Publish Date : 2017-11-16

انتظار حسین پریوں کے دیس سے

دیدبان شمارہ ششم ٦

مضمون : انتظار حسین ۔۔۔پریوں کے دیس سے
مصنفہ : رابعہ الرَبّاء


آگے سمند ر ہے۔
یہی پچھلے سال کاواقعہ ہے شا ید آج ہی کا دن تھا ۔ یعنی کراچی لٹریچر فیسٹیول کے پہلے دن کی صبح تھی ۔مجھے چھ بجے صبح کے بعد نیند نہیں آتی
اْٹھ کر با ہر نکل گیا ۔ہوٹل سمندر  کے کنا ر ے واقع تھا ۔اور کنارا بھی ا یسا سر سبز اور درختو ں سے گھرا ہوا جس میں بے شمار پرندے صدیوں پر انی بولیاں بول رہے تھے۔کیا دیکھتا ہو ں انتظار حسین ایک جگہ لا ٹھی ٹیکے سمندر کی طر ف منہ کر ے کھڑے ہیں اور درختو ں پہ سایہ کیے پرندوں کو غور سے دیکھ رہے ہیں ۔میں بھی آرام سے پیچھے جا کھڑا ہوا ۔آہٹ پا کر مڑے اور بو لے،نا طق میاں سویرے جاگ لیے۔ دیکھو سمندر کے پرندے کیا بھلے لگ رہے ہیں ۔میں نے کہا انتظار صاحب آگے چلتے ہیں۔ذرا سمند رکے بیچ اس کشتی پر ، وہاں اس سے بھی بھلا منظر ہے۔اور دیکھیے ہوا بھی کیا جانفزا ہے۔اس کے بعد ہم لکڑی کے بنے ہوئے تختوں پر سے گز ر کر جو پا نی کے او پر ذرا آگے تک جانے کے لیے ر کھے تھے۔سمندر کی اور بڑھنے لگے۔ وہ آگے لاٹھی ٹیکے جا رہے تھے اور میں پیچھے پیچھے تھا۔آخر تک پہنچ کر ہم رک گئے۔ بہت با تیں کیں ، یہا ں ہوا مست کر دینے والی تھی۔سب لو گ سوئے ہوئے تھے۔ہم دونوں اور سمند ر اور پرندے اور ہوا اور درخت جاگ رہے تھے۔نظارا خوب پا کر میں نے کہا انتظار صاحب ذرا اس کشتی پر چلیں جو رسوں کے ساتھ بندھی جھول رہی ہے۔ کہنے لگے ، نا بھائی ، یہ لکڑی کی پگڈنڈی تو بہت تنگ اور کمزور لگتی ہے۔کہیں پاؤں پھسل گیا تو یہاں کون سنبھالے گا ۔ میں نے کہا ’انتظار صاحب میں ہو ں نا آپ کو ڈوبنے نہیں دوں گا،کہنے لگے بھائی’ ہم آگے نہیں جائیں گے بھلے آ پ بچا لو مگر اتنے میں دل ڈوب جا ئے گا، ۔ان کی با ت سن کر مجھے ہنسی آگئی۔۔۔قر یب ایک گھنٹہ وہا ں ٹہلتے رہے۔
آج یہی سمند ر کا کنا را ہے۔کر ا چی لٹر یچر فسٹیول کا پہلا دن ہے ،صبح کے چھ بجے ہیں۔سب لو گ سوئے ہوئے ہیں ۔درخت لہلہا رہے ہیں ۔پرندے چہک رہے ہیں۔ہو ا ئیں مست ہیں اور انتظار حسین سمندر سے پار کہیں نکل گئے ہیں ۔میں اکیلا یہا ں پھر ر ہا ہو ں کیو نکہ صبح چھ بجے کے بعد مجھے نیند نہیں آتی۔۔
علی اکبر نا طق کی یہ تحر یر جب میں نے پڑھی تو چہر ے پہ مو جود دوچشمے چھلک پڑے ۔میں نے سوچا تھا کہ میں اب کوئی لفظ اس ازلی حقیقت کے حوالے سے نہیں لکھوں گی مگر مجھ سے نہیں ر ہا گیا کیو نکہ انتظار حسین سے وابستہ ہر ہر فرد اسی کیفیت سے گزرا تھا ۔
’’میں اکیلا یہا ں پھر ر ہا ہو ں،،
مجھے ان سے وہ آخر ی ملا قا ت یاد آ گئی جب میں ان کی آواز سننے کے لیے ان کے پیچھے جا کھڑی ہو ئی تھی۔یہ روشن مسکراتی پر سکون سپہر تھی۔آواری ہوٹل لاہور میں پاک چائنا کانفرنس جاری تھی۔انتظار حسین جو ادیبو ں دوستوں کے جھڑمٹ میں کھڑے تھے اور ایک د ھیمی سی مسکرا ہٹ ان کے لبو ں پہ سجی ہو ئی تھی۔میری نظر ان پہ پڑ ی تو مجھے لگا جیسے ہر گزرتا لمحہ ان کے چہر ے پہ ا یک نئی معصومیت لا رہا ہے۔میر ا د ل چاہا،صرف ان کو دوسروں سے باتیں کرتا سنوں ۔ان کے لہجے کی معصومیت اور ٹھہراؤ مجھے یو نہی ا چھا لگتا تھا۔میں ان کے پیچھے جا کے کھڑی ہو گئی۔
انسان پر عمر کا اثر ضرور ہو تا ہے مگر ایک اندر کی عمرہو تی ہے، انسان پر دنیا کا اثر بھی ہو تا ہے مگر ا یک اندر کی بھی د نیا ہوتی ہے۔جو آنکھو ں میں کشتیو ں کی صو رت نظر آ جاتی ہے۔ میں ا کثر لوگو ں سے ملتے ہو ئے ان کی آنکھوں میں انہی کشتیوں کے سفر کو دیکھا کرتی ہو ں ۔اس روز یہی کشتیاں میں نے ان کی آ نکھوں میں بھی دیکھیں ۔وہ مسکرا رہی تھیں ،جیسے منز ل پہ با وقار  پہنچ گئی ہوں۔ ( میر ے خیا ل میں یہ آنکھیں ،اندر کے حسین سفر کرنیوالوں کی ہوتی ہیں۔اگرچہ انتظار صاحب کے ہاں آنکھوں کا یہ سفر ہمیشہ با وقار و پر سکون ہی نظر آیا )
اک ملال ہے، ان کی ا یک امانت میر ے پاس رہ گئی، میر ے پاس ان کے ا یک دوست کے ساتھ لی گئی ان کی چند تصاویر تھیں ،میں نے ان سے وعد ہ کیا تھا کہ جلد پہنچا دونگی ،مگر وقت کا سفر ،وہ ان چند ما ہ بہت مصروف رہے تو کبھی کو ئی مصروفیت میری دہلیز پہ د ستک دے دیتی۔
چو نکہ و عدہ تھا کہ میں خو د آ ونگی اور ہم ’’ ادب اور انٹر نیٹ اور ادبی فیسبک ،، کے موضو ع پہ جوگفتگو کر رہے تھے جا ر ی رکھیں گے۔
لیکن بس سفر اتنا ہی تھا۔وہ پر یو ں کے دیس کی با تیں کر نے والی ہستی ،خود پریوں کے دیس چلی گئی اور اب وقتی طو ر پر جیسے زمین کی کہانی کے لیے ہما رے لفظ ساتھ نہیں دے رہے۔ہم سب کے ساتھ اس لمحے یہی ہو ا کہ ہما رے لفظ ہما رے جذبا ت کا ساتھ نہیں دے ر ہے تھے۔جیسے جا تے جا تے محبت کے سا رے لفظ وہ اپنے ساتھ پر ستان ہی لے گئے ہو ں۔
