگو، ڈراکیولا اور صوفیہ مشتاق احمد کی گردن میں پڑے ڈراکیولا کے نوکیلے دانتوں کے نشان کا کوئی رشتہ نہیں ہے — لیکن اس گفتگو کے بعد ہی اس کہانی کی بنیاد پڑی تھی، اور یقیناً — اب جو کچھ میں سنانے جا رہا ہوں، وہ بیان کی شکل میں ہے اور اس بیان میں، میں شامل ضرور ہوں، لیکن یہ یقین کرنا ضروری ہے کہ اس کہانی میں، اپنی طرف سے میں نے کوئی اضافہ یا الٹ پھیر نہیں کی ہے۔۔  اس سے پہلے کہ الگ الگ بیانات کا سلسلہ شروع ہو، مختصراً اس کہانی کے کرداروں سے آپ کا تعارف کرا دوں۔ دلّی جمنا پار رہائشی علاقے میں ایک چھوٹی سی مڈل کلاس فیملی — بڑی بہن ثریا مشتاق احمد۔ عمر پینتیس سال۔ ثریا کے شوہر اشرف علی — عمر چالیس سال۔ نادر مشتاق احمد، ثریا کا بھائی۔ عمر 30سال۔ اور ہماری اس کہانی کی ہیروئن (نہیں معاف کیجئے گا، بڑھتی عمر کے احساس کے ساتھ ایک ڈری سہمی سی لڑکی ہماری کہانی کی ہیروئن کیسے ہوسکتی ہے):صوفیہ مشتاق احمد، عمر 25سال۔

تو اس کہانی کا آغاز جنوری کی 8تاریخ سے ہوتا ہے۔ سردی اپنے شباب پر تھی۔ سرد ہوائیں چل رہی تھیں۔ دانت ٹھنڈی لہر سے کٹکٹا رہے تھے۔ لیکن جمنا پار، پریہ درشنی وہار، فلیٹ نمبر بی 302 میں ایک ناخوشگوار حادثہ وقوع پذیر ہو چکا تھا۔

کوئی تھا، جو تیزی سے نکلا — پہلے لڑکھڑایا، پھر باہر والے دروازہ کی چٹخنی کھولی اور تیز تیز، سرد رات اور کہاسوں کے درمیان، سیڑھیوں سے اُترتا ہوا، بھوت کی طرح غائب ہو گیا —

’وہ چلا گیا۔۔ ‘ یہ جیجو تھا۔ صوفیہ مشتاق احمد کا جیجو، آنکھوں میں خوف اور الجھن کے آثار — وہ چلا گیا اور ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے۔۔ ‘

نادر مشتاق احمد نے نظر یں اٹھائیں۔ منظر کچھ ایسا تھا جیسے ویتنام اور ناگا ساکی، ایٹم بم کے دھماکے کے بعد ندیوں سے اٹھتے ہوئے آگ کے شعلے آسمان چھو گئے ہوں  — ’کیا ہوا، اُسی سے پوچھتے ہیں۔‘

’لیکن، کیا پوچھیں گے آپ — ثریا جیجو کی طرف مڑی۔ پھر ایک لمحے کو نظر اٹھا کر اُس نے نادر کی طرف دیکھا — جذبات پر قابو رکھو، اُف، دیکھو۔۔  وہ کیا کر رہی ہے۔۔ ‘

’شاید وہ آ رہی ہے۔۔ ‘  جیجو نے ہونٹوں پر انگلی رکھی —

’کوئی اُس سے کچھ بھی نہیں پوچھے گا۔‘ یہ ثریا تھی —

’تم بھی کیسی باتیں کرتی ہو باجی۔ کوئی اُس سے بھلا کیا پوچھ سکتا ہے۔ وہ بھی اس ماحول۔۔  اور ایسے عالم میں۔ لیکن۔۔  کچھ۔۔ ‘

