Publish Date : 2017-11-16

متن کا جمالیاتی تناظر

دیدبان شمارہ ششم -٦
تنقید 
 
متن کا جمالیاتی تناظر
علی رفاد فتیحی
شعبہ لسانیات،علی گڑھ مسلم بونیورسٹی علیگڑھ

ایک طویل عرصہ سے جمالیاتی اقدار کو ادبی تجزیے کی بنیاد سمجھا جاتا رہا ہے مشرق و مغرب میں ایسے کئی نقاد ہوئے ہیں جنھوں نے ادب کو محض جمالیاتی بیان کا ذریعہ خیال کیا ہے۔ بعد ازاں دوسرے مفکرین ہیگل (HEGEL) کانٹ ( Kant)کروچے ( Croche ) اور سوزن لنگر ( Susan Langer ) نے بھی ادب کا ان ہی بنیادوں پر تجزیہ کیاہے اور اس کا محرک بتایا ہے۔ جمالیاتی قدر سے مراد کسی شے کے محاسن کا اندازہ ہے جو جمالیاتی حسن اور جمالیاتی ذوق کا نتیجہ ہوتا ہے جمالیاتی قدر موضوعی ہوتی ہے۔ موضوعی جمالیاتی حسن شخصی ہوتی ہے۔ کیونکہ اس میں ایک شخص کی جمالیاتی خوبیاں دوسرے شخص کی جمالیاتی خوبیوں سے مختلف ہو سکتی ہیں۔ کسی معروضی حسن کی جمالیاتی قدروں کا تعین کرتے وقت اصولاً اس کی افادی قدروں سے صرف نظر کرنا چاہئے ایسا کر نا یقینا دشوار ہے ۔ کیونکہ کسی حسین چیز کی جمالیاتی اور افادی قدریں اس طرح مخلوط و ممزوج ہوتی ہیں کہ تجزیہ کے وقت دونوں کا الگ الگ تجزیہ کرنا مشکل ہوتاہے۔ جمالیاتی قدریں حسن کے اعتبار سے مابعد الطبعی اور معر ض حسن کے لحاظ سے طبعی ہوتی ہیں۔ جمالیاتی قدروں کا شعور انسانی زندگی میں بےحد اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس کی مدد سے ہی انسان حسن عمل سیکھتا ہے۔ زندگی کی طرح حسن بھی حرکی اور ارتقائی ہے ۔ انسان کی خوب سے خوب تر کی جستجو حسن کو حرکی اور ارتقائی بناتی ہے اگر حسن ارتقائی نہیں ہوتا تو خوب سے خوب ترکی جستجو نہ ہوتی حسن کی نظر افروزی جاذبیت اور دلکشی کا راز اس کی حرکت و ارتقا میں مضمر ہے حسن اور زندگی در اصل ایک ہی ہبں۔ ہم کسی حسین چیز سے جمالیاتی حظ اسی وقت اٹھا پاتے ہیں جب ہم اس حسن کو ارادہ ذوق کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ اس جمالیاتی مشاہدے میں حسن نہیں ملتا اور اگر ملتا بھی ہے تو اتنا نہیں جتنا کہ ملنا چاہیے کسی ادبی فن پارے سے محظوظ ہونے کے لیے جمالیاتی ذوق اتنا ہی اہم ہے جتنا آنکھوں کے لیے روشنی ۔ حسن ذوق اور حسن ارادہ کے بغیر کسی فنی تخلیق سے محظوظ ہونا ممکن نہیں۔ جمالیاتی مشاہدے کی ایک قسم حسی مشاہدہ ہے۔ انسان کی حسّی قوتیں پانچ ہوتی ہیں ۔لہٰذا حسی مشاہدے بھی پانچ طرح کے ہوتے ہیں لیکن ذائقہ ، شامّہ اور لامسہ جیسی حسی قوتیں جمالیاتی مشاہدے میں زیادہ اہم رول انجام نہیں دےتیں اس لیے انھیں موضوع بحث نہیں بنا یا جاتا ۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سامعہ اور باصرہ حسّی قوتیں جمالیاتی مشاہدے میں زیادہ اہم اور موثر رول انجام دیتی ہیں سمعی مشاہدے کے تعلق ذوق سماعت اور حسن آواز سے ہوتا ہے حسن آواز میں جذبات میں تحریک پیداکرنے کی بڑی قوت ہوتی ہے۔ اس سے سامع کے دل میں جمالیاتی جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ جمالیاتی حظ سے مراد جمالیاتی کیفیت کا امتزاج ہے۔ جمالیاتی حظ انسان کو جمالیاتی مشاہدے سے ملتا ہے اور اس کی بنیاد جمالیاتی کیفیت پر ہوتی ہے۔ ان جمالیاتی کیفیت کی کئی قسمیں ہو سکتی ہیں جن میں دو قسمیں اہم ہیں ۔ ایک  کی بنیاد نشاط و مسرت پر رکھی جاتی ہے جبکہ دوسرے کی بنیاد درد ورنج ہے جوالمیہ کے مشاہدے سے حاصل ہوتا ہے ۔ ادبی تخلیقات میں یوں تو کئی جمالیاتی کیفیت نظر آتی ہیں لیکن خاص طور پر اول الذکر دو جمالی کیفیات نمایاں نظر آتی ہیں۔ اگر ایک جانب لذت ، طرب، نشاط، مسرت، سرور، کیف،وجد ، حال، مستی کی تصویر نظر آتی ہے تو دوسری جانب، درد،غم ، رنج و الم کی تصویر ابھاری جاتی ہے۔ جمالیاتی کیفیت کا یہی فرق طربیہ اور المیہ ادب کی بنیاد بنتا ہے۔ مثال کے طور پر مندرجہ ذیل اشعار کو دیکھیں