ان کی وفات کے وقت شاہد حمید سے صاحب سے با ت ہو ئی تو لگا ان کی آنکھیں بھی ابھی تک اند ر کہیں چشمہ بنا ئے ہوئے ہیں ۔میں نے انہیں ہمیشہ ہنستے مسکر اتے ،کھلکھلاتے ہی دیکھا ہے مگر اس روز وہ بہت اداس تھے۔کہنے لگے’’لاہو ر گیا تھا، انہیں رخصت کر کے آگیا ہوں ۔۔۔بہت دکھی ہوں ، انتظار حسین کے چلے جا نے کے بعد ۔۔۔۔کچھ محبت سی ہو گئی تھی ان سے۔۔۔۔،،
میں نے کبھی شاہد حمید کو لفظوں اور جذبوں کے سمند ر میں متلاطم نہیں دیکھا۔مگر یہ بے بسی مجھے ان کے ہاں اس روز پہلی د فعہ محسو س ہو ئی۔
انتظا ر صا حب chrimatic personality تھے۔ایسے لو گوں سے سب کو پیا ر ہو جا تا ہے ۔کسی حد تک یہ روحانی وصف ہے ۔جو خداداد ہے اس میں انسا ن کی کاوشیں ،اچھائیوں و برائیو ں کا عمل دخل نہیں ہوتا۔محبت کے یہ گلستان ان کی زند گی میں بھی ہمیں دکھائی د طیتے رہے اور وفات کے بعد محبتوں کے شہر میں کو ئی گلد ستہ نہیں بچا جو ان کے قد مو ں میں نچھاوڑ نا کر دیا گیا ہو۔
امجد طفیل کبھی نہیں بھلا پا ئیں گے کہ اس صدی کا قصہ جب تما م ہوا تو آخری کانفرنس ’’حلقہ اربا ب ذوق ،،کی پہلی ’’ایک روزہ کانفرنس،، تھی۔جس کی صدارت انتظار صاحب نے کی۔اور صدارتی خطبہ د یا ۔اس وقت نہیں معلوم تھا کہ چند دن بعد ۔۔۔یوں یہ ان کی زند گی کی آخری کانفرنس تھی۔
وہ سب جو ان کو ہسپتا ل دیکھنے جا ر ہے تھے اور سو چ ر ہے تھے کی زندگی کی ا صل داستا ن تو سب کی سا نجھی ہے ۔سب ایک دو سر ے کو تسلی دے رہے تھے ایک دوسرے کو وقتی صور ت حا ل سے آگا ہ کر ر ہے تھے مگر اندازہ سب کو تھا کہ کیا خبر گو ش گزار ہونے والی ہے ۔
بحر حال ایک صدی کا سفر وادیِ پر ستان میں اپنی کہانیو ں داستانوں سے ملتے ہو ئے کسی نر م ہو ا کے جھو نکے پر چو نک کر دیکھتا ہو گا تو محبت بھر ے کئی چہر ے اسے کسی اور کا ئنا ت سے مسکراتے د کھا ئی دیتے ہونگے۔
مجھے یاد آتا ہے کہ وہ پرستان کی باتیں کرنے والے مجھے میرے نا م سے نہیں بلایا کر تے تھے ۔ اک کا خیال تھا میرا نام ذرا مشکل ہے ۔ وہ مجھے ’’ پری وش ،، کہا کرتے تھے۔ اس سے مجھے اندازہ ہو تا کہ شاید وہ اس دنیا میں بظاہر سفر تو کر تے نظر آتے ہیں مگر ر ہتے کسی اور دنیا میں ہیں ۔ جس دنیا کو وہ اپنے افسانوں اور ناول میں پینٹ کر گئے ۔ 
انتظا ز حسین کے با رے میں کہا جا تا ہے کہ وہ ماضی پرست تھے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ حال ماضی ہی کا شاخسانہ ہے۔ صرف شکل بدل لیتا ہے اور ساتھ سفر کرنے لگتا ہے ۔ وہ جس ماحول میں پرورش پا رہے تھے اس کی اپنی روایات تھیں، یہ راویات ان کے ساتھ جڑی رہیں ۔ کیو نکہ بچپن کا نقش بہت گہرا ہوا کرتا ہے ۔ یو ں بھی اگر کسی تخلیق کار کی اپنی کوئی انفرادیت نا ہو تو ، نا تو اس کا ادب زندہ رہتا ہے ، نا اس کے لکھے کی کو ئی الگ شناخت ہوتی ہے۔
انتظار حسین کے فن کو چار ادوارمیں تقسیم کیا جاتا ہے ، اگرچہ ان کی تحریروں کے اعتبار سے اسے پانچ ادوار میں تقسیم کیا جائے تو بھی بے جا نا ہوگا۔ 
ان کے فن کی اہم ترین خوبی علا مت نگاری ہے ۔ یو ں محسوس ہوتا ہے کہ یہ فن انتظار حسین نے قرآن و اساطیر سے سیکھا ۔ علامت ایک فن ہے اور یہ فن ہے کیا ۔ پہلے یہ سمجھنا ہو گا ۔ اس حوالے سے ڈاکٹر سہیل احمد خان لکھتے ہیں 
’’ یہ لفظsymbol اصل میں نکلا کہاں سے ہے؟ یہ لفظ ایک یو نا نی لفظ سے مستعار لیا گیا ہے۔ اس کا بنیادی مفہوم ، ایک ساتھ رکھی گئی یا ایک ساتھ پھینکی گئی چیزوں کا ہے کیو نکہ علا مت میں ہمیشہ دو چیزوں کا بیان ہو تا ہے
ایک طرف اگر گلاب ہے تو دوسری طرف محبت ہو نی چاہئے۔جس کو گلاب سے تشبیہہ دی جائے یا جس کی علامت 
کے طو ر پر اس کو استعما ل کیا جائے یا جس کے نعم البدل کے طو ر پر اس کو لکھا جائے تو ہر علا مت ایک سطح پر لغوی اور 
دوسری سطح پر اپنی اس سطح سے آ گے ہوتی ہے،،
(راوی۲۰۰۶، جی سی یو نیورسٹی لا ہو ر ۔۔۔۔ ص ، ۴)
اس تعریف کے حوالے سے دیکھا جائے تو انتظار حسین کے ہا ں علامت کی یہ خوبی اپنے عروج پہ نظر آتی ہے ، یہ اپنی سطح سے بہت آگے نظر آتی ہے۔ ان کی علامت میں رنگ تب مزید ابھر آتے ہیں ، جب مذہب و اساطیر سے ان کا سنگم ہو تا ہے۔اور یہ اتنا پْر پیچ راستہ ہو جاتا ہے کہ عام قاری کو اس کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑتے ہیں ۔ ڈاکٹر سہیل احمد انتظار حسین کی علامت نگاری کو کچھ یوں دیکھتے ہیں ۔
’’ انتظار حسین بندروں پر نہیں لکھ رہا ، وہ تو ان انسانوں کی کہانیاں سنا ر ہا ہے جو بندر بن کئے ہیں ۔ اس وقت کرپشن 
وغیرہ ہمارے معاشرے میں نئی نئی وبا کے طور شروع ہو رہی تھی۔تو وہ یہ بتا رہا تھا کہ ہم اشرف المخلوقات کے درجے 