’کچھ نہیں ہو گا۔‘

’ہم نے فیصلہ کرنے میں۔۔ ‘

ثریا مشتاق احمد نے ایک لمبا سانس لیا۔ آواز ڈوبتی چلی گئی — ’کہہ نہیں سکتی۔۔  مگر — اُس نے اپنے شوہر اور نادر مشتاق احمد کی طرف ایک گہری نظر ڈالی — ’’ہم نے آپس میں بات کی تھی۔ اس کے سوا ہمارے پاس دوسرا راستہ ہی کیا تھا۔‘‘

’وہ آ رہی ہے اور اب ہمیں خاموش ہو جانا چاہئے — اور یقیناً ہمارے تأثرات ایسے نہیں ہونے چاہئیں کہ اُسے کسی بات کا شک ہو کہ ہم اُس کے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں — اور یقیناً ہمیں اُس کی نفسیات کو بھی سمجھنا ہو گا۔‘

یہ جیجو تھا —

باہر کہاسا زمین پر گر رہا تھا۔ رات برف سے زیادہ ٹھنڈی ہو گئی تھی — دروازہ چرچرانے کی آواز ہوئی۔ برف پگھلی۔ دھند چھٹی۔ سامنے صوفیہ کھڑی تھی۔ صوفیہ مشتاق احمد۔ ایک لمحے کو وہ ان کے پاس آ کر ٹھہری۔ لیکن رُکی نہیں  — دوسرے ہی لمحے، وہ اپنے کمرے میں واپس لوٹ گئی —

 

پہلا بیان: ثریا مشتاق احمد
 

میں ثریا مشتاق احمد۔ پیدا ہوئی اترپردیش کے بلند شہر میں۔ محلہ شیخاواں۔ مسلمانوں کا محلہ۔ زیادہ تر شیخ برادری کے مسلمان — پاس میں مسجد تھی۔ پاپا مشتاق احمد کی چھوٹی سی دکان تھی۔ اسٹیشن روڈ پر۔ پنج گانہ نمازی — پیشانی پر سجدے کے داغ۔چہرہ ایسا نورانی اور معصوم کہ میں نے زندگی میں آج تک نہیں دیکھا اور ممی تو جیسے گائے تھیں۔ نادر چھوٹا بھائی تھا۔ اُس سے پانچ سال چھوٹا اور صوفیہ اس سے دس سال چھوٹی تھی — بچپن میں چھوٹی چھوٹی آنکھیں مٹکاتی تو اس کی شرارت سے سارا گھر خوشی سے جھوم جایا کرتا۔

کالج میں داخلے سے قبل ہی اشرف زندگی میں آ گئے تھے — کیسے — ؟ یہ لمبی کہانی ہے۔ چھوٹے سے شہر میں ایسی کہانیوں کے پر لگ جاتے ہیں۔ پھر کبوتر کی طرح پرواز کرتی یہ کہانیاں شیخاواں کے ایک گھر سے دوسرے گھر میں گونجنے لگی تھیں —

مما کو ہائپرٹینشن تھا —

پاپا جلد گھر آ جاتے تھے، طبیعت کی گرانی کا بہانہ بنا کر — پڑوس والی مسجد سے نماز کی صدا بلند ہوتے ہی، وہ تیز تیز لپکتے مسجد پہنچ جایا کرتے۔ وہاں سے آتے تو لفظوں کے تیر سے اُداس اور گھائل ہوتے — ممی اور وہ گھنٹوں اشرف کے بارے میں باتیں کرتے رہتے — مثلاً کیوں آتا ہے۔ کیا کام ہے — خاندان تو اچھا ہے نا — یہ لڑکی ناک تو نہیں کٹائے گی۔ صوفیہ تو کافی چھوٹی ہے —

نادر نے صرف ایک بار جلتی آنکھوں سے میری آنکھوں میں دیکھا تھا — ’بجیا، یہ کیا تماشہ ہے۔ چاروں طرف تم دونوں کے ہی ریڈیو بج رہے ہیں۔‘