  قید حیات و بندِ غم اصل میں دونوں ایک ہیں
 موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
 ٭
 کوئی ویرانی سی ویرانی ہے 
 دشت کو دیکھ کر گھر یا د آیا
                                           ٭
 موت کا ایک دن معین ہے
 نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
 ٭
 غالب کے ان اشعار میں درد و غم کی وہ تصویر نظر آتی ہے جو المیے کے مشاہدے کی دین ہے۔ جبکہ غالب کے ہی بعض دوسرے اشعار میں نشاط و مسرت کی تصویر نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔
 نہ لٹتا دن کو تو کب رات کویوں بے خبرسوتا 
 رہا کھٹکا نہ چوری کا دعا دیتا ہوں رہزن کو
                                     ٭
 ہوا جب غم سے یوں بے حس تو غم کیا سرکے کٹنے کا
 نہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانو پہ دھرا ہوتا
                                                        ٭
یہ کلیہ محض شعر وسخن تک محدود نہیں ۔ فکشن کے مختلف اصناف مثلاً ناول اور افسانے وغیرہ کوبھی ان اقدارپر پر کھا جا سکتا ہے ۔ ادب کے بیشتر قاریئن خیال کرتے ہیں کہ جمالیاتی اقدار افسانے یا ناول یا نثری ادب میں نہیں ملتیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان اصناف کی بھی وہی بنیاد ہے جو شعرو سخن کی ۔ جس طرح ایک شاعر مناظرقدرت سے متاثر ہوتا ہے اسی طرح یہ مناظر ایک افسانہ نگار یا ناول نگار کے شعور میں بھی تخلیقی دنیا آباد کرتے ہیں وہ الفاظ کے ذریعہ اپنے جذبات واحسات کے بحرے بے کنار کا اظہار کرتاہے۔ قرة العین حیدر، راجندرسنگھ بیدی ، کرشن چند ، قاضی عبدالستار، سید محمد اشرف، اور طارق چھتاری کی تحریروں میں بہت سی ایسی مثالیں مل جاتی ہیں جہاں جمالیاتی اقدار کی بھرپور کار فرمائیاں نظر آتی ہیں۔
 ان مثالوں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ادب و فن کے نقدو نظر کا معیار بھی حسن ہے۔ اس لحاظ سے ادبی یا فنی شاہکار وہ ہے جو حسن میں درجّہ کمال تک پہونچا ہو۔ لیکن اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ حسن دراصل ہے کیا؟ اس سلسلے میں ہیگل اظہار خیال کرتا ہے کہ حسن کا مطلب ہم آہنگی ، توازن اعتدال اور نظم و ترتیب ہے۔ ہیگل حسن کے لیے لامتناہیت اور آزادی کو بھی ضروری قرار دیتا ہے۔ جس حد تک شے میں لامتناہیت اور آزادی کا اظہار ہوتا ہے وہ اس حد تک حسین ہے ۔ ہےگل فطرت سے اوپر اٹھنے کی بات کرتا ہے اور کہتا ہے کہ انسان کو خود حسن کی تخلیق کرنی چاہئے۔ انسان حسن کی تخلیق آرٹ یافن میں کرتا ہے اور وہ آرٹ کو ہی حسین مانتا ہے۔
 اسلوبیاتی تنقید ہیگل کے اس نظریے کو نظر انداز نہیں کرتی ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ بعض جگہ اسلوبیاتی تنقید ہیگل کے نقطہ نظر کے بہت قریب ہے جو ہیگل حسن کو مکمل نظام وساخت اور ترتیب و آہنگی قرار دیتا ہے اس لیے حسین وہی ہے جو بہت زیادہ خوش ترتیبی و خوش نظمی رکھتا ہو۔ اسلوبیاتی تنقید بھی ادبی تخلیق میں خوش ترتیبی و خوش نظمی کو ادب کا معیارمانتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ادب یا ادبی تخلیق کی زبان صرف حوالہ جاتی (Referential) نہیں ہوتی بلکہ تخلیق کی فضا کوابھارنے کے لیے ایک متاثر کن جمالیاتی رول ادا کرتی ہے۔ اس طرح ادبی زبان تخلیق کی دنیا اور حقیقی دنیا کے درمیان ایک کڑی بن جاتی ہے ۔ اسلوبیاتی تنقید میں جمالیاتی اصولوں کی اہمیت کو با آسانی سمجھنے کے لیے اس تصویر کی مدد لی جاسکتی ہے۔
                       فن اور ادب                                                   زبان