سے آہستہ آہستہ گرتے چلے جا رہے ہیں اور جانوروں میں تبدیل ہو رہے ہیں تو اس وقت یہ ماحول تھا اور اب یہ 
عالم ہے کہ ہندوستان ، پا کستان میں سب سے زیادہ چرچا ہمارے ادیبو ں میں قراۃالعین حیدر ، انتظار حسین اور
اس قسم کے افسانہ نگاروں کا ہے جو علامتی رنگ میں لکھتے ہیں ،، 
( ’’ راوی،، جی سی یونیورسٹی لاہور ۲۰۰۶، ص ۴)
ان کے ہا ں علامت نگاری میں وقت کے ساتھ ساتھ موضوعات و حالات کے تغیر کے باوجود ارتقا ء نظر آتا ہے ۔ یہ ارتقاء ان کے فن کے حسن کو بڑ ھاتا ہے اور معنویت میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ 
ان کے ادب کی ایک منفرد خصوصیت ان کا اساطیری رنگ ہے ۔ یہ رنگ شاید ان کی زندگی کا بھی رنگ رہا ۔ ان کی ما ضی پرستی لامکاں کی حد تک وسیع تھی، یہی سے اس میں اساطیر سما جاتی ہیں ۔ لا محدود ما ضی کے واقعات و حالات اور اس سے پیدا ہو نے والے اسبا ب و کر دار ان کے ساتھ ساتھ ، ان کہانیوں میں بھی جلوہ گر ہو تے رہے۔ وہ اپنے ایک مضمو ن میں لکھتے ہیں ۔ 
’’ ابتدا میں کلام تھا ۔ سننا سنانا تھا ۔ شاعری اور کہانی دونوں کا معاملہ یہی تھا ۔ سنائی جاتی تھی اور سنی جاتی تھی ۔ جب 
میں کہانی کی ابتدا کے بارے میں سوچتا ہوں تو تصور میں لمبی کالی رات منڈلانے لگتی ہے۔ اور ایک دہکتا ہو ا الاؤ ۔ 
الاؤ کے گرد بیٹھے ہو ئے لوگ ، کو ئی کہتا ہے کہ کہانی سناؤ کہ بات چلے رات کٹے۔ کہا نی کار کہا نی شروع کر دیتا ہے 
رات بھیگتی جاتی ہے اور کہا نی جاری رہتی ہے۔ اس میں صبح ہو جاتی ہے۔ کہا نی ختم۔ کہنے والے کا بھلا سننے والے کا 
بھلا ۔ یہ اختتامی فقرہ میری نانی اماں کا ہے جو انگیٹھی کے سامنے بیٹھ کر کہانی سناتی تھیں۔ اور ہمیشہ رات میں ، دن 
میں کہانی کا تقاضہ کیا جاتا تو کہتیں دن میں کہانی نہیں سنایا کرتے مسافر رستہ بھول جاتا ہے ۔ قدیم ز مانے کےالاؤ سے لے کر میری نانی کی انگیٹھی تک کہانی کی تاریخ اسی طرح ہے۔،، 
(دنیا زاد ، کراچی۔۔۔ ص، ۲۲)
لہذا یہ اساطیر ان کی پرورش کا حصہ ہے۔ اور تخلیق کار اپنے یہی حصے اپنے لفظو ں میں پرو کر آ پ کے حوالے کر دیتا ہے ۔ یہی انتظار حسین نے کیا۔ یہ اسا طیر ان کے افسانے کو زیبائش بخشتی ہے ، تو قاری کوایک نئی دنیا کی سیر پہ لے جا تی ہے ۔ مگر اس ساری تکنیک سے ان کا فن متاثر نہیں ہو ا۔ ڈاکٹر ملک حسن اختر لکھتے ہیں ۔
’’ ان کے افسانوں میں داستانی رنگ اور طلسمی فضا پا ئی جاتی ہے ۔ وہ شہزادوں اور شہزادیوں کی کہانیاں سناتے ہیں ۔جن
میں شہزادہ مکھی بن جا تا ہے ، کبھی کوئی انسا ن بندر کی صورت اختیار کر لیتا ہے ۔ مگر داستانی رنگ اختیار کر نے کے باوجود 
اس دور کی زندگی کا مر قع کھینچتے ہیں اور ہمارے آج کے مسائل سامنے لاتے ہیں ۔ ان کے افسانوں میں ہماری گزشتہ صدیوں کی تہذیب ملتی ہے۔ انہو ں نے اپنے استعارے اور تلمیحات،انجیل ، قرآن ، احادیث اور ملفوظات سے حاصل کئے ہیں ۔ ان کے انداز بیان پر بھی ان کا گہرا اثر ہے ۔ وہ کھو ئے ہوؤں کی جستجو کرتے ہیں اور آتش رفتہ کا سراغ لگاتے ہیں ،، 
(تاریخ ادب اردو ۔۔۔۔ ص، ۷۴۷)
اساطیری طرز تحریر کے با وجود ان کا افسانوی فن متا ثر نہیں ہوا۔ افسانہ، افسانہ ہی رہاانہو ں نے اس رنگ کو استعمال کیا تو اپنے فن کو بڑ ھانے کے لئے کیا ، اور فنکاری سے کیا ۔ جو الگ تھلگ نہیں لگتا ۔ بلکہ افسانے میں تحلیل ہو جاتا اور اسی کا حصہ معلوم ہو تا ہے۔ ڈاکٹر شمیم حنفی اس حوالے سے رقم طراز ہیں ۔ 
’’ اس قبیل کی کہانیاں داستان اور حکایات و قصص کے اسی فرق اور روپوشی کے اسی رویے کا اثبات کرتی ہیں ۔ ان میں 
نہ تو وہ طول کلامی ہے جس کے سہارے داستان گو لمبی اندھیری راتوں کو زیر کر تا ہے ، نہ وہ اختصار جو کہانی کے 
دائرے سے نکا ل کر اظہار کی کسی تجرباتی رو کا آئینہ بناتا ہے،، 
( کہا نی کے پانچ رنگ۔۔۔۔ص، ۱۳۴)
تمثیلی رنگ ، اساطیری آمیزش کی وجہ سے ان کے اسلوب نے ایک خاص رنگ اختیار کیا جو دوسروں سے بلا شبہ بہت مختلف ، بہت نرالا ہے ۔ جس طرح انہو ں نے مو ضوعات اور افسانوی فن میں ارتقاء کی منزلیں طے کیں یونہی ان کے اسلوب میں بھی یہ ارتقاء نظر آتا ہے۔انتظا ر حسین کی یہ خوبی ہے کہ اس سب انفرادیت کے با وجو د ان کی زبا ن و بیان نہ تو متا ثر ہو ئی ہے اور نہ ہی اس میں ان کی ایک خاص ذاتی شناخت کھوئی ہے۔ 
ہجرت کی یادیں اور اس سے قبل کا پر امن ماحول ان کے ذہن میں نقش رہا ۔ یہی نقش ان کے ادب پہ چھایا رہا ۔ جس کے با عث اکثر نقادوں کی رائے ہے کہ وہ ماضی پرست تھے، ہجر کے غم سے مخمور رہے، ہجرت کے نقش ان کی ذات و تحریر سے نا مٹ سکے ۔ وہ علامتی و اساطیری و تمثیلی طو ر پہ ہجرت کو کئی زایو ں سے اپنے تما م ادوار میں پیش کرتے رہے۔ 