’تو بجنے دو نا۔۔ ‘

تب گول گول آنکھیں نکال کر صوفیہ نے میری طرف دیکھا تھا۔

’ایک ریڈیو میرے لئے بھی لادو نا۔۔ ‘

’پاگل، ایک ریڈیو نے ہی طوفان مچا دیا ہے۔۔ ‘ نادر ناگواری سے بولا

لیکن میں یہ کہانی کیوں سنا رہی ہوں۔ میری اور اشرف کی کہانی میں اگر کچھ دلچسپ ہے تو صرف یہ کہ ہم نے لومیرج کی تھی۔ پھر اشرف دلّی آ گئے اور میں بھی دلّی آ گئی — اور جیساکہ مہانگروں میں ہوتا ہے ایک دن خبر آئی۔ پاپا نہیں رہے۔ دوسرے سال خبر آئی۔ ممی نہیں رہیں۔ شیخاواں اُجڑ گیا۔ گھر ویران ہو گیا۔ بلند شہر سے رشتہ ٹوٹ گیا — نادر اور صوفیہ دونوں دلّی آ گئے۔ کبھی کبھی احساس ہوتا، اشرف ان دونوں کی موجودگی سے پریشان تو نہیں ہیں۔ لو میرج کا یہ بھی ایک فائدہ تھا کہ اشرف کسی بھی بات پر بولتے یا ٹوکتے نہیں تھے۔ مگر من میں کچھ گانٹھیں تو پڑہی جاتی ہیں — کبھی جب اشرف کو، اُن کی اپنی دنیا میں قید اور اُداس دیکھتی تو دل کی بات ہونٹوں پر آ جاتی۔۔

’وہ۔۔  ایک دن پرواز کر جائیں گے۔۔ ‘

’ہاں۔۔ ‘

’کون جانتا تھا، ممی پاپا اس طرح ہمیں ذمہ داریوں سے باندھ کر۔۔ ‘

اشرف کہیں اور دیکھ رہے ہوتے —

’تم ان دونوں کی موجودگی کو لے کر۔۔  نہیں میرا مطلب ہے۔۔ ‘

اشرف گہرا سانس کھینچ کر کہتے ہیں  — ’بچے ہیں۔۔  لیکن۔۔  پرائیویسی کے یہی دن ہیں۔ یہ دن واپس نہیں آتے۔۔  یہ دن چلے گئے تو۔۔ ‘

نہیں، مجھے احساس تھا، اشرف کی رومانی دنیا میں نئی نئی فنتاسی اور خوبصورت کہانیوں کی ایک بڑی دنیا آباد ہے۔۔  وہ اکثر اس کا ذکر بھی کیا کرتے۔۔  مثلاً ہنسی ہنسی میں۔۔  ’ثریا، یہ لباس کیوں بنایا گیا۔۔  شادی کے بعد گھر میں میاں بیوی کو لباس نہیں پہننا چاہئے۔۔  نیچرل ڈریس۔۔  آخر ہم قدرتی لباس میں کیوں نہیں رہ سکتے۔۔ ؟ بس یہی تو چار دن ہوتے ہیں۔ ایک ساتھ سوئمنگ۔۔  ایک ساتھ۔۔ ‘

اشرف جب دن میں مجھے لے کر کمرہ بند کرنے کی کوشش کرتے تو وحشت سی ہوتی — صوفیہ کیا سوچے گی۔ بڑی ہو رہی ہے۔ پھر جیسے کمرے کے بند سناٹے میں کوئی کیڑا چپکے سے منہ نکالتا — اشرف ایکدم سے بوکھلا کر اُس سے الگ ہو جاتے۔ خود ہی آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیتے۔۔

’جاؤ۔ تمہیں آزاد کرتا ہوں۔‘

٭٭٭



Category : Prose
Author : مشرف عالم ذوقی

DEEDBAN

Deedban Publications | N-103 Jamia Nagar New Delhi | Tel: +(91)-9599396218 | Email: deedban.adab@gmail.com
The copyright to all contents of this site is held by the authors of this site. Any kind of reproduction would be an infringement.