  
                         جمالیات                    اسلوبیاتی تنقید          لسانیات 

اس تصویر سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسلوبیاتی تنقید اگر ایک جانب فن اور ادب کی جمالیاتی قدروں سے بحث کرتی ہے تو دوسری جانب ادب یا ادبی زبان کے لسانیاتی پہلووں پر بھی نظر رکھتی ہے۔ جمالیاتی اصولوں کے مطابق فن یا ادب تجربے کا مادی اظہار ہے۔ فن تعمیر میں سنگ و خشت کے ذریعہ تجربے کا اظہارہوتا ہے۔ مصوری میں رنگ و روغن کے ذریعہ موسیقی میں آواز اور ادب میں الفاظ کے ذریعہ تجربے کا اظہار ممکن ہے ۔ لہٰذا ادب کے مطالعہ میں اگر ایک جانب جمالیاتی قدروں کی بحث ضروری ہے تو دوسری جانب نظریاتی اصولوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ تجربے کا اظہار لسانی ڈھانچے میں ہی ڈھل پاتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلوبیاتی تنقید نے جمالیاتی قدروں اور لسانی اصولوں کی آمیزش کو ہی اپنا انداز فکر بنایا ہے ہم دیکھ چکے ہیں کہ ادبی زبان انتقال خیال یا فکری ترسیل 
 
 ( Transference of thoughts)

کا نام ہے جس کی ایک طرف ادیب ہوتا ہے تو دوسری طرف سامع یا قاری ۔ادیب اپنے خیالات کو زبان کے ذریعہ قاری یا سامع تک پہنچانا چاہتا ہے اس طرح ادبی زبان انتقال خیال کا ذریعہ بن جاتی ہے ۔ لیکن یہ زبان عام زبان کے مقابلہ میں مختلف اور تہہ دار ہوتی ہے کیونکہ اس کے ذریعہ ہی ادیب اپنی ذات، قاری، تخلیقی دنیا اور حقیقی دنیا کے درمیان ایک رشتہ قائم کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔
حقیقی دنیا