ڈاکٹر انیس نا گی لکھتے ہیں کہ 
’’ دراصل انتظا ر حسین تقسیم کے بعد مہاجرو ں کی اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو بعمل مجبوری پا کستان چلے
آئے تھے۔ لیکن جن کے روحانی مرکز وہ چھوٹے چھوٹے گاؤ ں تھے جہا ں ان کے مشترکہ خاندان آباد تھے۔ 
پاکستان بننے کے بعد یہ دنیا اجڑ گئی اور انتظار حسین اپنے قافلے کے ساتھ چلے آئے۔ انتظا رحسین کے تمام 
افسانے ، ناول اور مضامین اسی گم گشتہ دنیا کے بارے میں ہیں ۔ انتظا ر حسین پرانی قدروں کے علمبر دار ہیں اور
ہر نئی حقیقت سے گریزاں ہیں۔،،
(پاکستا نی اردو ادب کی تاریخ ۔۔۔۔۔ص۲۰۳)
یہ حقیقت اپنی جگہ درست ہے۔کیو نکہ جس دور میں انتظار حسین نے آنکھ کھو لی ، جو کچھ دیکھا ، وہ ان کے بچپن کا دور تھا ۔ جو ہمیشہ انسانی ذہین پہ نقش رہتاہے ۔ اور اگر انسان حساس ہو تو یہ سب نقش کرب میں بدل جاتے ہیں ۔ انتظار حسین کے ساتھ بھی یہی ہو ا، انہو ں نے چھوٹی 
سی عمر میں ہجرت دیکھی ، ہجرت کے تلخ تجربات و مشاہدات دیکھے، ہجرت زدہ تلخ انسانی صورتیں و روئیے دیکھے، اور اس کو لکھا ۔ کہ شاید کیتھارسس ہو جائے ۔ مگر ساری عمر شایدکیتھارسس مکمل نا ہو سکا ۔ اور یہ ہجرت ایک ایسا موضوع ہے ، آج تک پاکستانی ادب میں شاید اتنے بڑے افسانے کسی اور مو ضوع پہ نہیں لکھے گئے ، جتنے بڑے افسانے ہجرت کے مو ضوع پہ لکھے گئے ہیں۔ 
انسا ن ہمیشہ جب اس قسم کے حالا ت سے دوچار ہو تا ہے تو اس کے اندر کا انسان کھلتا ہے ، انسان کی حقیقت کیا ہے یہ مشکلات میں ہی کھلتی ہے۔ اس کے اندر کی کتنی حیوانیت جاگتی ہے، یہ وقت ہی بتا تا ہے۔ جب ہر طر ف آگ کا کھیل ہو ، انسا ن نے آنکھوں سے خون کا کھیل دیکھا ہو، آبرو ریزی اور انسا نیت کی تذلیل دیکھی ہو تو وہ یقیناََ جو لکھے گا اس میں خود بخود الم و کرب و آشوب آ ہی جائے گا۔ 
ڈاکٹر شمیم حنفی لکھتے ہیں ۔
’’ مجموعی طو ر پر انتظار حسین کے افسانوں کی فضا الم آگیں ہیں۔ اس فضا کے اضطراب میں تموج نہیں تجسس
نہیں ۔ خود رحما نہ تظاہر نہیں ، حیرانی کا احساس بھی دبا دبا سا ہے ۔ گو یا کہ جو کچھ ہو رہا ہے ، وہ ہونا ہی تھا ۔ اداسی کی
ایک غمناک دھند ہے۔ ،، 
( کہا نی کے پانچ رنگ ۔۔۔۔۔ص، ۱۲۷)
یہ اداسی کی دھند ان کی شخصیت پہ ایسی چھائی کہ پھر ان کاقلب و ذہین و قلم کسی دور میں بھی اس سے نہ نکل سکا ۔ کیونکہ گہری چوٹو ں کے نشان ہمیشہ با قی رہ جاتے ہیں۔ 
دکھ کے بھی اپنے رنگ ہو تے ہیں ۔ ہر انسان اس کو محسوس تو کر تاہے لیکن دکھ پہ ہر انسان کا رد عمل مختلف ہو تا جو اس کے ظرف کا غماز ہو تا ہے۔ اور لکھاری کے ہا ں اکثر یہ لکھاری کے ظرف کے ساتھ تحریر ہو تا ہے ۔ انتظار صاحب کے کردار بھی انہی کے ظرف سے مطابقت رکھتے 
ہیں۔ اس حوالے سے ڈاکٹر ملک حسن اختر لکھتے ہیں۔ 
’’ ان کے افسانو ں کا خاتمہ عموماََ المیاتی ہوتا ہے ۔اور ان کے کردار اپنی منزل کھو بیٹھے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان 
کے خیال میں اس زما نے میں لو گو ں کا راستی پر قائم رہنا بے حد مشکل تھا۔ چنانچہ ان کے کردار کبھی خوش و خرم نہیں 
ہو تے۔ وہ روتے رہتے ہیں مگر بلبلاتے نہیں کیونکہ وہ اونچی آواز سے رونا پسند نہیں کرتے۔ ان کے ہا ں ہلکے پھلکے 
درد کی فضا قائم رہتی ہے۔ کیو نکہ ان کے نزدیک ’’ انسانی رشتے ہر آن بدلتے اور بکھرتے رہتے ہیں۔ لو گ مر جاتے ہیں۔ یا روٹھ جاتے ہیں ۔ پھر بھی انہیں یاد کرتا ہوں اور انہیں خوابوں میں دیکھتا ہوں اور افسانے لکھتا ہوں،، 
ان کے ہاں معاشرتی المیہ مو ضوع ہے اور داخلی کیفیت کو بیان کرتے ہیں ۔ ان کے کردار سوچتے بہت ہیں ،
جس کی وجہ سے غمگین ہو جاتے ہیں،، 
(تاریخ ادب اردو۔۔۔۔ص۷۴۷، ۷۴۸)
انتظا ر حسین اپنے افسانوں میں اشعار کا استعمال کرتے ہیں ۔ مصرعوں کا استعما ل کرتے ہیں ۔ اور زیادہ تر اساتذہ کے مصروں کا استعمال کرتے ہیں ۔ شاید اس لئے بھی کہ اساتذہ شعراء کا دور بھی پر آشوب تھا ، اور انتظار صاحب کے من کا دور بھی پر آشوب ہی رہا ۔ ایک جگہ ہجرت کے حوالے سے انتظار حسین لکھتے ہیں ’’ اسلامی تاریخ میں یہ تجربہ با ر بار خود کو دہراتا ہے اور خارجی اور باطنی دکھ درد کے طویل عمل کے ساتھ ایک تخلیقی تجربہ بن جاتا ہے،،
مختصر یہ کہ ہجرت ان کا عنصر لازم و جزو لازم ہے۔ خواہ جسمانی ہو یا ذہنی اور ان دونوں ہجرتو ں سے پیدا ہو نے والے مسائل و مصائب و حالات و واقعات کو انہو ں نے اپنے منفرد انداز میں تحریر کیا ہے۔ ڈاکٹر انور سدید رقم طراز ہیں ۔
’’انتظار حسین حلقہ ارباب ذوق کا سب سے ذہین اور ماہر افسانہ نگار ہے۔ گزشتہ ربع صدی میں اس نے اردو افسانے
میں تجسم ، تجرید اور علامت نگاری کے متعدد تجربے کئے اور یوں وہ اردو افسانے کی نئی جہت کا پیش رو شمار کیا گیا۔ 
کنکری سے شہر افسوس تک انتظار حسین کے فن نے متعددمراحل طے کئے ہیں ۔اور وہ ہر مرحلے پر اپنے فن کا واحد 
نمائیدہ ثابت ہوا ہے ۔انتظار حسین کا افسانہ متجسس فرد کے باطن کا آئینہ ہے۔،،
(اردو ادب کی تحریکیں۔۔۔۔۔ص۵۸۶)
واقعہ نگاری، جزیات نگاری، منظر نگاری مکالمہ نگاری کے عمدہ فن نے ان کے افسانے کو روح بخش دی۔ ایک منظر دیکھئے ۔ اور اس واقعہ میں موجود جہتوں کو سمجھئیے داد و تحسین کے الفاظ نہیں ملتے۔
’’ پہلے آدمی نے اپنے باپ کاذکر کیا تو دوسرے کو بھی اپنا باپ یاد آگیا ۔ میر ا باپ بھی اسی سادگی سے مرا تھا۔
میں نے اس کے پاس جا کر اس کی شفقت پدری کو اکسانے کی کو شش کی اور رقت کے ساتھ کہا اے میرے باپ تیرا بیٹا آج مر گیا ۔ باپ میری مسخ صورت کوتکنے لگا اور پھر بولا کہ اچھا ہو اکہ تو میرے پاس آنے سے 
پہلے مر گیا ۔ یہ سب کچھ کرنے اور دیکھنے کے بعد بھی تو زندہ آتا تو میں تجھے قیامت تک کا بو جھ اٹھانے کی بس دعا دیتا،، 
(شہر افسوس۔۔۔۔ ص۲۱۱)
انتظا ر حسین اور شہر زاد
’’ شہر زا د،، انتظار حسین کا یہ افسانوی مجمو عہ ۲۰۰۲ میں سنگ میل سے شائع ہو ا۔ یہ ان کے تخلیقی ادبی ارتقاء کا ایک اور منظر نامہ ہے۔ جس میں بدلتے ملکی حالات کا منظر نامہ اور انسان کی داخلی صورتحال بھی نظر آ جاتی ہے۔ اس افسانوی مجموعے میں سترہ افسانے شامل ہیں ۔ جن میں تاریخ ، بدلتے حالات ، انسانی کیفیات و نفسیات، اساطیر گویا ان کے فن کی تما م تر خصوصیات موجود ہیں ۔ جو ان کو باقی افسانوی منظر نامے میں سب سے منفرد کر تیں ہیں۔ 
’’دائرہ،، 
دائرہ ، اس مجمو عے کا پہلا افسانہ ہے ۔ جو اپنی تکنیک کے اعتبار سے یاد داشتیں ہیں۔ جہاں انتظار صاحب دائرے کی صورت ماضی کے کھنڈرات میں سفر کرتے نظر آتے ہیں۔ کہا نی میں سراپا نگاری اور مافوق الفطرت یا ماورائے حقیقت واقعات نے داستانوی خوبی پیدا کر دی ہے۔ جو ان کا خاص رنگ ہے ۔مگر اس میں بھی تاریخ کے ہلکے پھلکے رنگ دکھائی دیتے ہیں۔ جو اس کی اہمیت کو بڑھاتے ہیں۔ شاعرانہ نثر سے خوب کا م لیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ وصف ان کے ہا ں کثرت سے دکھائی دیتا ہے۔ جس کے ساتھ ساتھ وہ محاوروں کا بھی بھر پو ر استعما ل کر تے ہیں۔ اگر ایک جملے میں ان کے اس افسانے کو سمیٹوں تو وہ یہ ہو گا’’ یہ کہا نی انتظار حسین کی یاداشتو ں کا ایسا مجمو عہ ہے ، جس میں ان کا ما ضی سانس لیتا محسو س ہو تا ہے اور تاریخ ایسی کہ جس کو دیمک نے نہ چاٹا ہو ۔ بلکہ محفوظ آثار قدیمہ میں بد ل گئی ہو۔ ،،
’’ مورنامہ،، 
یہا ں بھارتی راجھستانی مورو ں کا تذکرہ ملتا ہے۔ ایک مختصر سے راجھستانی سفر نامے کا گمان ہو تاہے۔ جے پو ر ’ پنک سٹی، وہاں کا حسن ، وہاں کے مور ، وہاں کے راج ہنس ، اور مو جو دہ ایٹمی دور کے اثرات کو بہت درد مندی سے پیش کیا گیا ہے۔ 
یہ بہت بڑی علامتی و المیائی کہانی ہے کہ فکر رسا رکھنے والے اور حساس قاری اس کو پڑھ کر مسوس ہوئے بنا نہیں رہ سکتے۔ ایٹمی دھماکے کا پس منظر، موروں کو علامت بناتے ہوئے یہ بتانا کہ وہ دھماکے سے قبل کی چہکار کو بھول کر اب گونگے ہو گئے ہیں ۔اس میں کس قدر گہرائی و گیرائی و معنو یت ہے ۔ کہانی میں سیاسی رنگ بھی در آتا ہے ، اور مستقبل کے اندیشے بھی نظر آتے ہیں ۔ 
عراق و امریکہ کی جنگ کی ہولناکی کو بھی بیان کیا گیا ہے کہ احساس بیدار کیا جائے کہ جنگ سلامتی نہیں ، تباہی ہے۔ اس سے کبھی انسانیت کو فلا ح نہیں ملی، نسلیں شانت نہیں ہو ئیں ۔ اس کے وضاحت کے لئے’ مہا بھارت ،سے واقعات اور ’ہیرو شیما ، کی تبا ہی کا منظر پیش کر نے کا مقصد فقط جنگ کی ہو لنا کیو ں کے بارے میں آگا ہ کر نا ہے۔ ایٹمی تجربات کے باعث پیدا ہو نے والے ایک بہت بڑے اندیشے کا انہو ں نے کما ل خو بی سے بیان کر دیا ہے۔ 
’’ شہر زار کی مو ت،، 
یہ ایک خوبصورت کثیر جہتی افسا نہ کا ہے ۔ داستانو ی رنگ اس کو بو جھل نہیں کر تا ، اس میں روح پھو نکنے کا کا م کر تا ہے۔ بعض اوقات نا مساعدحالات ہی انسا ن کے لئے سود مند ہو تے ہیں ۔ وہ اس کو بہا در اور با عمل بنا دیتے ہیں ۔ یہ فا نی زندگی 
بہت ظالم شے ہے ، جینے کے لئے انسا ن سولی چڑھ کے بھی جی لیتا ہے۔ شہراذاد بھی یو نہی جیتی ہے۔ اس کی مو ت اس کی زندگی بنی رہی۔ 
دوسرے معنی میں تخلیق بعض اوقات فقط وقت و حالات کی وقتی پیدا وار ہو تی ہے۔ اگر حالات ساز گار ہو جائے تو یہ الٹے پیر پلٹ جا تی ہے۔ یہا ں کہانی میں مو جو دہ انسا ن کا عکس دیکھا جا سکتا ہے۔ کہا نی میں دلچسپی بھی باکل ویسے ہی ہے جیسے الف لیلی کا لطف آتا ہے۔ اس کہا نی کا بہترین حصہ اس کا اختتا م ہے ۔ جس میں کئی کہا نیاں سانس لیتی نظر آتی ہیں ۔ زندگی اور موت کی ایک اور ہی تصویر دکھا ئی دیتی ہے 