تخلیق

ادیب ........                قاری
زبان .......              تجربہ
 
اس تصویرکے ذریعہ یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ادبی زبان ،ادیب ،تجربہ، اور قاری یا سامع کے درمیان ایک کڑی بن جاتی ہے ۔ حقیقی دنیا اور تخلیقی دنیا کے درمیان ادیب اور قاری کا آپسی رشتہ بحث کا موضوع رہا ہے۔ اس رشتے میں تخلیقی زبان کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔ تجربہ ، ادیب اور قاری کے اس آپسی رشتے کوذہن میں رکھ کر ہی ٹی۔ایس ایلیٹ نے شاعری کی تین آوازوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ایلیٹ کہتا ہے کہ شاعری کی پہلی آواز وہ ہے جس میں شاعر خود سے بات کرتا ہے۔ دوسری آواز اس شاعر کی ہے جو سامعین یا قاری سے مخاطب ہوتا ہے خواہ قارئین تعداد میں زیادہ ہوں یا کم ۔ تیسری آواز اس شاعر کی ہے جو اپنی تخلیق میں ڈرامائی کردار تخلیق کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسے میں جب وہ باتیں کرتا ہے تو یہ باتیں وہ نہیں ہوتیں جو وہ خود سے مخاطب ہوتے وقت کرتا ہے ۔ بلکہ صرف وہ کہتا ہے جو ایک خیالی کردار دوسرے خیالی کردار سے مخاطب ہوتے ہوئے کہہ سکتا ہے ۔ پہلی آواز اور دوسری آواز کا فرق یعنی اس شاعر کے درمیان جو خود سے باتیں کرتا ہے اور وہ شاعر جو سامعین سے مخاطب ہوتا ہے ہمیں شعر ی ابلاغ کے مسئلے کی طرف لے جاتا ہے ۔ ایسے شاعروں کے درمیان جو دوسروں سے مخاطب ہوتا ہے خواہ اپنی آواز میں یا پھر اختیار کی ہوئی آواز میں اور ان شاعروں کے درمیان جو ایسی گفتگو ایجاد کرتے ہیں جس میں خیالی کردار ایک دوسرے سے مخاطب ہوتے ہیں جو فرق ہے وہ ہمیں ڈرامائی ،نیم ڈرامائی اور غیر ڈرامائی شاعری کے فرق کی طرف لے جاتا ہے لیکن اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا شاعری کی ان تین آوازوں کو ادب کی دوسری اصناف مثلاً ناول افسانہ میں بھی تلاش کیا جا سکتا ہے۔ ایک دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا ایک ہی صنف میں یہ تینوں آوازیں نہیں ملتیں؟ خود ایلیٹ کے ذہن میں بھی یہ سوال ابھرتے ہیں اوراسی لیے وہ کہتا ہے مجھے شبہ ہے کہ کسی نظم میں ایک ہی آواز سنائی دیتی ہے اور دوسری آوازیں نہیں سنائی دیتیں۔ میرے خیال میں ہر نظم میں خواہ وہ ذاتی تاثر کی نظم ہو یا ایپک  ( Epic) اور ڈرامہ ہو ایک سے زیادہ آوازیں سنائی دیتی ہیں۔اگر شاعر نے کبھی خود سے خطاب نہیں کیا تو ایسے میں شاندار خطابت پیدا ہو جائے تو ہوجائے شاعری پیدا نہ ہو سکے گی۔ عظیم شاعری سے لطف اندوز ہونے میں ایک حصّہ تو اس لطف کا ہے جو ہم ان لفظوں کوچلتے چلاتے سنتے ہوئے حاصل کرتے ہیں جو ہم سے خطاب کرکے نہیں لکھے گئے ہیں لیکن اگر نظم صرف شاعر کی ذات سے مخصوص ہو کر رہ جائے تو یہ نظم ایک اجنبی اور ذاتی زبان کی حامل ہو گی اور ایک نظم جو شاعر نے صرف اپنے لیے لکھی ہو سرے سے نظم نہیں ہوتی۔
                                                                          (ٹی ایس ایلیٹ کے مضامین ۔ جمیل جالبی)
 ایلیٹ کے اس بیان اور ادیب موضوع اور قاری کے آپسی رشتے کو مد نظر رکھ کر اگر ہم تخلیق کی زبان کا تجزیہ کریں تو ہم یہ محسوس کریں گے کہ ادب کی زبان کبھی Connotative ہوتی ہے تو کبھیExpressiveہوتی تو کبھی حوالہ جاتی (Referential) یا جمالیاتی (Aesthetic) ۔ادبی زبان عام طور سے سپاٹ اور حوالہ جاتی نہیں ہوتی کیونکہ ادبی موضوعات جن جمالیاتی قدروں کا تقاضہ کرتے ہیں وہ (Referential)   زبان کا کردار نہیں ادا کرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلوبیاتی تنقید ادب کا مطالعہ کرتے وقت نہ صرف زبان پر توجہ دیتی ہے بلکہ زبان میں پوشیدہ جمالیاتی قدروں کو بھی نظر انداز نہیں کرتی ۔اگرموضوع ٹھوس حقائق پر مبنی ہے اور کسی جمالیاتی خصوصیات کا تقاضہ نہیں کرتا تو مضمون نگار کا اسلو ب بیا ن حوالہ جاتی ہوگا جہاں 2x2 ہمیشہ چار ہوتے ہیں 

حواشی :

رولاںبارت                    The Death of the Author
  (لندن: فونٹا نا پیپر بیکس، ۱۹۷۷ء)۔                                    
2. 

فرڈیننڈڈی سیسور           کورس ان جنرل لنگوسٹکس 
لندن: فونٹانا، ۱۹۷۴        
3.

جانمکارووسکی       Linguistics and Literary Style
نیویارک: ہالٹ، رائن  1980  
4.

مرزاخلیل احمد بیگ            مسعود حسین خاں اور اسلوبیات   
                                       علی گڑھ: شعبۂ لسانیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، ۲۰۰۵ء
5.

مرزاخلیل احمد بیگ              زبان، اسلوب اور اسلوبیات
                                         دہلی : ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، ۲۰۱۱ء     
6.

ای۔ ایم۔ ٹامسن     Russian Formalism and Anglo-American New Criticism
                 E. M. Thompson  1971
7.

ڈاکٹرجمیل جالبی            ارسطو سے ایلیٹ تک   نیشنل فاؤنڈیشن  ١٩٧٥
8.

ڈاکٹرجمیل جالبی            ٹی ایس ایلیٹ کے مضامین ۔  نیشنل فاؤنڈیشن  ١٩٧٥



Category : Criticism
Author : علی رفاد فتیحی

DEEDBAN

Deedban Publications | N-103 Jamia Nagar New Delhi | Tel: +(91)-9599396218 | Email: deedban.adab@gmail.com
The copyright to all contents of this site is held by the authors of this site. Any kind of reproduction would be an infringement.