’’ اے با د شاہ ، اے میرے سرتاج ، شہر زاد غم زدہ آواز میں بو لی ۔ تو نے میری جان تو بخش دی مگر مجھ سے میری کہانیاں چھین لیں مگر میں تو ان کہانیوں میں زند ہ تھی ۔ وہ کہا نیاں ختم ہو ئیں تو سمجھو میری زندگی ختم ہو گئی،، 
شہر زاد کی مو ت اصل میں یہ ہے ، وہ نہیں تھی کہ اس کو قتل کر دیا جا تا ۔ اس افسانے میں اساطیر کے اندر ایک تخلیق کا ر کی زندگی کی حقیقت ہے ۔ 
’’ ریز رو سیٹ،
اس کہا نی میں ایک طر ف تو مو جو دہ حالات کی گھمبھیرتا ہے تو دوسری طر ف یہ افسانہ روحانی و نفسیاتی بھی ہے۔ اس افسانے میں انہو ں نے ثابت کیا ہے کہ خواب ایک علم ہے ۔ اس کو ہم محض ’’ نفسیاتی،، عارضہ سمجھ لیتے ہیں۔تو ایک طرف بظاہر ملک کے مو جو دہ حالات پہ تبصرہ ہے کہ نو جوان دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں، زندگی میں داخل ہونے سے قبل موت کے سفر ہی چلے جا تے ہیں۔ جس کے با عث عمر رسیدہ افراد معاشرہ کی تعداد میں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے ، کہ نو جوان جن کے کاندھوں پہ قوموں کا مستقبل ہوتا ہے ، وہ ناکافی ہوئے تو قوم آگے کیسے بڑھے گی؟ترقی کیسے ہو گی؟ خوف کی فضا میں زندگی سانس کیسے لے گی؟ 
’’ وارد ہو نا شہزادہ تورج کا شہر کا غذ میں اورعاشق ہونا ملکہ قرطاس جادو پر،، 
داستا نو ی رنگ میں لکھی گئی کہا نی سفر سے شروع ہو کر سفر پہ ہی ختم ہو جاتی ہے۔ بظاہر یہ عام سی کہانی لگتی ہے مگر اس میں پرت در پرت گہرائی ہے، پرت در پرت رازِ زیست ہیں ۔ انسانی نفسیات کا عمیق مشاہدہ ہے ، عمل و ردعمل کا دائرہ فطری ہے، انسا ن کو معلو م ہی نہیں ہو تا کہ اس کے اپنے کئے گناہ اور نا انصا فیا ں خوف و ناکامی بن کر اس کا پیچھا کرتے ہیں اور انسان کو مظلوم کی بد دعا اور آہ لگ جا تی ہے ۔
شہزادے نے اسلام کی آڑمیں بہت سو پر ظلم کئے جبکہ اسلام ( یا کو ئی بھی مذہب ہو ) صرف امن ہے۔ تلو ار کی ہر جا و ہر وقت اجازت نہیں دیتا ۔ دین فطرت کسی کے ساتھ ’ زبردستی ، کو نہیں ما نتا ۔ مگر وہ ہر جا زبردستی ، طاقت آزمائی کر تا ہے۔وہ شہزادی مہتاب کو اسلام قبول کرواتا ہے ، اس کے ساتھ وصل کے رنگین لمحے گزارتا ہے ۔ تو شہزادی کو اس سے انس ہو جا تا ہے ، پھر وہ اس کو روتا ہوا چھوڑ کر اپنے اگلے نا م نہا د جہا دی سفر پہ روانا ہو جاتا ہے۔ وہ جہا ں جاتا ہے اسلام قبول کروا کے شہزادیوں سے وصل کر تا ہے ، مگر شہزادی مہتاب سے وصل کے بعد اس کے لیے وصل ایک خواب ہی رہ جاتا ہے ۔ یہ ایک آہ تھی ، جو اس کا پیچھا کر رہی تھی ۔ کہ اسے اگلی بستی میں کا غذ کی شہزادی ملتی ہے۔ آج کی دنیا میں دیکھیں تو فلرٹ کے نا م پہ کتنے دل دکھا کر ، آگے بڑھ جانے والے لو گوں کی ازدواجی زندگی کبھی خوشگوار نہیں گزرتی۔ کئی آہیں ، اور بددعائیں ان کا پیچھا کرتی رہتی ہیں ۔مگر ہم سمجھنے کو تیا ر نہیں۔ 
مکافات عمل اور اللہ کی خامو ش لاٹھی ، انسان اس کو اپنی طاقت کے غرور میں بھلا بیٹھتا ہے ۔ یہا ں انتطار حسین نے اس کو آرٹ بنا دیا ہے۔ آخر میں محسو س ہو تا ہے کہ شہزادہ اندر سے کھو کھلا و خوف زدہ ہو گیا ہے اور مزید سفر خوف اور لا حاصلی کا ہے۔ وہ کا نٹے جو اس نے دوسروں کے لئے بوئے تھے وہی اس کے بدن پہ چبھ رہے ہیں ۔ 
’’ ہم نوالہ،، 
ایک معصوم جذبو ں سے گندھی کہانی ہے۔ انس و محبت عشق میں کب بدل جاتے ہیں معلوم ہی نہیں ہو تا۔ اور یہ جذبہ انسان سے انسان تک بھی محدود نہیں ہے۔ 
جوبھی زندگی میں خوشی و رنگ کا با عث بنتا ہے ، زیست کو زیست کر نا آسان کر دیتا ہے ، انسان اس کے عشق میں گرفتار ہو جاتا ہے اور اس کے بچھڑنے سے کھو کھلا و ادھو را ہو جا تا ہے ۔ اس کو بھو ل جا نے کے رستے تلاشتا ہے مگر نا کا م رہتا ہے۔ ہمیں کسی کی مو جودگی کا احساس اس کے جا نے کے بعد ہو تا ہے۔ یہا ں انتظا ر صاحب نے ایک اور خوبصورت نقطہ واضح کیا ہے کہ جا نوروں کے بھی احساسات و جذبات ہو تے ہیں ، جن کا وہ اظہار بھی کر تے ہیں ۔ پا لتو جا نور اور پرندے تو کبھی کبھا ر انسانو ں سے بھی زائد شدت سے اظہا ر کرتے ہیں ، مثلاََ طوطے کو ایک دن بے توجہی کا ایسا احساس ہو ا کہ اس نے دن بھر کچھ نہیں کھایا ۔ انتظار حسین کے جا نو روں اور پر ند وں کے کردار انسانوں سے زیادہ متحرک دکھائی دیتے ہیں ۔ جو انسان کے بھی تغیر کا باعث بنتے ہیں ۔ 
’’ ما نو س اجنبی،،
یہ افسانہ پچھلے افسانے کا ہی شاخسانہ معلوم ہو تا ہے۔ گرچہ اس کی نو عیت قدرے مختلف ہے ۔ انتظار حسین نے یہ باور کروانے کی کا میاب سعی کی ہے کہ انسان کے اضطراب کی وجہ فطرت سے دوری ہے۔ پرندوں کی چہچہاہٹ جو سکو ن دیتی ہے، وہ مو سیقی میں نہیں ، انسان اپنی فطرت نہیں سمجھ پا رہا ، جس کو وہ ترقی کہہ رہا ہے ، وہ ترقی نہیں ، اضطراب ہے ، بے سکونی ہے، مشکلات و پریشانیو ں کا سبب ہے،۔ یہ ترقی دھیرے دھیرے اللہ کی مخلو ق زمین پہ معدوم کر رہی ہے۔ گو یا انسان خود اپنی فنا کی طر ف ترقی کے نا م پہ تیزی سے سفر کر رہا ہے۔وہ خود فطرت سے ہٹتا جا رہا ہے ، خود اپنا مستقبل خراب کر رہا ہے،خود آلودگی بڑھا رہا ہے، خود درخت کا ٹ کر ، ماحول کو خود اپنے ہا تھو ں سے خراب کر رہا ہے۔ آہ ۔۔یہاں بین السطو ر فکر و غم کی اک دنیا آباد نظر آتی ہے۔ 
افسانے میں منظر نگاری بہت پْر لطف ہے۔ 
’’ اللہ میاں کی شہزادی ،،
یہ افسانہ ماضی اور حال میں بیک وقت سفر کر تا ہے۔ پنن اس کہانی میں انتظار حسین کا اپنا ہی کردار محسوس ہو تا ہے۔ جو کم عمری کے ما ضی میں اپنا آپ تلا ش کر کے خوش ہو رہے ہیں ۔ یہ سب یاد کر کے ان کے اندر مسرت کی لہریں دوڑ جا تی ہیں کہ ماضی کتنا خوبصورت تھا ۔ جب سرحدیں نہیں تھیں، تو یہ مو جودہ مسائل بھی نہیں تھے۔ سرحدیں کھنچ جا نے کے بعد حالات و واقعات بدلتے ہیں تو انسا نی سوچ بھی بدل جاتی ہے۔ حال کے مسائل اور مصا ئب و وحشتیں مل کر خوبصورت ماضی کو بھی دھندلا کر دیتے ہیں کہ وہ پو ری توجہ سے ما ضی میں یادوں کے ذریعے بھی سفر نہیں کر پا تے۔ 
’’ جبالا کا پو ت،، 
یہ افسانہ انسان پر طنز ہے ۔ اس کے اشرف المخلوقات ہو نے پہ طعنہ ہے کہ یہ تعلیم اس کو سدھارنے کی بجا ئے اس میں بگاڑ پیدا کر رہی ہے۔ اس تعلیم کا کیا فائد ہ؟ انسا نو ں سے اچھے تو جانو رہی ہیں ، جو کم از کم دوسروں کے لئے نقصان کا با عث تو نہیں بن رہے۔ انسان جس کو علم و دانش سمجھ رہا ہے ، وہ علم ہے ہی نہیں۔
’’ کلیلہ نے منہ سے کیا کہا؟،، 
اس میں انتظار حسین نے مو جو دہ سیا سی نظام اور سیا سی کردارو ں کا نقشہ بہت ہی جا نبداری اور مہا رت سے کھینچا ہے ۔ یہ با ور کر وانے میں کا میا ب نظر آتے ہیں کہ کو ئی بھی جاندار کہیں بھی پہنچ جا ئے ، کچھ بھی بن جائے ، اس کی خصلت نہیں بدلتی ۔ اگر چوہا ہے تو چو ہا ہی رہے گا ۔ گیدڑ ہے تو گیدڑ ہی رہے گا ۔ انسان بھی خمیر ہی سے جڑا رہتا ہے۔ اس کا خمیر بد لے نہیں بدلتا ، اس پر وہ ملمع کا ری تو کر لیتا ہے ، مگر وقت آنے پر اس کا رنگ اتر جا تا ہے۔لہذا انسا ن کو اپنی خصلت نہیں بدلنی چاہئے ، وہ خمیر سے بیڑ لے گا تو نقصان اس کا اپنا ہی ہو گا ۔ 
یہ کثیر جہتی افسانہ ہے جو قومی معاملات سے شروع ہو کر بین الاقوامی سطح تک دیکھا جا سکتا ہے بلکہ اس کا کا ئنا تی سطح پر بھی مطالعہ کیا جا سکتا ہے بس ذرا بصارت سے بصیرت کا سفر درکا ر ہے۔ 
’’ دمنہ کیو ں ہنسا ، کلیلہ کیو ں رویا ،، 
یہا ں با ت جا نورو ں پرندو ں کی ہے ، مگر مخا طب انسا ن ہے ۔ علا متی افسا نہ ہے۔ عصری صورتحال کے پس منظر میں ہے ۔ بد لتے ہو ئے معاشرتی و سیا سی حالا ت کی علا متی عکا سی ہے۔ ان شر پسند و ں کی نشا ہدہی ہے جو امن و سکو ن کو خراب کر تے ہیں اور پھر اس کو مسلسل خواب رکھنے میں بھر پو ر کر دار ادا کر تے ہیں ۔ ملک کی سیاسی جما عتو ں نے سیاست کو جو تما شابنا رکھا ہے اس پہ بات ہو ئی ہے اور اس تما شے کی وجہ کو ئی با ہر کا تیسرا فریق آکر اپنی جگہ بناتا ہے تو بھی ہم با ہر والو ں کو الزام دیتے ہیں اپنے گریبانو ں میں نہیں جھانکتے ۔ حالات یہ ہیں کہ دعوے وفا کے سب کر تے ہیں ، مگر مو قع ملنے پہ ، کو ئی بھی مو قع ہا تھ سے نہیں جانے دیتا ۔ اس صورتحا ل میں دوسروں کو ملک کے داخلی معا ملات میں دخل اندازی کی اجازت اور مو قع دے کر خود اپنے پیرو ں پہ کلہا ڑی مارنے کے مترادف ہے ۔ خود ملک کا امن برباد کر نے والی بات ہے ۔انتظار صاحب نے بہت سادگی و پْر اثر انداز میں اتنی بڑی با ت بیا ن کر دی ہے یہی ان کا فن ہے۔
’’ کلیلہ دمنہ ہٹ لسٹ پر،، 
یہ افسانہ پچھلے ہی افسانے کا شاخسانہ ہے ۔ جس میں انتظار حسین ملکی حالات پہ مسوس ہیں۔ افسانہ بظاہر جا نو رو ں پرندوں کے منظر میں سیا سی فرشتو ں کی طر ف اشارہ ہے۔ جہا ں منافقت عام ہے، سیاست دان کہتے کچھ ہیں اور کر تے کچھ ہیں۔ تعلیم و روشن خیا لی کے نا م پہ ڈگری تو قبو ل کی جا تی ہے۔مگر روشن خیال ذہین قبو ل نہیں کیا جا تا، کیو نکہ یہ قدامت پسندوں کی ،جا گیر وں، ان کی حکو متو ں و حکمرا نی کے لئے خطر ہ ہے۔ وہ غریب کوان پڑھ رکھ کر ہی اپنے مقا صد پو رے کر تے رہے ہیں ، ان کو ان کے قد مو ں پہ کھڑا ہی نہیں ہو نے دیتے ۔ پھر بھی اگر کو ئی روشن خیال و ذہین ، علم سے لبریز فرد آگے بڑھتا دکھا ئی دے تو اس کو کسی نا کسی چکر میں پھنسا کر ختم کروا دیتے ہیں ۔رستے سے ہی ہٹا دیتے ہیں۔ کیو نکہ یہ شعور کی پہلی سیڑھی ان کے لئے خطرہ ہے۔ اور وہ کو ئی خطر ہ مو ل لینا نہیں چاہتے ، جو ہے ، جیسے ہے کہ بنیاد پہ خا لی خْو لی نعرو ں سے اپنا کا م چلا نا چاہتے ہیں۔ 
’’ کلیہ چپ ہو گیا ،، 
یہ افسا نہ بھی پچھلے تین افسانو ں ہی کی ایک کڑی ہے ۔ مگر یہا ں ملکی حالات کے باعث ما یو سی کہ ایک لہر نظر آتی ہے۔ تبدیلی کی امید دم توڑتی دکھا ئی دیتی ہے۔ خود غرضی، بے اعتما دی ، منافقت، بد امنی ، بے حیائی، انسانی بے تو قیری ، بے قدری ، اور اس طرح کے رویو ں سے بڑھتی ہو ئی ما یو سی ، با شعور افراد کو یہ سو چنے پہ مجبو ر کر دیتی ہے کہ خامو شی بہتر ہے۔ بہتری کی بات کرنا ،بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہے۔ 
’’ چاہیا نے کیا کھایا کیا پایا ،، 
اس کہا نی میں علم کی اہمیت اور اس کی اصلیت کو بیا ن کیا گیا ہے ۔ علم ڈگری کا نا م نہیں یہ رویے کا نا م ہے۔ معلو مات اور علم میں بھی واضح فرق ہے ۔ اس وقت ہم جس ڈگر پہ ہیں یہ معلومات تو ہو سکتی ہیں علم نہیں ۔ انتظار حسین نے علم کو صوفیو ں۔ ولیو ں کے درجا ت کے ساتھ بیان کیا ہے ۔ ان کا خیا ل ہے کہ علم تو عاجزی پیدا کر تا ہے، انکساری سکھاتا ہے ، احترام آدمیت کے کا درس دیتا ہے۔ جو علم غرور پیدا کر دے ، وہ علم نہیں ۔ کہ پھلو ں والی ڈالی تو ہمیشہ جھکی ہو تی ہے۔ 
’’ مہا جن کے بندروں کا قصہ،، 
پو ری دنیا کے بدلتے حالات سے جو ایک گلو بل ویلج بن رہا ہے ، یہا ں انتطار صاحب اس کا ذکر کرتے ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ اس ترقی سے انسا ن اپنی شنا خت کھو رہا ہے۔ نئی نسل کی نئی روش سے وہ فکر مند نظر آتے ہیں۔ 
’’ میرے اور میری کہا نی کے بیچ ،،
بڑے تخلیق کا ر کی بصیرت بھی وسیع ہو تی ہے اس کا دردبھی کئی گنا ہو تا ہے ۔ یہا ں بھی ایک ایسا ہی مصنف سکتے کے عالم میں ہے۔ پاکستا ن و ہندوستا ن کے ایٹمی پاور بننے پہ تشویش کا اظہا ر، صنعتی ترقی کے نا م پہ زوال کی کہا نی ، روس کے ٹوٹنے کا تذکرہ ، جیسے قیا مت ان کی آنکھو ں کے سامنے اپنا درد بھرا رقص کر رہی ہو ۔ اور اس درد سے اس کی تخلیق ان سے دور چلی گئی ہو ۔ لکھتے ہیں 
’’ مجھے کہا نی لکھنے کے چھو ٹے سے مقصد سے آگے کو ئی مقصد ہی نظر نہیں آتا اور اب میری کہا نی بھی ایک بحران 
سے دوچار ہے۔ جب قلم اٹھاتا ہو ں تووہ چا غی کا پہا ڑ میری آنکھو ں کے سامنے آن کھڑا ہو تا ہے ۔ مگر مجھ پر تو اس کا
اثر وہی کوہ ندا کی پکا ر والا ہو تاہے تو میری صورت یہ ہے کہ ایٹم بم کے سحر میں نہیں ہو ں ۔ اس پہاڑ کی اذیت بھری ہیبت 
میں سانس لے رہا ہو ں ۔ اس اذیت سے لبریز ہیبت سے نکلو ں تو کہا نی لکھو ں ۔ میرے اور میری کہا نی کے بیچ یہ درد
رسیدہ پہا ڑ آن کھڑا ہو ا ہے،، 
’’ شہر زاد کے نام ،، 
کہا نی کی بات ہو ا ور شہر زاد کی با ت نا ہو ممکن نہیں ۔ اور انتظا ر حسین کا ذکر ہو اور شہرذار کا نا ہو یہ بھی ممکن نہیں ۔ اس مضمو ن نما کہا نی میں انتظار حسین شہر ذا د کو اپنے انداز مخصوص میں خراج تحسین پیش کر رہے ہیں ۔ کہ اس نے ایک ہزار راتیں خوف کے عالم میں کہا نی کہتے گزار دیں ۔ اس سے بڑا کہا نی کا ر کو ئی نہیں ہو سکتا ۔ مو ت کے سائے میں کہا نی کہنا کما ل فن ہے جو فقط الف لیلی کی شہرذاد کے ہا ں ہی ملتا ہے۔ 
انتظار صاحب سے ان حالت کے با عث کہا نی لکھی ہی نہیں جا رہی۔ یہ وہ حالات ہیں ، جن کا ذکر انہو ں نے اپنی اس کتا ب میں موجو د اکثر افسانو ں میں کیا ہے ۔قلم کا ر کا قلم رک جا نا ایک اذیت ہے ۔ اور اس اذیت کوقلم کا ر ہی سمجھ سکتا ہے ، یہا ں اس کرب زدہ قلم کا ر کا درد مو جو د ہے۔ جو اس درد میں شہر ذاد کو یاد کر تا ہے۔ 

یہ انتظا ر حسین کی ایک کتا ب ہی نہیں ایک دور ہے ، ایک تاریخ ہے ۔ جو تاریخ مصلیحت کے قلم سے رقم نہیں ہو ئی۔ 
مجھے پھر انتظا ر صاحب سے وہ آخری ملاقات یاد آگئی ۔ جب اس صدی کا ’’شہر ذاد ،، اپنے چاہنے والو ں کے جھرمٹ میں تھا ۔ اور چند ما ہ بعد کی وہ خبر کہ وہ اپنے داستاں سرائے میں لوٹ گیا
تب نم آنکھیں بس اتنا لکھ پا ئیں
تو ۔۔۔ بس ۔۔۔ یہ آخری ملا قات تھی۔۔۔
سفر میں ہیں ہم بھی ۔۔۔ آپ چلئیے۔۔۔
ہم بھی اپنا وقت پو راکر کے آ رہے ہیں 
مجھے ’شہزاد احمد، بھی یا د آگئے
کہتے تھے۔۔۔ تم نہیں آ سکو گی اور میں چلا جاؤں گا
اور 
انتظار صاحب۔۔۔
میں اب بھی نہیں آ سکی ، اور آ پ بھی چلے گئے۔

َ



Category : Criticism
Author : رابعہ الرباء

DEEDBAN

Deedban Publications | N-103 Jamia Nagar New Delhi | Tel: +(91)-9599396218 | Email: deedban.adab@gmail.com
The copyright to all contents of this site is held by the authors of this site. Any kind of reproduction would be an infringement.